پی ٹی آئی نے بھی ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ میں بھاری قیمت ادا کی: سہیل آفریدی

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں خیبرپختونخوا حکومت سے سوال کیا تھا کہ واضح کرے کہ وہ ’دہشت گردی‘ کے خلاف کہاں کھڑے ہیں؟

 وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی 13 اکتوبر 2025 کو صوبائی اسمبلی اجلاس سے خطاب کر رہے ہیں (اے پی پی)

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے بدھ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ کہنا درست نہیں کہ ان کی جماعت کو عسکریت پسندوں نے نشانہ نہیں بنایا بلکہ ان کے بقول حقیقتاً پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو بھی اس جنگ میں بھاری قیمت ادا کرنا پڑی ہے۔

سہیل آفریدی نے ایک تحریری بیان میں یہ وضاحت پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل احمد شریف کی منگل کو ہونے والی پریس کانفرنس کے جواب میں دی۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں خیبرپختونخوا حکومت سے سوال کیا تھا کہ واضح کرے کہ وہ ’دہشت گردی‘ کے خلاف کہاں کھڑے ہیں؟ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ ’ہر سیاسی جماعت پر ٹی ٹی پی نے حملہ کیا ہے تو سوال یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی پر ٹی ٹی پی نے کبھی حملہ کیوں نہیں کیا؟‘

سہیل آفریدی نے کہا کہ تحریک انصاف کے عہدیداران، منتخب نمائندگان اور وزرا دہشت گردی کا نشانہ بنے،کسی کو گولیوں سے شہید کیا گیا اور کسی نے دھماکوں میں جامِ شہادت نوش کیا۔‘

پاکستانی فوج کے ترجمان نے کہا تھا کہ ملک میں اس وقت بڑھتی ہوئی عسکریت پسندی سے نمٹنے کے لیے روزانہ کی بنیاد پر انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی جا رہی ہیں اور 2025 میں مجموعی طور پر 75,175 آپریشنز کیے گئے جن میں ان کے بقول 2597 ’دہشت گرد‘ مارے گئے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ ’یہ بات واضح رہنا چاہیے کہ کسی بھی ممکنہ ملٹری آپریشن کی مخالفت صرف پاکستان تحریک انصاف تک محدود نہیں، بلکہ خیبر پختونخوا کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں اور ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اس مؤقف پر متفق ہیں کہ فوجی آپریشن کسی بھی مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہوتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’مسئلہ صرف یہ نہیں کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف سنجیدہ نہیں، مسئلہ یہ بھی ہے کہ فیصلے زمینی حقائق، منتخب نمائندوں، مقامی آبادی اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر کیے جا رہے ہیں۔‘

انہوں نے شکایت کی کہ ’زمینی حقیقت یہ ہے کہ آج بھی خیبر پختونخوا کے متعدد اضلاع میں عوام عدمِ تحفظ، معاشی جمود، نقل مکانی کے خدشات اور ریاستی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا شکار ہیں۔ کاروبار، تعلیم اور معمولاتِ زندگی بار بار متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ مقامی آبادی کو فیصلہ سازی میں شامل نہیں کیا جاتا۔`

وزیراعلٰی خیبر پختونخوا نے کہا کہ صوبے میں اب تک 22 بڑے فوجی کارروائیاں اور تقریباً 14,000 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کیے جا چکے ہیں، ’اس کے باوجود دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں ہو سکا۔ اس صورتِ حال سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کہیں نہ کہیں پالیسی سازی اور عمل درآمد میں سنجیدہ خامیاں موجود ہیں۔‘

آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل احمد شریف نے منگل کو کہا تھا کہ ’خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے میں فوجی آپریشنز کی مخالفت کی۔ فوجی آپریشن نہ کرنا خوارج کے پاؤں میں بیٹھنے کے مترادف ہے۔‘

وزیر اعلی نے بیان میں کہا کہ ’وہ صوبہ جس نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تقریباً 80 ہزار قیمتی جانوں کی قربانی دی، اس کے عوام اور ان کے جمہوری مینڈیٹ کو دہشت گردی سے جوڑنا نہایت افسوسناک اور تکلیف دہ عمل ہے۔ ’یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ بارہا خبردار کرنے کے باوجود خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کو دوبارہ داخل ہونے دیا گیا اور خود ساختہ بیانیوں کے ذریعے اس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہوا۔‘

ان کا اصرار تھا کہ دہشت گردی اور بدامنی کے مسئلے کا دیرپا حل نکالنا ہے تو یکطرفہ فیصلوں کی بجائے خیبرپختونخوا اسمبلی میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں اور ہر مکتبۂ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد پر مشتمل قومی جرگے کے متفقہ اعلامیے پر عمل ہونے دیا جائے- ’یہ بھی لازمی ہے کہ مستقبل میں فیصلے تمام سٹیک ہولڈرز اور عوام کے منتخب نمائندوں کی بنائی گئی پالیسز کے تحت کیے جائیں۔‘

الفاظ کی تازہ جنگ سے ماہرین کہتے ہیں کہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان میں عسکریت پسندی سے کیسے نمٹنا ہے اس پر اختلافات بدستور موجود ہیں جس سے ٹی ٹی پی جیسی تنظیموں کو فائد ہوسکتا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان