صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ایک اعلیٰ سرکاری عہدے دار نے اتوار کو بتایا کہ فوجی اہلکاروں کو لے جانے والی ٹرین کے قریب دھماکے میں کم از کم 30 اموات ہوئی ہیں جبکہ 50 سے زائد زخمی ہو گئے۔
عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر نامہ نگار رمنا سعید کو مزید بتایا کہ جان سے جانے والوں میں سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔
دھماکہ کوئٹہ کے علاقے چمن پھاٹک کے قریب اس وقت ہوا جب ٹرین سگنل عبور کر رہی تھی۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکہ خیز مواد سے بھری ایک گاڑی ٹرین کی ایک بوگی سے ٹکرائی، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکہ ہوا۔
ایک اور سینیئر عہدے دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ ٹرین میں سوار کئی فوجی اپنے اہل خانہ کے ہمراہ کوئٹہ سے پشاور جا رہے تھے۔
حملے کے بعد جائے وقوعہ کی ویڈیوز اور تصاویر میں ٹرین کی ایک بوگی کو بری طرح تباہ اور پٹری سے اترا دیکھا جا سکتا ہے جبکہ امدادی کارکن اور شہری ملبے کے درمیان پھنسے افراد کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
ایک اور اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ متعدد فوجی اہلکار عید کی چھٹیوں کے سلسلے میں اپنے گھروں کو جا رہے تھے۔
انڈپینڈنٹ اردو کے نامہ نگار محمد عیسیٰ کے مطابق جائے وقوعہ پر موجود ایس پی سٹی قادر کنبرانی نے بتایا کہ زخمیوں کی تعداد، جو ابتدائی طور پر سات بتائی گئی تھی، بڑھ کر 52 تک پہنچ گئی۔
واقعے کے فوراً بعد ایمبولنسز اور سکیورٹی فورسز کی بھاری تعداد جائے وقوعہ کی طرف روانہ کر دی گئیں۔
علیحدگی پسند کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) نے ایک بیان میں حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
واقعے کے بعد کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس ایک روز کے لیے معطل کر دی گئی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اپنے بیان میں حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ’ایسے حملے قومی عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔‘
انہوں نے کہا ’انڈیا اور افغانستان میں موجود پاکستان دشمن عناصر دہشت گردی کی سرپرستی کر رہے ہیں۔‘
حنیف عباسی نے کہا ’کوئٹہ کینٹ سے آنے والی شٹل ٹرین چمن پھاٹک کے قریب دھماکے کی زد میں آئی جس کے نتیجے میں انجن سمیت تین کوچز پٹڑی سے اتر گئیں جبکہ دو کوچز الٹ گئیں۔‘
ان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے کر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے حملے کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے ایکس پر ایک بیان میں مزید کہا ’دہشت گردی کی ایسی بزدلانہ کارروائیاں پاکستانی عوام کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتیں۔
’ہم دہشت گردی کو اس کی تمام تر اقسام اور مظاہر سمیت جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے اپنے پختہ ارادے پر قائم ہیں۔‘
I strongly condemn the heinous bomb explosion near Chaman Phatak, Quetta, which has resulted in the tragic loss of innocent lives and left many others injured.Such cowardly acts of terrorism cannot weaken the resolve of the people of Pakistan. We remain steadfast in our…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) May 24, 2026
صوبائی حکومت نے ایک بیان میں واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
معاون وزیر اعلیٰ بلوچستان شاہد رند کے مطابق وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی صورتحال کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔
بیان کے مطابق شہر کے ہسپتالوں میں طبی ایمرجنسی نافذ کر کے تمام ڈاکٹروں، پیرامیڈیکل سٹاف اور طبی عملے کو ڈیوٹیوں پر طلب کر لیا گیا۔
ایران کی مذمت
پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے ایکس پر اپنے بیان میں حملے کی مذمت کی ہے۔
On behalf of the Government of the Islamic Republic of Iran and myself, categorically and with the strongest words, i condemn the cowardly and heinous suicide terrorist act on the Quetta railway, which lead to the deaths of more than 20 innocent civilians.
— Reza Amiri Moghadam (@IranAmbPak) May 24, 2026
Terrorism is a… pic.twitter.com/6eFQYL8xSP
انہوں نے لکھا ’میں حکومت اسلامی جمہوریہ ایران اور اپنی جانب سے کوئٹہ ریلوے سٹیشن پر ہونے والی بزدلانہ اور گھناؤنی خودکش دہشت گردانہ کارروائی کی غیر مبہم اور سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہوں، جس کے نتیجے میں 20 سے زائد معصوم شہری لقمۂ اجل بن گئے۔‘
انہوں نے مزید لکھا ’دہشت گردی دنیا بھر میں اپنی تمام تر اقسام میں ایک قابل مذمت عمل ہے۔ خصوصاً، شہری نقل و حمل کے انفراسٹرکچر کے خلاف ایسی بدنیتی پر مبنی اور شر انگیز کارروائیاں— جو انسانی ترقی، مسافروں کی آسان آمد و رفت اور تجارتی فروغ کے لیے درکار سامان کی ترسیل کا ذریعہ ہیں—انسانیت کے خلاف جرائم کی مثالیں ہیں اور اس گھناؤنے فعل کے مرتکب افراد، بانیوں اور سرپرستوں کے بدنیتی پر مبنی، کمزور اور غیر انسانی ذہنوں کی عکاسی کرتی ہیں۔‘