طلبہ پر اے آئی کے استعمال کا غلط الزام انہیں کیسے متاثر کرتا ہے؟

امریکہ میں اساتذہ کی تقریباً آدھی تعداد طلبہ کی جانب سے اے آئی کے استعمال کا پتہ لگانے میں مصروف رہتی ہے۔

 17 دسمبر کی اس تصویر میں ایک ٹیچر ایل سلواڈور میں کنڈرگارٹن کے طلبہ کو پڑھا رہی ہیں (اے ایف پی)

جیسے جیسے مصنوعی ذہانت ہماری روزمرہ زندگی کا زیادہ حصہ بنتی جا رہی ہے، سکولوں کی اس حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے کہ طلبہ اپنے کام میں آسان راستہ اختیار کرتے ہوئے اے آئی سے مدد لے رہے ہیں۔

سینٹر فار ڈیموکریسی اینڈ ٹیکنالوجی کے ایک حالیہ سروے کے مطابق، امریکہ میں چھٹی سے 12 ویں جماعت تک پڑھانے والے تقریباً نصف اساتذہ، یعنی 43 فیصد نے تعلیمی سال 25-2024 کے دوران اے آئی کی نشاندہی کرنے والے ٹولز استعمال کیے۔

تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ اے آئی کے ذریعے نقل کے الزامات کے نتیجے میں نمبرز میں کٹوتی، آزمائشی مدت یا حتیٰ کہ اخراج تک کی نوبت آ سکتی ہے، لیکن اس کے طلبہ پر خود بھی سنگین اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ خصوصاً اس صورت میں جب یہ الزامات غلط ثابت ہو جائیں۔

نیویارک میں قائم تعلیمی کنسلٹنٹ لوسی واگنرووا، جنہیں اس شعبے میں 10 برس سے زیادہ کا تجربہ حاصل ہے، نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ ’طلبہ کی جانب سے مجھے بتائے جانے والے سب سے عام احساسات میں یہ شامل ہے کہ صرف اس پورے عمل سے گزرنے ہی میں انہیں بے چینی اور ذہنی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حتی کہ اس وقت بھی جب وہ یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ میں بے قصور ہوں۔

’ان میں سے بہت سے لوگ مجھے بتاتے ہیں کہ انہیں نیند ٹھیک سے نہیں آ رہی، بہت سوں کو کونسلنگ لینا پڑتی ہے اور امریکہ کی کالجوں اور جامعات میں بدانتظامی سے متعلق کارروائی کا عمل اکثر مہینے نہیں تو کم از کم کئی ہفتے تو ضرور لیتا ہے۔ اس طرح یہ ایک طویل مدتی صورت حال بن جاتی ہے جو ان کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات ڈالتی ہے۔‘

یو ایس اے ٹوڈے کے مطابق یونیورسٹی آف نارتھ جارجیا کی طالبہ مارلی سٹیونز اکتوبر 2023 میں ایک مقالے میں اے آئی کے استعمال کے الزام میں نشان زد کیے جانے کے بعد اپنی سکالرشپ سے محروم ہو گئیں۔ انہوں نے گرامرلی استعمال کی تھی، جو ایک آن لائن املا جانچنے والا ٹول ہے اور جس کی سفارش خود یونیورسٹی نے کی تھی، لیکن اس کے باوجود انہیں صفر نمبر دیے گئے۔

مارلی سٹیونز کو تعلیمی پروبیشن پر رکھ دیا گیا اور انہیں چھ ماہ طویل بدانتظامی اور اپیل کے عمل سے گزرنا پڑا۔ ان کے احتجاج کے باوجود، ان کے مقالے پر دیے گئے نمبر ان کے جی پی اے پر اثر انداز ہوئے، جس کے نتیجے میں سکالرشپ ختم ہو گئی۔ اس وقت انہوں نے ادارے کو بتایا کہ ’میں نہ سو پا رہی تھی اور نہ کسی چیز پر توجہ مرکوز کر پا رہی تھی۔ میں خود کو بالکل بے بس محسوس کر رہی تھی۔‘

واگنرووا کا کہنا ہے کہ اس طرح کے تجربات بالآخر تعلیمی عمل پر اعتماد کو مجروح کرتے ہیں اور آخرکار طلبہ اور اساتذہ کے درمیان بنیادی تعلق کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

انہوں نے انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’میرے نزدیک یہ ایک بہت بڑا مسئلہ ہے۔ ادارے اس ساری نگرانی پر سرمایہ کاری کر رہے ہیں، لیکن اساتذہ کی اس صلاحیت میں سرمایہ کاری نہیں کر رہے کہ وہ طلبہ کے ساتھ گہرے تعلقات قائم کریں اور اعتماد اور باہمی اعتماد کی فضا پیدا کریں۔‘

واشنگٹن ڈی سی کے علاقے سے تعلق رکھنے والی 17 سالہ ہائی سکول کی طالبہ ایلسا اوسٹووٹز کا کہنا ہے کہ صرف اسی تعلیمی سال کے دوران دو مختلف کلاسوں میں تین الگ الگ اسائنمنٹس کے معاملے میں ان پر اے آئی کے استعمال کا جھوٹا الزام لگایا گیا۔

ایلسا اوسٹووٹز نے این پی آر کو بتایا: ’یہ ذہنی طور پر انتہائی تھکا دینے والا ہے، کیوں کہ مجھے معلوم ہے کہ یہ میرا اپنا کام ہے۔ مجھے پتہ ہے کہ یہ میرا ہی ذہن ہے جو الفاظ اور تصورات کو کاغذ پر منتقل کر رہا ہے تاکہ دوسرے لوگ انہیں سمجھ سکیں۔‘

