’چار ماہ پہلے ایف سی میں ملازم ایک بھائی دھماکے میں جان سے گیا تو دوسرے بیٹے کو والدہ نے بتایا کہ آپ میرا واحد سہارا ہو اور آپ کو کھونا نہیں چاہتی، اسی وجہ سے والدہ کی ہدایت پر دوسرے بیٹے نے نوکری چھوڑ کر پھاٹک بازار میں مزدوری شروع کی لیکن منگل کو وہ بھی دھماکے کا نشانہ بن گیا۔‘
یہ کہنا تھا لکی مروت کے نورنگ کے گنڈی خیل علاقے سے تعلق رکھنے والے ولی اعظم کا جن کا بھانجا ریاض منگل کو لکی مروت میں ہونے والے دھماکے میں جان سے گیا ہے۔
ولی اعظم نے ٹیلی فون پر انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ وہ دو بھائی تھے اور دونوں ایف سی میں ملازم تھے جبکہ ان کے والد چند ماہ پہلے بیماری کی وجہ سے وفات پا گئے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ’تقریباً چار ماہ پہلے ان کا ایک بھائی دھماکے میں جان سے گیا تھا تو اس کے بعد والدہ کے اصرار پر ریاض نے سرکاری ملازمت چھوڑ کر رکشہ خریدا تھا اور نورنگ بازار میں محنت مزدوری کرتا تھا۔‘
نورنگ پھاٹک بازار میں منگل کو ہونے والے دھماکے میں پولیس کے مطابق دو ٹریفک پولیس اہلکاروں سمیت نو افراد جان سے گئے ہیں جبکہ 25 سے زائد زخمی ہیں۔
ریاض کے ماموں ولی اعظم نے بتایا کہ اب ان کے گھر میں کوئی مرد باقی نہیں رہا کیونکہ والد کا پہلے ہی انتقال ہو چکا ہے جبکہ یہ دونوں بھائی بم دھماکوں میں جان سے چلے گئے۔
ولی اعظم نے بتایا کہ ریاض نے سوگواران میں اہلیہ، اور دو بیٹیاں چھوڑی ہیں جبکہ ان کی والدہ اب اکیلی رہ گئی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
لکی مروت دھماکہ
ریجنل پولیس افسر بنوں سجاد خان نے میڈیا کو جاری بیان میں بتایا ہے کہ ابتدائی تحقیق کے مطابق دھماکہ خیز مواد موٹرسائیکل میں نصب تھا جس میں نو افراد جان سے گئے ہیں۔
ریاض کے چچا شادی اللہ خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ آخری سہارا کھونے کے بعد ریاض کی والدہ ہسپتال میں ہیں اور شدید صدمے میں ہیں جبلہ ریاض کی بہنوں کو آرام کے انجیکشن لگائے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پہلے ان کا چھوٹا بھائی محمد مصطفی دھماکے میں چلا گیا اور اب ریاض کا صدمہ والدہ اور بہنوں کی برداشت سے باہر ہے۔
شادی اللہ نے بتایا کہ ’ریاض خان کی پانچ سالہ بچی ذہنی معذوری کا شکار ہے اور انہیں کافی عرصے سے ڈرپ کے ذریعے خوراک دی جا رہی ہے لیکن اب تھوڑی بہتری ہوئی ہے۔‘
انہوں نے بتایا کہ ریاض خان حافظ قرآن تھے اور ایف سی ملازمت کے دوران بطور خطیب خدمات بھی سر انجام دیتے تھے اور وہاں کے بچوں کو بھی پڑھاتے تھے۔