یورپی سیاح ہزاروں میل کا پُرخطر سفر طے کرکے برصغیر کیوں آتے تھے؟ اس کے پیچھے محض سیاحت کا شوق نہیں بلکہ اس کے پیچھے کئی معاشی، مذہبی، سائنسی اور سیاسی محرکات کارفرما تھے۔
ایک بڑا مقصد تجارت تھا۔ یورپی تجارتی کمپنیاں ہندوستان کی منڈیوں، خام مال، مصنوعات اور تجارتی راستوں کی تلاش میں اپنے نمائندے اور مہم جو یہاں بھیجتی تھیں۔
دوسرا مقصد مشنری سرگرمیوں کے امکانات کا جائزہ لینا تھا۔ یورپ کے مسیحی مشنری ادارے ہندوستان میں مذہبی تبلیغ، تعلیمی اداروں اور سماجی خدمات کے ذریعے اپنے اثرورسوخ کو پھیلانے کے خواہاں تھے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
تیسرا اہم محرک سیاسی اور عسکری معلومات کا حصول تھا۔ برطانوی سلطنت کے لیے ہندوستان کے گردونواح، افغانستان، وسطی ایشیا اور شمال مغربی سرحدی علاقوں کی جغرافیائی اور سیاسی معلومات خاصی اہمیت رکھتی تھیں۔
اسی لیے بہت سے سیاح، جغرافیہ دان اور مہم جو دراصل اپنے اپنے ملکوں کے مفادات کے لیے معلومات جمع کر رہے ہوتے تھے۔
تاہم ان تمام محرکات کے ساتھ ایک اور کشش بھی تھی: ہندوستان کا قدرتی حسن، اس کی قدیم تہذیبیں، تاریخی عمارتیں اور پراسرار مشرقی دنیا۔
کشمیر کی ڈل جھیل، برف پوش پہاڑوں اور سرسبز وادیوں نے یورپی تخیل میں ایک رومانوی جنت کا تصور پیدا کر رکھا تھا جہاں پریاں رقص کرتی تھیں۔
یہی وجہ تھی کہ انیسویں صدی کے یورپی سفرناموں میں کشمیر محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ حسن، حیرت اور طلسماتی کشش کی علامت بن کر ابھرتا ہے۔
تاہم چار سیاح ایسے ہیں جو اٹھارویں صدی میں راولپنڈی سے گزرے تو انہوں نے اپنے سفرناموں میں شہر کا ذکر کیا ہے.
ان میں ماؤنٹ سٹورٹ الفنسٹائن (Mountstuart Elphinstone) جو 1809 میں آئے۔
ولیم مورکرافٹ (William Moorcroft) جو 1822ء میں آئے، بارون چارلس ہیگل (Baron Charles Hugel) جو 1835 میں آئے اور اینڈریو لیتھ ایڈمز (Andrew Leith Adams) جو انیسویں صدی کے وسط میں آئے۔
ان میں سے ہیگل اور انڈریو لیتھ ایڈمز کے سفرنامے نسبتاً زیادہ تفصیلات فراہم کرتے ہیں، جنہوں نے شہر اور اس کے گرد ونواح کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔
جنہیں پڑھ کر ہم دو صدیاں پہلے کے شہر کی زندگی کو محسوس کر سکتے ہیں۔
راولپنڈی میں سیتا رام کے سکے!
بارون چارلس ہیگل کا تعلق آسٹریا سے تھا۔ وہ 1830 کی دہائی میں ہندوستان آیا تو کابل سے آتے ہوئے راولپنڈی سے بھی گزرا۔
اس کی کتاب Travels in Kashmir and the Panjab جرمن زبان میں تھی، جس کا انگریزی ترجمہ 1840 میں لندن سے چھپا۔
اس نے لکھا کہ جی ٹی روڈ کچا راستہ ہے جس پر بارش ہو جائے تو جانوروں کا چلنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ صرف مارگلہ پاس جو پتھروں کو کاٹ کر بنایا گیا ہے، وہاں راستے میں پتھر لگائے گئے ہیں۔
سنگ جانی کی سرائے کو اس نے نہایت خستہ حال لکھا ہے۔
وہ لکھتا ہے کہ جب وہ راولپنڈی پہنچا تو ایک تھانیدار نے اس کا خیر مقدم کیا اور اسے تحفے پیش کیے کیونکہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کا حکم ہے کہ یورپی سیاحوں کا ہر ممکن خیال رکھا جائے۔
تھانیدار نے ہیگل کو 21 قسم کی مٹھائیاں پیش کیں، ہر مٹھائی مٹی کے الگ برتن میں تھی اور ہر برتن اتنا بڑا تھا کہ اسے بمشکل ہی ایک بندہ اٹھا سکتا تھا۔
اس کے علاوہ انڈوں کی ایک ٹوکری، دو بھیڑیں اور روپوں کی ایک تھیلی بھی بطور تحفہ پیش کی گئی۔
وہ لکھتا ہے کہ راولپنڈی کو ایک قلعہ کہا جاتا ہے لیکن قلعے کے دفاع کے لیے کوئی فصیل تک موجود نہیں، البتہ قلعے کے ساتھ ایک بازار ہے۔
وہ لکھتا ہے کہ شہر میں کنویں کے ساتھ میں نے اپنا خیمہ لگایا تو وہاں درخت پر ایک نہایت خوبصورت پرندہ بیٹھا ہوا تھا۔
میں نے اپنے جونکی کو کہا کہ اسے شکار کرے۔ جس پر مقامی لوگوں نے کہا کہ یہ گرو کی رہائش ہے اس لیے یہاں کسی پرندے کا شکار نہیں کیا جا سکتا۔
میرے نوکروں اور مقامی افراد کے درمیان توتکار بڑھی تو میں نے اپنے لوگوں کو کوچ کا حکم دے دیا۔
مجھے جاتا دیکھ کر گرو باہر نکل آئے اور انہوں نے مجھ سے درخواست کی کہ آپ مہمان ہیں یہیں قیام کریں چاہتے ہیں تو شکار بھی کر لیں۔ میں ٹھہر تو گیا لیکن شکار نہیں کیا۔
راولپنڈی میں ہی لاہور سے جنرل وینچورا نے بھی مجھے تحائف بھجوائے۔ ساتھ ایک جمعدار بھی بھیجا جسے میرے ساتھ رہنے کا حکم تھا۔
راولپنڈی میں مقامی افراد نے مجھے سونے اور چاندے کے سکے فروخت کرنے کے لیے پیش کیے جنہیں وہ سیتا رام سکے کہتے تھے۔
لیکن ان سکوں پر نہ تو مسلمانوں کے سکوں کی طرح کوئی عبارت تھی نہ ہی ہندوؤں کے سکوں کی طرح دیوی دیوتاؤں کی کوئی تصویر، بلکہ وہ مغربی دنیا کے سکوں سے مشابہ تھے جن پر کسی شخص کا چہرہ یا اطراف میں کندہ ایک تحریر بنی ہوئی تھی۔
جب میں نے ان کا باریک بینی سے جائزہ لیا تو معلوم ہوا کہ یہ باختری سکے تھے، جو راولپنڈی میں دریائے سواں کے کنارروں سے دریائے سندھ کے درمیانی علاقے میں بکثرت ملتے ہیں۔
مقامی لوگ انہیں اکٹھا کر کے غیر ملکیوں کو فروخت کرتے ہیں۔ سیتا اور رام ہندوؤں کی دیوی دیوتا تھے لیکن ان سکوں کا سیتا رام سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
راولپنڈی میں میرا قیام مجموعی طور پر ایک ناخوشگوار تجربہ رہا۔
مزدوروں اور اونٹ بانوں نے میرا ساتھ نہ صرف چھوڑ دیا بلکہ میرا سامان راولپنڈی سے روات کی سرائے کے درمیان چھوڑ کر بھاگ گئے جس پر میں نے تھانیدار سے مدد چاہی اور کہا کہ اگر اس نے میری مدد نہ کی تو میں اس کی شکایت مہاراجہ رنجیت سنگھ سے کروں گا۔
مہاراجہ نے ہر شہر کی انتظامیہ کو پابند کر رکھا تھا کہ وہ یورپی سیاحوں اور تاجروں کا نہ صرف خیال رکھے بلکہ ان سے دستخط بھی کروائے کہ انہیں یہاں کوئی مسئلہ مسائل نہیں تھے۔
ہیگل نے روات کی سرائے کو بھی خستہ حال لکھا ہے، جس کے درمیان ایک مقبرہ بنا ہوا ہے اور اس کے گرد بے شمار قبریں پھیلی ہوئی ہیں۔
یہاں رات کو اسے ایک طوفان نے آ لیا۔ ایک تو دسمبر کی سردیاں اور اوپر سے بارش جس نے اس کے خیمے میں ہر چیز جل تھل کر دی۔
وہ لکھتا ہے کہ قریب ہی کسی مسلمان سردار کا خیمہ لگا ہوا تھا، جو اپنے نوکروں کے ساتھ سردی سے ٹھٹھر رہا تھا۔ میں نے اسے برانڈی کی پیشکش کی تاکہ وہ بیمارنہ ہو مگر اس نے ناگواری کے ساتھ میری پیشکش رد کر دی۔
راولپنڈی میں ان سکوں کا ذکر موہن لال کشمیری نے بھی اپنے سفرنامے میں کیا ہے جو کہ ’Travels in the Panjab, Afghanistan & Turkistan‘ کے نام سے 1846 میں شائع ہوا تھا۔
موہن لال کشمیری کا وسطِ ایشیا کا سفر گریٹ گیم کے پس منظر میں تھا۔
وہ لکھتا ہے کہ راولپنڈی میں ہم نے چاندی اور تانبے کے سکے دوگنی قیمت پر خریدے، جو یہاں کے قریبی علاقوں سے لوگ ڈھونڈ کر لاتے ہیں۔
راولپنڈی سے پیر پنجال کے پہاڑوں سے طلوعِ آفتاب کا بے مثال منظر
اینڈریو لیتھ ایڈمز سکاٹ لینڈ سے تعلق رکھتے تھے جو برطانوی فوج میں بطور سرجن بھرتی ہوئے اور 1848 میں ہندوستان آئے۔
وہ 1849 سے 1854 کے درمیان راولپنڈی اور پشاور میں تعینات رہے۔ ان کی کتاب Wanderings of a Naturalist in India: The Western Himalayas and Cashmere ہے، جو 1867 میں ایڈمبرا سے شائع ہوئی تھی۔
اس نے کتاب میں راولپنڈی کی آب و ہوا، زمین، فصلیں، قدرتی مناظر، پرندوں، نباتات اور حیوانات کا تفصیلی ذکر کیا ہے۔
انہوں نے راولپنڈی میں طلوعِ ماہتاب کو حسین ترین مناظر میں شمار کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ’منظر نگاری کرنے والے کسی مصور کے لیے راولپنڈی سے نظر آنے والے اُس منظر سے بڑھ کر شاید ہی کوئی دلکش اور عظیم الشان منظر ہو جب پورا چاند پیر پنجال کے برف پوش سلسلے کی چوٹیوں پر طلوع ہوتا ہے۔ وہ عظیم پہاڑی دیوار نما سلسلہ، جو چاند کی روشن اور نقرئی شعاعوں میں نہایا ہوا ہو جبکہ درمیان کی تمام وادیاں اور میدان گہری تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہوں ایک ایسا منظر پیش کرتا ہے جو ہیبت، جلال اور فطری عظمت میں تقریباً بے مثال ہے۔
’چاند کی تابناک روشنی میں چمکتی ہوئی پیر پنجال کی برف پوش چوٹیاں آسمان اور زمین کے درمیان ایک شاندار حدِ فاصل کی مانند دکھائی دیتی ہیں اور ان کے نیچے پھیلی ہوئی تاریکی منظر کے حسن کو مزید پُراسرار اور دلکش بنا دیتی ہے۔
’یہ ایسا نظارہ ہے جو دیکھنے والے کے دل میں فطرت کی عظمت، سکون اور ابدیت کا گہرا احساس پیدا کرتا ہے اور جسے بجا طور پر قدرت کے عظیم ترین مناظر میں شمار کیا جا سکتا ہے۔‘
آج راولپنڈی میں اس منظر سے کوئی آشنا نہیں ہے کیونکہ فضائی آلودگی کی وجہ سے پیر پنجال تو کیا قریب کی مارگلہ ہلز بھی بمشکل نظر آتی ہیں۔
پیر پنجال کے برف پوش پہاڑوں کے نظارے کا ذکر راولپنڈی کے گزیڑیئر میں بھی آیا ہے۔
کرونا کے دنوں میں ہونے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے جب فضائی آلودگی کافی کم ہو گئی تھی تو راولپنڈی سے پیر پنجال کے برف پوش پہاڑ کچھ دنوں کے لیے دیکھے گئے تھے۔
پیر پنجال کے دامن میں گلمرگ ہے جہاں سے سری نگر کا فاصلہ پچاس کلومیٹر سے بھی کم رہ جاتا ہے۔
بیسویں صدی کے اوائل میں راولپنڈی سے سری نگر تانگے چلتے تھے، پھر ان کی جگہ ٹیکسیاں اور بسیں آ گئیں۔
کشمیر کے مسئلے کی وجہ سے راولپنڈی اور سری نگر کا راستہ ہی متروک نہیں ہوا بلکہ ایک تاریخ بھی یادوں سے محو ہو گئی ہے۔
مارگلہ ہلز میں شیر کا شکار:
اینڈریو لیتھ ایڈمز نے اپنی کتاب میں مارگلہ ہلز میں بنگال ٹائیگر کے شکار کا واقعہ بھی لکھا ہے جس کے دوران ایک افسوسناک واقعے میں برطانوی فوج کا ایک افسر کیپٹن کولبی مارا گیا تھا۔
وہ لکھتے ہیں کہ یہ شیر مقامی لوگوں کے جانور کھا جاتا تھا، جس پر ہم اس کے شکار کے لیے گئے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسے کیپٹن کوہلی نے گولی ماری لیکن شیر زخمی حالت میں جھاڑیوں میں گھس گیا۔ جب اس کی تلاش کا مرحلہ شروع کیا گیا تو ہاتھی نے بھی آگے جانے سے انکار کر دیا اور مقامی ہانکا لگانے والے بھی ڈر گئے جس پر کیپٹن کولبی ہاتھی سے اتر کر جھاڑیوں میں چلے گئے۔
بدقسمتی سے وہ شیر کے بالکل قریب جا پہنچے، اس سے پہلے کہ وہ فائر کرتے غصے سے پاگل زخمی شیر ان پر جھپٹا اور انہیں زمین پر گرا دیا۔
کئی گھنٹوں بعد جب لوگ انہیں تلاش کرتے ہوئے وہاں پہنچے تو انہوں نے کیپٹن کولبی کو شدید زخمی حالت میں پایا۔
ان کا دایاں بازو بری طرح چیتھڑوں میں تبدیل ہو چکا تھا اور جسم کے دوسرے حصوں پر بھی پنجوں اور دانتوں کے گہرے زخم تھے۔
ان سے چند گز کے فاصلے پر شیر بھی مردہ پڑا ہوا تھا۔ بعد میں ڈاکٹروں کو ان کا بازو کاٹنا پڑا لیکن اندرونی زخم اتنے سنگین ثابت ہوئے کہ وہ حادثے کے چند ہی دن بعد وفات پا گئے۔
راولپنڈی، کابل سے دہلی جاتے ہوئے ایک اہم پڑاؤ تھا۔ بہت سے مغربی اور چینی سیاح یہاں سے گزرے تاہم ان میں سے چند ایک نے ہی اس کا ذکر کیا ہے۔
شاید یہ تب کوئی اہم جگہ نہیں تھی۔ گندھارا کی شکست و ریخت پانچویں صدی تک مکمل ہو چکی تھی اس کے بعد اگلے ایک ہزار سال تک یہاں کچھ خاص نہیں تھا۔
تہذیب یافتہ لوگوں کی جگہ چور اور ڈاکو آ گئے تھے جن کی وجہ سے یہ مشہور درہ ’مارگلہ ‘ کے نام سے مشہور ہو گیا، یعنی یہاں سے گزرنے والوں کے گلے کاٹ دیئے جاتے تھے اور انہیں لوٹ لیا جاتا تھا۔