وسط مدتی انتخاب: بائیڈن اور ٹرمپ کی سیاسی مخالفین پر تنقید

امریکی صدر جو بائیڈن نے رپبلکننز کو سیاسی تشدد کرنے والے اور انتخابات سے فرار اختیار کرنےکہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخاب سے قبل اپنے مخالفین پر انتخاب سے بھاگنے اور ظلم و ستم کرنے کا الزام عائد کیا ہے(تصاویر: اے ایف پی)

امریکہ میں وسط مدتی انتخاب کے موقعے پر صدر بائیڈن اور سابق صدر ٹرمپ نے اپنی سیاسی مخالفین پر سخت تنقید کی ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے رپبلکننز کو سیاسی تشدد کرنے والے اور انتخابات سے فرار اختیار کرنےکہتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

 جبکہ  دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ووٹرز پر زور دیا کہ وہ وسط مدتی انتخابات سے قبل آخری اتوار کو ’بائیں بازو کے بڑھتے ہوئے ظلم‘ کی مخالفت کریں، جس سے واشنگٹن کی طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔

خبررساں ایجنسی اے پی کے مطابق وفاقی انٹیلی جنس ایجنسیاں انتہائی دائیں بازو کے انتہا پسندوں کی جانب سے سیاسی تشدد کے امکانات سے خبردار کر رہی ہیں۔

ریاست نیو یارک کے شہر یانکرز میں سارہ لارنس کالج میں شام کی ریلی کے ساتھ پانچ ریاستی، چار روزہ انتخابی مہم ختم کرتے ہوئے، جو بائیڈن نے ڈیموکریٹک گورنر کیتھی ہوچل کی حمایت کی۔

ان کا مقابلہ رپبلکن امیدوار لی زیلڈن کے ساتھ ہوگا۔ لی زیلڈن 2006 میں جارج پٹاکی کے عہدہ چھوڑنے کے بعد ریاست کے پہلے رپبلکن گورنر بننا چاہتے ہیں۔

ایسوسی ایٹد پریس کے مطابق صدر نے کہا کہ ’ریاستی، وفاقی اور مقامی عہدوں کے لیے سینکڑوں رپبلکن امیدوار انتخابات سے فرار چاہتے ہیں، جو کہتے ہیں کہ ہم الیکشن نہیں جیت سکے، حالانکہ چیلنج کرنے کی سینکڑوں کوششیں ناکام ہو چکی ہیں، یہاں تک کہ رپبلکن عدالتوں میں بھی۔‘

جو بائیڈن نے کہا کہ ’انکار کرنے والوں کے لیے کسی بھی الیکشن کے صرف دو نتائج ہوتے ہیں، یا تو وہ جیت جاتے ہیں یا ان کے ساتھ دھوکہ ہوتا ہے۔‘

بائیڈن نے کہا کہ رپبلیکنز گذشتہ سال امریکی کیپٹل ہل میں ہونے والی بغاوت کو معاف کرنے کے لیے تیار تھے اور ایوان نمائندگان کی سپیکر نینسی پلوسی کے شوہر پال پلوسی پر حالیہ حملے کو اس پارٹی کے کچھ ارکان نے ’ہلکا لیا‘ یا ’بہانے‘ بنائے۔

صدر نے کہا کہ ’میرے کیریئر میں ایسا کوئی لمحہ نہیں آیا جب ہم نے سیاسی ترجیحات کی بنیاد پر تشدد کا سراہا ہو۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

یہ پہلا موقع ہے کہ گذشتہ سال چھ جنوری کو ایک ہجوم کی جانب سے کیپیٹل ہل پر چڑھائی کے بعد امریکہ میں منگل کو وسط مدتی انتخابات ہوں گے جن میں تین کروڑ90 لاکھ سے زائد افراد نے قبل از وقت ووٹ ڈال چکے ہیں۔ اس الیکشن سے کانگریس اور اہم گورنرشپس کے کنٹرول کا فیصلہ ہوگا۔

 اس سے قبل اتوار کو جب ٹرمپ نے میامی میں اپنے حامیوں سے خطاب کیا تو ایوان نمائندگان کی سپیکر کے حوالے سے ’اسے لاک اپ کرو‘ کے نعرے لگائے گئے۔

ٹرمپ کو امید ہے کہ انتخابات کے دن رپبلکنز کی تعداد زیادہ ہونے سے 2024 کی الیکشن مہم میں مومینٹم پیدا ہوگا جو امکان ہے کہ اس ماہ شروع ہو گی۔

اوہائیو میں رپبلکن سینیٹ کے امیدوار جے ڈی وینس کے ساتھ پیر کو ہونے والی ایک تقریب کے متعلق ٹرمپ نے کہا کہ ’مجھے شاید یہ دوبارہ کرنا پڑے گا، لیکن جڑے رہیں۔ ہمارے پاس ایک بڑی، بڑی ریلی ہے۔ کل رات کے لیے تیار رہیں۔‘

ٹرمپ نے مجمے سے یہ بھی کہا کہ ’ہر آزاد اور محب وطن امریکی کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس بڑھتے ہوئے بائیں بازو کے ظلم و ستم کے خلاف کھڑے ہونے کا وقت آچکا ہے۔‘

اپنے حامیوں سے ’بنیاد پرست بائیں بازو کے پاگلوں‘ کو مسترد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سابق صدر نے  مزید کہا کہ ہسپانوی (بولنے والے) رپبلکن امیدوار کی حمایت کریں۔‘

میامی کی تقریب میں فلوریڈا کے رپبلکن گورنر رون ڈی سینٹس نے شرکت نہیں کی۔ وہ ڈیموکریٹ امیدوار چارلی کرسٹ کے خلاف دوبارہ انتخاب لڑ رہے ہیں۔

رون ڈی سینٹس نے اس کے بجائے اتوار کو ریاست کے ایک اور حصے میں اپنی الگ الگ تقریبات کا انعقاد کیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ ’فلوریڈا رون ڈی سینٹس کو اپنے گورنر کے طور پر دوبارہ منتخب کرے گا۔‘

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق گذشتہ ماہ امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا تھا کہ وہ 2024 کے صدارتی انتخاب میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بار پھر ہرا سکتے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کو دیے گئے انٹرویو میں 79 سالہ صدر سے سوال پوچھا گیا کہ وہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے بعد 2024 کے صدارتی انتخاب میں حصہ لینے کا اعلان کریں گے اور کیا اور ان کے فیصلے میں سابق صدر ٹرمپ بھی ایک عنصر ہوں گے۔

جو بائیڈن کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک بار پھر ہرا سکتا ہوں‘ مگر ساتھ ساتھ انہوں نے 2024 کے انتخابات میں حصہ لینے کے حوالے سے کوئی حتمی جواب نہیں دیا۔

2020 کے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دی تھی۔

زیادہ پڑھی جانے والی امریکہ