تحقیقی مطالعات سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس طرح کے شناختی نظام بہترین صورت میں بھی محدود صلاحیت رکھتے ہیں اور بدترین صورت میں مکمل طور پر ناقابل اعتماد ثابت ہوتے ہیں۔

یورپی نیٹ ورک فار اکیڈمک انٹیگریٹی سے وابستہ محققین کی ایک تحقیق میں کہا گیا کہ ’اے آئی سے تیار کردہ متن کی نشاندہی کرنے والے ٹولز ناکام ہو جاتے ہیں، یہ نہ درست ہیں اور نہ ہی قابل اعتماد۔‘ تحقیق میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ جن تمام ٹولز کا جائزہ لیا گیا، ان کی کارکردگی 80 فیصد سے کم رہی۔

’عمومی طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ یہ نظام انسان کی لکھی ہوئی تحریروں کو اے آئی سے تیار کردہ قرار دے دیتے ہیں، یعنی غلط طور پر مثبت نتیجہ دیتے ہیں اور اکثر اے آئی سے تیار شدہ دستاویزات کو انسانی تحریر سمجھ لیتے ہیں، یعنی غلط طور پر منفی نتیجہ سامنے آتا ہے۔‘

تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ حتی کہ جدید ترین اے آئی سے تیار کردہ متن کی شناخت کرنے والے ٹولز میں بھی ’سنگین حدود‘ موجود ہیں، اور یہ تعلیمی بدانتظامی کے ثبوت کے طور پر استعمال کے لیے موزوں نہیں ہیں، نیز ان نظاموں کو چکمہ دینا بھی ’انتہائی آسان‘ ہے۔

مصنفین نے لکھا: ’اسی لیے ہمارا نتیجہ یہ ہے کہ جن نظاموں کا ہم نے جائزہ لیا، انہیں تعلیمی ماحول میں استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔‘

اس کے باوجود سکول اب بھی اے آئی ٹیکنالوجی کو اپنانے کے خواہاں ہیں، اگرچہ عموماً اس کے استعمال کے لیے سخت رہنما اصول مقرر کیے جا رہے ہیں۔

لاس اینجلس یونیفائیڈ سکول ڈسٹرکٹ کی جانب سے جاری کیے گئے ایک بلیٹن میں کہا گیا کہ ضلع اے آئی ٹیکنالوجیز کو ’اخلاقی، شفاف اور ذمہ دارانہ انداز میں‘ استعمال کرنے کا پابند ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ طلبہ اور ملازمین کی نجی زندگی کے تحفظ کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ ان ٹیکنالوجیز کا استعمال اخلاقی اور منصفانہ اصولوں سے ہم آہنگ ہو۔

ستمبر میں نیو یارک سٹی پبلک سکولز کی چانسلر میلیسا اویلس راموس نے کلاس روم میں مصنوعی ذہانت کے ٹولز کے ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنانے کے لیے چار نکاتی فریم ورک کا اعلان کیا۔

اس فریم ورک میں طلبہ کو اے آئی سے چلنے والی زندگیوں اور کیریئرز کے لیے تیار کرنا، طلبہ اور عملے کو اے آئی کا ذمہ دارانہ استعمال سکھانا، اے آئی کے استعمال کے دوران تعصب میں کمی لانا اور ثقافتی حساسیت کو یقینی بنانا اور آپریشنل اور تدریسی موثریت کو بہتر بنانے کے لیے اے آئی سے فائدہ اٹھانا شامل تھا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں ایک طرف طلبہ کو بغیر سوال کیے اے آئی پر بھروسہ کرنے کے خطرات سے خبردار کیا جاتا ہے، وہیں بہت سے اساتذہ خود شناختی نظام کے فیصلے کو حرف آخر سمجھ لیتے ہیں۔ واگنرووا کا کہنا ہے کہ اگر ادارے اس طرح کے نظام استعمال کرتے رہیں گے تو اے آئی کے بارے میں زیادہ آگاہی اور فہم کی اشد ضرورت ہو گی۔

انہوں نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا: ’میرا خیال ہے بہت سے لوگ سمجھتے ہوں گے کہ اس کا حل زیادہ درست نگرانی ہے، لیکن میرے نزدیک یہ اس کے بالکل برعکس ہے۔‘

وہ کہتی ہیں: ’میرا خیال ہے کہ تعلیمی شعبے میں اے آئی کی نشاندہی کے لیے ایک کردار ضرور ہے، لیکن وہ کردار موجودہ وقت کے مقابلے میں کہیں، کہیں کم ہونا چاہیے۔

’بالآخر میرا ماننا ہے کہ اداروں اور حکومتوں کو اس بات میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے کہ اساتذہ کو مناسب معاوضہ دیا جائے، تاکہ ان کے پاس ایسی جانچ پڑتال کی گنجائش ہو، جو طلبہ کی حقیقی پیش رفت کا بامعنی انداز میں جائزہ لے سکیں۔‘

این اے آئی کے مطالعے کے مصنفین بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔

مصنفین نے لکھا: ’ہمارے نتائج اس بات کی بھرپور نشاندہی کرتے ہیں کہ اے آئی سے تیار کردہ متن کی شناخت کے لیے کوئی ’آسان حل‘ موجود نہیں اور شاید کبھی ہو بھی نہ۔

’اسی لیے شناختی حکمت عملیوں پر توجہ دینے کے بجائے اساتذہ کو حفاظتی اقدامات پر توجہ جاری رکھنی چاہیے اور تعلیمی جانچ کے طریقوں پر ازسرنو غور کرتے رہنا چاہیے۔ تحریری جانچ کا مرکز طلبہ کی مہارتوں کی نشوونما کے عمل پر ہونا چاہیے، نہ کہ صرف حتمی نتیجے پر۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی