عالمی تنازع وہ جنگ ہوتی ہے جس میں ممالک کے مختلف گروہوں کے درمیان ہونے والی لڑائی کے اثرات دنیا کے تقریباً ہر ملک کو متاثر کرتے ہیں۔ اس تعریف کے مطابق اب تک دو بڑی عالمی جنگیں ہو چکی ہیں: پہلی عالمی جنگ (1914 تا 1918) اور دوسری عالمی جنگ (1939 تا 1945)۔
1945 میں اقوام متحدہ کے قیام کے بعد یہ امید پیدا ہوئی تھی کہ سفارت کاری اور اجتماعی سکیورٹی کے ذریعے مستقبل میں عالمی تنازعات کو روکا جا سکے گا۔ کسی حد تک یہ ادارہ ایک اور عالمی جنگ کے خطرے کو کم کرنے میں کامیاب رہا، لیکن یہ سرد جنگ کے دوران بڑی طاقتوں، خصوصاً امریکہ اور سوویت یونین کو کمزور ممالک میں مداخلت سے روک نہ سکا۔
دو سپر طاقتوں، امریکہ اور سوویت یونین کے یکطرفہ اقدامات نے اکثر بڑے بین الاقوامی تنازعات کو حل کرنے میں اقوام متحدہ کی صلاحیت پر اعتماد کو کمزور کیا۔ کشمیر اور فلسطین جیسے معاملات پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو بارہا نظر انداز کیا گیا یا صرف جزوی طور پر نافذ کیا گیا جبکہ اس کے ذمہ دار فریقین کو محدود نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔
1991 میں سوویت یونین کے خاتمے کے بعد امریکہ دنیا کی غالب طاقت بن کر ابھرا۔ ناقدین کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی اداروں پر امریکی اثر و رسوخ افغانستان اور عراق کی جنگوں کے دوران خاص طور پر نمایاں ہو گیا۔ اس دور نے دیگر ریاستوں کو بھی یہ حوصلہ دیا کہ وہ بین الاقوامی اصولوں اور اداروں کی کم پروا کرتے ہوئے اپنے تزویراتی اور قوم پرستانہ اہداف کے حصول کی کوشش کریں۔
2022 میں یوکرین پر روس کے حملے نے اپنے ہمسایہ خطے میں اثر و رسوخ برقرار رکھنے اور نیٹو کی اپنی سرحدوں کی جانب مزید توسیع کو روکنے کے اس کے دیرینہ مقصد کی عکاسی کی۔ بہت سے لوگوں کو توقع تھی کہ امریکہ روسی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ براہ راست کردار ادا کرے گا، لیکن واشنگٹن نے زیادہ تر یوکرین کی مدد فوجی امداد، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے اور معاشی معاونت کے ذریعے کی جبکہ یورپی ممالک نے علاقائی سکیورٹی کا بڑا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا۔
سفارتی کوششیں اور معاشی پابندیاں اس تنازعے کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ اس کے باوجود یوکرین نے غیر معمولی مزاحمت کا مظاہرہ کیا ہے، جس میں جدت طرازی اور نسبتاً کم لاگت والی ٹیکنالوجیز کی تیاری نے اہم کردار ادا کیا اور یہ ٹیکنالوجیز میدان جنگ میں انتہائی مؤثر ثابت ہوئیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جیسے جیسے یوکرین کی جنگ جاری رہی، دنیا کے دیگر خطوں میں بھی کشیدگی بڑھتی گئی۔ اسرائیل، ایران اور امریکہ سے متعلق تنازعات میں شدت آنے کے بعد مشرق وسطیٰ عدم استحکام کا ایک اور بڑا مرکز بن گیا۔ ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے لیے کوئی قابل اعتبار وضاحت پیش نہیں کی گئی۔ محرکات کچھ بھی رہے ہوں، اس تنازعے نے خطے میں عدم استحکام میں اضافہ کیا ہے اور وسیع تر محاذ آرائی کے خطرے کو بڑھا دیا ہے۔
کچھ تجزیہ کاروں کا مؤقف ہے کہ الگ الگ تنازعات وقت کے ساتھ اتحادوں، فوجی تعاون، معاشی رکاوٹوں اور بڑی طاقتوں کے درمیان تزویراتی مسابقت کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑ سکتے ہیں۔
بحری تجارتی راستوں میں رکاوٹیں، اہم انفراسٹرکچر پر حملے، پراکسی جنگیں اور بڑھتی ہوئی فوجی شراکت داریاں سب ایک وسیع بین الاقوامی بحران کو جنم دینے میں کردار ادا کر سکتی ہیں۔
اگر مزید علاقائی طاقتیں براہ راست ان تنازعات میں شامل ہو گئیں تو کشیدگی میں اضافے کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔ اس بات کے متعدد اشارے موجود ہیں کہ یوکرین اور ایران کی جنگیں اب ایک بڑے عالمی تنازعے میں ضم ہو رہی ہیں۔ اس رجحان کو فوری طور پر الٹنے کی ضرورت ہے۔
ایسے تنازعات کو سفارت کاری کے ذریعے قابو میں رکھنا کئی وجوہات کی بنا پر مشکل ہو سکتا ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ اس وقت کوئی ایسا عالمی فریق موجود نہیں جس پر سب کا یکساں اعتماد ہو اور جو تمام فریقین کے درمیان مؤثر ثالثی کر سکے۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ اس تنازعے میں شامل بہت سی حکومتیں سکیورٹی خدشات، اندرونی سیاسی دباؤ، نظریاتی وابستگیوں یا قومی مفادات کے ایسے تصورات کے تحت کام کر رہی ہیں جو سمجھوتے کو مشکل بنا دیتے ہیں۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ تنازعات سے متاثرہ خطوں کے کئی ممالک اندرونی سیاسی تقسیم، کمزور اداروں یا مختلف گروہوں کے درمیان جاری کشمکش کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے پائیدار سفارتی حل حاصل کرنا مزید دشوار ہو جاتا ہے۔
حل کیا ہے؟ تمام فریقین کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ایک وسیع تر عالمی تنازعہ کسی حقیقی فاتح کو جنم نہیں دے گا۔ اس میں شامل ہر قوم کو شدید معاشی نقصان، سیاسی عدم استحکام اور انسانی مصائب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ کشیدگی کے راستے پر مزید آگے بڑھنے کی بجائے حکومتوں کو کثیر الجہتی مذاکرات کے ذریعے سفارتی روابط کو مضبوط بنانا چاہیے۔
ترکی، جنوبی افریقہ، جاپان، جرمنی اور برازیل جیسی بااثر درمیانی طاقتوں پر مشتمل ایک وسیع سفارتی اقدام مذاکرات کے لیے مؤثر راستے پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
اگرچہ ان ممالک کے مفادات اور اتحاد مختلف ہیں لیکن وہ نمایاں سفارتی، معاشی اور سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے پرامن حل کی حوصلہ افزائی کے لیے کی جانے والی کوششوں میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
نوٹ: یہ تحریر مصنف کی ذاتی رائے پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