واپڈا ملازمین کی مفت بجلی ختم، الاؤنس دیا جائے:اکاؤنٹس کمیٹی

’دس پندرہ ہزارتنخواہ والے سے بل لیا جارہا ہے،واپڈا ملازمین کوبجلی مفت ہے۔ کیا مفت بجلی ختم کرنے کے لیے وزارت نے کوئی سفارش کی ہے؟ کتنے ارب کی مفت بجلی ملازمین کو فراہم کی جاتی ہے؟‘ چیئرمین کمیٹی کے سوال۔

کراچی الیکٹرک کا ایک ٹیکنیشن 28 فروری 2022 کو کراچی میں اوور ہیڈ ہائی وولٹیج پاور لائنوں پر کام کر رہا ہے(فائل تصویر: اے ایف پی)

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) میں آج ملک بھر میں جاری بجلی بحران پر تفصیلی بات چیت کے بعد پاور ڈویژن نے کمیٹی کو بریفنگ دی اور ریکوری نہ ہونے کی وجہ سے آئندہ برس مزید نقصان سے بچنے کے لیے پی اے سی نے واپڈا ملازمین کو مفت بجلی کی فراہمی ختم کرکے الاونس دینے کی سفارش کر دی۔

جمعرات کے روز پارلیمنٹ میں پبلک اکاونٹس کمیٹی اجلاس کا اجلاس نور عالم خان کی صدارت میں ہوا۔ پاور ڈویژن حکام کی جانب سے گزشتہ ایک سال میں لوڈشیڈنگ پر رپورٹ پبلک اکاونٹس کمیٹی میں پیش کی گئی۔

چیئرمین کمیٹی نے گزشتہ ایک سال کے دوران لوڈشیڈنگ کی رپورٹ پبلک کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ’دس پندرہ ہزارتنخواہ والے سے بل لیا جارہا ہے،واپڈا ملازمین کوبجلی مفت ہے۔ کیا مفت بجلی ختم کرنے کے لیے وزارت نے کوئی سفارش کی ہے؟ کتنے ارب کی مفت بجلی ملازمین کو فراہم کی جاتی ہے؟‘ سیکرٹری پاور نے کمیٹی میں بتایا کہ ایک سال میں پاور سسٹم نے 1100 ارب کا نقصان کیا ہے۔ آئندہ سال پاور سیکٹر کا نقصان دو کھرب روپے کا ہو گا اور اس نقصان کی سب سے بڑی وجہ ریکوری نہ ہونا ہے۔

انہوں نے کہا کہ آٹھ ملین صارفین حکومت سے بجلی پرسبسڈی لے رہے ہیں بہتر یہ ہے کہ واپڈا ملازمین کو فری یونٹ کی بجائے تنخواہ میں الاونس ضم کردیا جائے اس معاملے پر کمیٹی نے متفقہ طور پر تائید کی۔

سیکرٹری پاور نے بریفنگ میں مزید بتایا کہ ’بورڈ آف ڈائریکٹرز میں ہر حکومت اپنے لوگ لگا دیتی ہے۔ ان بورڈ آف ڈائریکٹرزکا کمپنی کے ڈوبنے سے کوئی نقصان نہیں ہے۔ بلکہ کے الیکٹرک کے لوگ مختلف تقسیم کارکمپنیوں کے ممبر ہیں۔ وزیرتوانائی بورڈ آف ڈائریکٹرز کا جائزہ لے رہے ہیں،جلد نئے نام آجائیں گے۔ بورڈ بناتے وقت پروفیشنل لوگوں کو لانا مقصد تھا۔‘

اس پر تحریک انصاف کے سینیٹر شبلی فراز نے تائید کی اور کہا کہ بورڈ آف ڈائریکٹرزکی سیاسی تعیناتی نہیں ہونی چاہیے۔ پی اے سی نے تقسیم کارکمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرزکے معاملے پرآئندہ ہفتے اجلاس طلب کرتے ہوئے بورڈ آف ڈائریکٹرزکی تنخواہ ومراعات کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔

کراچی میں جاری بجلی بحران کے مسئلے پر کے الیکٹرک کے سی ای او اجلاس میں بریفنگ دینے نہیں آئے تو چئیرمین پی اے سی نور عالم خان نے استفسار کیا کہ ’کدھر ہیں کے الیکٹرک کے سی ای او؟اجلاس میں کیوں نہیں آئے؟‘

کے الیکٹرک حکام نے کمیٹی میں بتایا کہ سی ای او کے الیکٹرک وزیراعظم کی میٹنگ میں ہیں۔ چئیرمین کمیٹی نے ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں سنگین بجلی بحران ہے اگرآئندہ اجلاس میں سی ای اوکے الیکٹرک نہ آئیں توانہیں گرفتارکرکے کمیٹی میں لایا جائے۔

چئیرمین کمیٹی نور عالم نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ پی اے سی کے اجلاس کی کارروائی ٹی وی پربراہ راست چلائیں۔ عوام کو پتہ ہونا چاہیے کہ ان کے نمائندے کیا بات کرتے ہیں۔ ہم کسی کو اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ سینیٹرشبلی فراز نے کہا کہ جو بھی معاملہ ہو پہلے اس پربات کرلیں تاکہ جورزلٹ نکلے وہ میڈیا کے سامنے رکھا جائے۔ میرا اختلاف ہے،غیرتصدیق شدہ چیزوں کو میڈیا پرنہ لایا جائے۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں موٹر ویز پر بھی بات چیت:

پبلک اکاونٹس کمیٹی اجلاس میں وزارت مواصلات کے آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ سینیٹر روحیل اصغر نے اجلاس میں نکتہ اٹھایا کہ این 5 جی ٹی روڈ کی بری حالت ہے جبکہ پانچ جگہ ٹول ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ اس پر چئیرمین کمیٹی نے ریمارکس دیے کہ جی ٹی روڈ کا نام ڈیتھ روڈ رکھ دینا چاہیے۔ موٹروے اور جی ٹی روڈ کی بہتر مرمت کی جائے۔ موٹرویز پر بڑی تعداد میں ایکسیڈنٹ ہورہے ہیں۔ ٹرک اور بسیں بھی فاسٹ ٹریک پر چل رہی ہوتی ہیں۔ انہوں نے وزارت مواصلات حکام سے کہا کہ بسوں اور ٹرکوں کو اپنی لائن میں چلنے کو یقینی بنائیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان