پاکستان سٹاک ایکسچینج مندی کا رجحان برقرار، 100 انڈیکس میں 5478 پوائنٹس کی کمی

23 جنوری  کو سٹاک مارکیٹ کا 100 انڈیکس 189166 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جس میں گذشتہ ایک مہینے میں 21475 پوائنٹس کی کمی آئی۔

’پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بروکرز کراچی میں گیارہ جون 2025 کو ٹریڈنگ سیشن کے دوران کام کرتے ہوئے (رضوان تبسم / اے ایف پی)‘

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز پیر کو مندی کا رجحان برقرار رہا اور کاروبار کے اختتام تک 100 انڈیکس میں 5478 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ 

پاکستان سٹاک ایکسچینج میں گذشتہ کئی دنوں سے مندی کا رجحان رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ لسٹڈ کمپنیوں کی اعلان کیا ہے کہ مالیاتی نتائج میں توقع سے کم گروتھ اور منافع متوقع ہے۔

عارف حبیب لمیٹڈ کی ہیڈ آف ریسرچ ثنا توفیق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 5478 پوائنٹس کی گراوٹ آئی ہے۔ یہ تاریخ کی چوتھی اور رواں سال کی تیسری سب سے بڑی مندی ہے۔

’بڑی گراوٹ کی کئی وجوہات پیں۔ ایک بڑے وجہ جیو پولیٹیکل صورتحال ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور معاملات ابھی تک مثبت حل کی طرف جاتے دکھائی نہیں دے رہے۔ ایران پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے۔ اگر ایران پر حملہ ہوا تو اس کے اثرات پاکستان پر زیادہ گہرے پڑیں گے جس کی وجہ سر مارکیٹ نے ری ایکشن دکھایا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیرف کے خلاف امریکی سپریم کورٹ کےفیصلے اور ٹرمپ کا دوبارہ ٹیرف کے اعلان نے سرمایہ کاروں کو محتاط رویہ اختیار کرنے کی طرف مائل کیا ہے۔ ٹیرف میں پاکستان کی خطے میں برتری تھی اور اسی بنیاد پر پالیسیز بن رہی تھیں۔ ٹیرف کے حوالے سے غیر یقینی نے مارکیٹ پر منفی اثر ڈالا ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بڑی کمپنیوں کے نتائج آئے ہیں جو کہ توقعات سے کم ہیں۔ خصوصی طور پر فرٹیلائزر سیکٹر کی پرفارمنس اچھی نہیں آئی ہے۔ فرٹیلائزرز کا سٹاک ایکسچینج میں بڑا شئیر ہے۔ اسی وجہ سے آج مارکیٹ میں شئیرز کی فروخت غالب رہی ہے۔

ان کے مطابق ایک غیر ملکی بڑی کمپنی کی پاکستان سٹاک ایکسچینج میں اچھی ہولڈنگ تھی۔ اس کمپنی نے بھی اپنے تمام شئیرز فروخت کیے ہیں۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انھوں نے بتایا کہ ’عالمی سیاست کےساتھ مقامی سیاست کا بھی سٹاک ایکسچینج پر اثر پڑتا ہے۔ پاکستان میں سیاسی حالات ایک مرتبہ پھر کروٹ لیتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اگر سرکار کی تبدیلی کا ماحول بنتا دکھائی دے تومارکیٹ فورا اس کا اثر لیتی ہے۔ اس کےعلاوہ مارکیٹ میں سٹاک ایکسچینج کےعلاوہ زیادہ پرکشش سرمایہ کاری کے آپشن موجود ہیں۔ غیر یقینی صورتحال میں سرمایہ کار سونے اور آئل میں سرمایہ کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ اس وقت سرمایہ سٹاک ایکسچینج کی بجائے دھاتوں اور تیل میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سونے اورتیل کی قیمتوں میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو رہا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان سٹاک ایکسچینج تقریبا 1لاکھ 89 ہزار تک بڑھ گئی تھی۔ اس میں کچھ درستگی آنا تھی لیکن اس وقت تقریبا دس فیصد سے زیادہ مارکیٹ گر چکی ہے۔ کچھ مارکیٹ میں درستگی، کمپنیوں کی کمزور کارکردگی، ایران امریکہ کشیدگی، ٹیرف اور ملکی سیاسی صورتحال نے مل کر پاکستان سٹاک ایکسچینج میں منفی رجحان بڑھایا ہے۔

رواں سال 23 جنوری  کو سٹاک مارکیٹ کا 100 انڈیکس 189166 پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند پہنچ گیا ہے لیکن گذشتہ ایک مہینے میں اس میں مجموعی طور پر 21475 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ہونے والے کاروبار میں بتدریج بہتری کو حکومت ملک میں معاشی استحکام کی جانب اہم قدم قرار دیتی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ مکمل اقتصادی بحالی  کے لیے دیرینہ اصلاحات، ڈھانچہ جاتی  تبدیلیوں اور میرٹ پر مبنی نظام کو ترجیح دینے کے لیے پرعزم ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان