کیا علامہ اقبال مصورِ پاکستان نہیں ہیں؟

علامہ اقبال کا خطبہ الہ آباد کافی طویل تھا جس میں انہوں نے اپنے نظریات کو پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ ’مسلمان ایک الگ شناخت کے حامل ہیں جنہیں ہندوستان کے جمہوری نظام میں ایک فرد ایک ووٹ کی بنیاد پر نقصان ہو سکتا ہے۔‘

علامہ اقبال کے نزدیک آزاد مسلم سیاسی وحدت محض شناخت کا معاملہ نہیں تھی بلکہ ایسا انتظام تھا جس کے ذریعے مسلمان اپنے معاشرتی اور معاشی نظام کو اپنے اصولوں کے مطابق تشکیل دے سکتے تھے (پبلک ڈومین)

آج کل سوشل میڈیا پر علامہ اقبال کا ایک خط گردش کر رہا ہے جو انہوں نے 4 مارچ 1934 کو پروفیسر ایڈورڈ تھامسن کے نام لکھا تھا۔

اس میں وہ لکھتے ہیں کہ ’میں نے ابھی آپ کا اپنی کتاب پر تبصرہ پڑھا ہے۔ یہ بہت عمدہ ہے اس کے لیے میں آپ کا شکر گزار ہوں۔ لیکن آپ سے ایک غلطی ہوئی ہے جس کی طرف میں فوری توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں، کیونکہ میرے نزدیک یہ ایک سنجیدہ غلطی ہے۔ آپ نے مجھے ’پاکستان‘ کہلانے والے منصوبے کا حامی قرار دیا ہے۔ پاکستان میرا منصوبہ نہیں ہے۔

’میں نے اپنے خطاب میں جو تجویز پیش کی تھی وہ شمال مغربی ہندوستان میں ایک مسلم صوبے کا قیام تھا۔ یعنی ایسا صوبہ جہاں مسلمانوں کی آبادی بہت بڑی اکثریت میں ہو۔ میرے منصوبے کے مطابق یہ نیا صوبہ مجوزہ ہندوستانی وفاق کا حصہ ہوتا۔ پاکستان کی سکیم ایک الگ ڈومینین کی تجویز پیش کرتی ہے۔

’یہ منصوبہ کیمبرج میں وجود میں آیا تھا۔ اس منصوبے کے مصنفین کا خیال ہے کہ گول میز کانفرنسوں میں شریک دوسرے مسلم رہنماؤں نے ہندو یا نام نہاد ہندوستانی قوم پرستی کے دباؤ میں مسلم قوم کے مفادات قربان کر دیے ہیں۔‘

اقبال اس خط میں تسلیم کر رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے لیے الگ ملک کے نہیں بلکہ وفاق کے اندر رہتے ہوئے ایک ڈومینین کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ ہمارے ہاں نصاب میں پڑھایا جاتا ہے کہ پاکستان کا تصور سب سے پہلے علامہ محمد اقبال نے 1930 میں الہ آباد کے مقام پر دیا تھا جہاں آل انڈیا مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس ہو رہا تھا جس کی صدارت بھی انہوں نے ہی کی تھی۔

خطبہ الہ آباد میں کیا کہا؟

مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس لکھنٔو میں طے تھا لیکن ہندوؤں کی جانب سے حملے کے خدشے کے پیش نظر اسے الہ آباد منتقل کر دیا گیا۔ الہ آباد ہندوؤں کا ایک متبرک شہر ہے جہاں موتی لال نہرو اور جواہر لال نہرو کا جنم ہوا۔ شہر کے اہم جلسے میو ہال میں ہوا کرتے تھے لیکن مسلم لیگ کو خدشہ تھا کہ اگر لوگ کم آئے اور جلسہ گاہ نہ بھر سکی تو سبکی ہو گی اس لیے جلسے کو میو ہال کی بجائے ایک حویلی میں منعقد کیا گیا۔

 ڈاکٹر ندیم شفیق ملک اپنی کتاب ’علامہ اقبال کا خطبہ الہ آباد، مقدمہ، حواشی، تعلیقات، دستاویزات‘ میں لکھتے ہیں کہ ’جلسہ شروع ہوا تو آدھی کرسیاں خالی تھیں جو علامہ کے خطبے کے دوران بھر گئیں۔ حاضرین کی بڑی تعداد اسے مشاعرہ سمجھ کر علامہ اقبال کا کلام سننے آئی تھی۔ علامہ اقبال نے انگریزی زبان میں طویل خطبہ پڑھا۔ صرف چند درجن افراد ہی انگریزی سمجھ سکتے تھے اس لیے باقی لوگ اسے سمجھنے سے قاصر رہے۔‘

چوہدری خلیق الزمان اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں کہ ’ایسے کھلے ہوئے اشارے اور تصریح کے بعد بھی مسلم لیگ کے اجلاس میں موجود کسی فرد نے اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا اور نہ ہی  کسی نے اپنی تقریر میں اس کی تائید میں کوئی تجویز پیش کی اور ہوتی بھی کیسے کیونکہ مسلم لیگ محض زمینداروں، تعلقہ داروں اور خطاب یافتوں کا ایک سود مند گہوارہ تھا اور شاید وہ جلسہ بھی اس قابل نہ تھا کہ اس میں وہ جواہر پارے بکھیرے جاتے۔‘

علامہ اقبال کا یہ خطبہ کافی طویل تھا جس میں انہوں نے اپنے نظریات کو پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ ’مسلمان ایک الگ شناخت کے حامل ہیں جنہیں ہندوستان کے جمہوری نظام میں ایک فرد ایک ووٹ کی بنیاد پر نقصان ہو سکتا ہے اس لیے ہندوستان کے اندر ان کی جداگانہ شناخت کا تحفظ ضروری ہے۔ جس کے لیے انہوں نے پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان کو یکجا کر کے ایک مسلم اکثریتی وحدت قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔

اس کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سے ہندوؤں کو پریشان ہونا چاہیے نہ انگریزوں کو۔ ہندوستان دنیا میں سب سے بڑا اسلامی ملک ہے۔ اسلام کو بحیثیت ایک تمدنی قوت کے زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کر سکے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے اس سب سے زیادہ جان دار حصے کو جس نے برطانیہ کے ناروا سلوک کے باوجود فوج اور پولیس میں شریک ہو کر انگریزوں کی حکومت اس ملک میں ممکن بنائی ہے ایک جگہ مرکوز کرنے سے نہ صرف ہندوستان بلکہ ایشیا کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ اس سے ان کا احساس ذمہ داری، قومی اور حب الوطنی کا جذبہ گہرا ہو جائے گا۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

علامہ اقبال نے اپنے خطبے میں برِصغیر کے مسلمانوں کے لیے کسی الگ وطن کا مطالبہ یہاں پیش نہیں کیا تھا بلکہ وہ ایک ڈھیلے ڈھالے وفاق کے اندر ایک مسلم صوبے کا تصور پیش کر رہے تھے جو آئندہ کی انڈین فیئڈریشن کا حصہ ہوتا۔

ایڈورڈ تھامسن دو قومی نظریئے کے مخالف کیوں تھے؟

ڈاکٹر ایڈورڈ جان تھامسن برطانوی مصنف، ہندوستانی سیاست کے مبصر اور آکسفورڈ سے وابستہ ایک علمی شخصیت تھے۔ وہ ہندوستان کے سیاسی مستقبل، کانگریس اور مسلم لیگ کی سیاست میں گہری دلچسپی رکھتے تھے۔ ایڈورڈ جان تھامسن 1910 میں بنگال کے شہر بانکوڑا کے ویسلیئن کالج میں انگریزی ادب پڑھانے ہندوستان آئے اور 1923 تک یہاں مقیم رہے۔ اس دوران ان کی ملاقات بنگال کے عظیم شاعر رابندر ناتھ ٹیگور سے ہوئی۔ انہوں نے بنگالی زبان سیکھی اور بعد میں انگلستان واپس چلے گئے۔

انہیں آکسفورڈ یونیورسٹی میں بنگالی زبان کا لیکچرر مقرر کیا گیا۔ 1936 سے 1940 تک وہ اورئیل کالج میں ہندوستانی تاریخ کے تحقیقی شعبے سے بھی وابستہ رہے۔ تھامسن ہندوستانی سیاست پر گہری نظر رکھتے تھے۔ پروفیسر ہمایوں انصاری جو رائل ہالووے کالج لندن میں اسلام اور ثقافتی تنوع کے شعبے میں استاد ہیں انہوں نے علامہ اقبال کے ایڈورڈ تھامسن کے نام خطوط پر آکسفورڈ یونیورسٹی کے زیرِاہتمام ایک پوڈ کاسٹ میں کہا ہے کہ ’ایڈورڈ تھامسن زندگی کے آخری حصے میں دو مرتبہ ’دی گارڈین‘ اخبار کے نامہ نگار کی حیثیت سے ہندوستان آئے۔ اس دوران ان کے مہاتما گاندھی اور جواہر لعل نہرو سے قریبی روابط قائم ہوئے۔

وہ دونوں شخصیات کا بہت احترام کرتے تھے۔ البتہ محمد علی جناح کے بارے میں ان کے خیالات نسبتاً مختلف تھے۔ اس کی ایک وجہ ان کے اپنے سیاسی تعصبات بھی تھے۔ تھامسن ہندوستان کی وحدت کے حامی لیکن مسلمانوں کی وحدت کے مخالف تھے۔ وہ دو قومی نظریے کو ایک خوفناک حل سمجھتے تھے اور ان کے خیال میں پاکستان کا قیام تزویراتی اور اخلاقی، دونوں حوالوں سے ممکن نہیں تھا۔ اس کے باوجود وہ اقبال کو اپنا دوست اور ہندوستانی مسلمانوں کا ایک مرکزی رہنما سمجھتے تھے۔‘

خطبۂ الہ آباد کے اگلے سال، ستمبر 1931 میں دوسری گول میز کانفرنس لندن میں ہوئی جس میں شرکت کے لیے علامہ قبال بھی موجود تھے۔ اس دوران 3 اکتوبر 1931 میں ایڈورڈ تھامسن کا ایک خط ’دی ٹائمز لندن‘ میں شائع ہوا جس کا عنوان تھا ’Pan-Islamic Plotting' جس میں ایڈورڈ تھامسن نے علامہ اقبال کے خطبہ الہ آباد کی تجویز کو محض صوبائی خود مختاری کا معاملہ سمجھنے کی بجائے اس خدشے سے جوڑا کہ شمال مغربی ہندوستان میں ایک متحدہ مسلم ریاست یا وفاق بننے سے باقی ہندوستان کے دفاع اور سیاسی انتظام پر اثر پڑ سکتا ہے۔

وہ لکھتے ہیں ’سر محمد اقبال جس چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ ہندوستانی وفاق کے اندر یا اس سے باہر ایک کنفیڈریشن ہے۔ نقشے پر نظر ڈال کر دیکھیے کہ اس کے نتیجے میں ہندوستان کے باقی حصے کے لیے کس نوعیت کی قابلِ دفاع سرحد باقی رہ جائے گی۔‘

جب علامہ اقبال نے یہ پڑھا تو انہوں نے دی ٹائمز کے ایڈیٹر کو ایک جوابی خط لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ تھامسن نے گذشتہ دسمبر میں آل انڈیا مسلم لیگ کے صدارتی خطبے سے درج ذیل عبارت کو اس کے سیاق و سباق سے الگ کر کے پیش کیا ہے تاکہ اسے ’پین اسلام کی سازش‘ کے ثبوت کے طور پر استعمال کیا جا سکے:

’میں چاہتا ہوں کہ پنجاب، صوبہ سرحد، سندھ اور بلوچستان کو ملا کر ایک ریاست بنا دیا جائے۔ برطانوی سلطنت کے اندر یا اس سے باہر جہاں انہیں حقِ حکمرانی حاصل ہو۔ شمال مغربی ہندوستان میں ایک متحد مسلم ریاست کا قیام کم از کم شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کی آخری منزل معلوم ہوتی ہے۔

’میں ڈاکٹر تھامسن کو بتانا چاہتا ہوں کہ یہاں میں برطانوی سلطنت سے باہر ایک مسلم ریاست کے قیام کا مطالبہ نہیں کر رہا بلکہ برصغیر کے ممکنہ مستقبل کے حوالے سے محض ایک اندازہ پیش کر رہا ہوں۔ کوئی بھی ہندوستانی مسلمان، جو عقل و فہم کا معمولی سا دعویٰ بھی رکھتا ہو شمال مغربی ہندوستان میں برطانوی دولتِ مشترکہ سے باہر کسی مسلم ریاست یا ریاستوں کے قیام کو فی الوقت ایک قابلِ عمل سیاسی منصوبہ نہیں سمجھتا۔

’اگرچہ میں وسطی پنجاب میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا ایک اور مرکز بنانے کی مخالفت کروں گا جیسا کہ بعض جذباتی افراد تجویز کرتے ہیں لیکن میں ہندوستان کو ایسے صوبوں میں ازسرنو تقسیم کرنے کے حق میں ہوں جہاں کسی ایک برادری کو مؤثر اکثریت حاصل ہو۔‘

جب اقبال نے الگ ملک کو ناگزیر قرار دیا

خطبہ الہ آباد کے بعد علامہ اقبال کی سیاسی فکر مسلسل ارتقا پزیر رہی۔ 1936 اور 1937 میں قائد اعظم محمد علی جناح کے نام ان کے خطوط میں مسلمانوں کی سیاسی تنظیم، معاشی مسائل، آئینی تحفظ اور شمال مغربی ہندوستان و بنگال کے مسلمانوں کے حقِ خود ارادیت کے بارے میں ان کا مؤقف زیادہ واضح ہو کر سامنے آتا ہے۔ قائداعظم کے نام ایک خط میں وہ لکھتے ہیں: ’اس ملک میں ایک آزاد مسلم ریاست یا ریاستوں کے بغیر اسلامی شریعت کا نفاذ اور اس کی ترقی ممکن نہیں۔ کیا آپ نہیں سمجھتے کہ اب ایسے مطالبے کا وقت آ پہنچا ہے؟‘

اقبال کا 21 جون 1937 کا خط اس موضوع پر ان کی سب سے واضح تحریروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ خط بھی قائداعظم کے نام تھا۔ ’ان حالات میں یہ واضح ہے کہ ہندوستان میں امن قائم کرنے کا واحد راستہ ملک کی ازسرِنو تقسیم ہے، جو نسلی، مذہبی اور لسانی مماثلتوں کی بنیاد پر کی جائے مسلم صوبوں کا ایک الگ وفاق، جسے ان خطوط پر تشکیل دیا جائے جن کی میں نے اوپر تجویز دی ہے، واحد راستہ ہے جس سے ہم ہندوستان میں امن قائم کر سکتے ہیں اور مسلمانوں کو غیر مسلموں کے غلبے سے بچا سکتے ہیں۔‘

1930 میں اقبال نے وفاق کے اندر رہتے ہوئے شمال مغربی ہندوستان کی مسلم ریاست کا تصور پیش کیا تھا 1937 میں وہ مسلم ریاست یا ریاستوں کی ضرورت کو مسلمانوں کے معاشی اور آئینی مسائل کے حل سے براہِ راست جوڑ رہے تھے۔

ان کے نزدیک آزاد مسلم سیاسی وحدت محض شناخت کا معاملہ نہیں تھی بلکہ ایسا انتظام تھا جس کے ذریعے مسلمان اپنے معاشرتی اور معاشی نظام کو اپنے اصولوں کے مطابق تشکیل دے سکتے تھے۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں وہ جس سوچ کی جانب بڑھ رہے تھے وہ اگرچہ بعد کے قیام پاکستان سے براہ راست جڑی ہوئی نہیں تھی تو بھی وہ اس نظریے کے بانی اور وکیل ضرور تھے جو برِصغیر کے مسلمانوں کی الگ مذہبی، سماجی اور تہذیبی شناخت پر مبنی تھا اور جو بالآخر ان کے لیے ایک الگ وطن پر منتج ہوا۔  

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی تاریخ