پاکستان اور افغانستان میں جھڑپیں جاری، ’583 افغان طالبان مارے گئے‘

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق آپریشن غضب للحق کے تحت کارروائیوں میں 583 افغان طالبان مارے گئے جبکہ 795 سے زائد زخمی ہوئے۔

چار مارچ، 2026 کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری جھڑپوں کے دوران بلوچستان کے شہر چمن میں پاکستان فوج کا ایک ٹینک کھڑا ہے (اے ایف پی)

وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے اتوار کو بتایا کہ پاکستان نے افغانستان کے اندر آپریشن ’غضب للحق‘ کے تحت کارروائیوں میں 583 افغان طالبان کو مار دیا جبکہ 795 سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔

دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان لڑائی دوسرے ہفتے میں داخل ہو گئی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان جھڑپیں 26 فروری کو اس وقت شروع ہوئیں جب افغان فورسز نے سرحد کے قریب پاکستانی فوجی تنصیبات پر اچانک حملہ کیا۔ 

افغانستان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی پاکستان کی جانب سے فروری میں افغانستان کے اندر مبینہ عسکریت پسندوں کے کیمپوں پر فضائی حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔

عطا اللہ تارڑ نے آج ایکس پر بتایا کہ آپریشن غضب للحق کے تحت شام چار بجے تک پاکستان کے حملوں میں 583 افغان طالبان مارے گئے جبکہ 795 سے زائد زخمی ہوئے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ 242 چیک پوسٹیں تباہ کی گئی جبکہ 38 کو قبضے میں لے کر مسمار کیا گیا۔

اسی طرح 213 ٹینک و بکتر بند گاڑیاں تباہ اور افغانستان میں 64 مقامات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔

اس بیان سے چند گھنٹے قبل پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے چمن سیکٹر میں پاک افغان سرحد پر کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے عسکریت پسندوں کی دراندازی کی کوشش ناکام بنائی تھی۔ 

سکیورٹی حکام کے مطابق تین سے چار گروہوں پر مشتمل عسکریت پسندوں نے رات کی تاریکی میں سرحدی باڑ کاٹ کر داخل ہونے کی کوشش کی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایک سکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا  ’فوجیوں نے بروقت نقل و حرکت کا پتہ لگایا اور جب عسکریت پسند باڑ کاٹنے کی کوشش کر رہے تھے تو ان سے جھڑپ ہوئی۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک غیر ملکی دہشت گرد مارا گیا جبکہ باقی فرار ہو گئے۔‘

پاکستان کابل پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر ٹی ٹی پی جیسے عسکریت پسند گروہوں کو پناہ دیتا ہے اور پاکستان کے خلاف حملوں میں سہولت فراہم کرتا ہے۔ 

افغانستان ان الزامات کی تردید کرتا ہے اور اسلام آباد پر زور دیتا ہے کہ وہ اپنی سکیورٹی مشکلات کا حل کابل کو مورد الزام ٹھہرائے بغیر تلاش کرے۔

افغانستان نے تنازعے کے حل کے لیے مذاکرات کی اپیل کی ہے۔ تاہم پاکستان نے کابل کے ساتھ مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کا آپریشن ’غضب للحق‘ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس کے اہداف حاصل نہیں ہو جاتے۔

کئی ممالک و بین الاقوامی اداروں نے، جن میں اقوام متحدہ اور یورپی یونین شامل ہیں، دونوں فریقوں سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کی اپیل کی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان