اسرائیل نے غزہ جانے والے فلوٹیلا پر سوار سعد ایدھی کو گرفتار کر لیا: فیصل ایدھی

فیصل ایدھی نے پاکستانی وزارتِ خارجہ سے درخواست کی ہے کہ اس غیر قانونی گرفتاری کے خلاف فوری ایکشن لیا جائے، اقوام متحدہ سے رجوع کیا جائے اور انٹرنیشنل کمیونٹی سے بھی رابطہ کیا جائے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ فیصل ایدھی نے کہا ہے کہ پیر کو اسرائیل نے امدادی سامان غزہ لے کر جانے والے فلوٹیلا پر سوار سعد ایدھی کو گرفتار کر لیا ہے۔

اسرائیلی فوج نے پیر کو قبرص کے ساحل کے قریب ان کشتیوں کو روک لیا جو غزہ تک امداد پہنچانے کی کوشش کرنے والے بین الاقوامی امدادی بحری بیڑے کا حصہ تھیں۔

’گلوبل صمود فلوٹیلا‘ نامی تنظیم کے مطابق 50 سے زائد کشتیاں گذشتہ ہفتے ترکی کے شہر مارمارس کی بندرگاہ سے غزہ کی جانب روانہ ہوئی تھیں۔ تنظیم نے اسے غزہ تک پہنچنے کی مہم کا آخری مرحلہ قرار دیا تھا۔

فیصل ایدھی نے کہا ’آج مورخہ 18 مئی 2026 کو پاکستانی وقت دوپہر 1 بجے کے قریب اسرائیلی فورسز نے انٹرنیشنل فلوٹیلا کو، جس میں سعد ایدھی بھی موجود تھے، غزہ کی طرف جاتے ہوئے سائپرس کے قریب روک کر گرفتار کیا گیا ہے۔‘

انہوں نے پاکستانی حکومت سے اپیل کی کہ وہ اپنے ایک شہری ’جو غزہ کے جنگ زدہ متاثرین کی مدد کے لیے جا رہا تھا، ان کے لیے کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات لے کر جا رہا تھا، تقریباً پانچ سو کے قریب دیگر ممالک کے افراد بھی ان کے ساتھ شامل تھے، ان سب کو اسرائیلی فورسز نے گرفتار کیا ہے۔ ہمیں ابھی بالکل نہیں پتا کہ انہیں کہاں لے جایا گیا ہے، ان کے موبائل فون وغیرہ سب چھین لیے گئے ہیں اور ان کے ساتھ کیا سلوک کیا جا رہا ہے یہ بھی معلوم نہیں۔‘

تنظیم کی لائیو نشریات میں دیکھا گیا کہ اسرائیلی فوجیوں کی کشتی قریب آنے پر کارکنوں نے لائف جیکٹس پہن لیں اور ہاتھ بلند کر دیے۔ بعد ازاں اسرائیلی اہلکاروں نے جہاز پر چڑھائی کی جس کے فوراً بعد لائیو نشریات بند ہو گئیں۔

تنظیم کے مطابق ابتدائی تین گھنٹوں میں کم از کم 17 کشتیوں کو روک لیا گیا۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ سے تقریباً 250 ناٹیکل میل دور بین الاقوامی پانیوں میں کارروائی کی۔ اس بار ماضی کے برعکس دن کی روشنی میں کشتیوں پر چڑھائی کی گئی۔

فیصل ایدھی نے پاکستانی وزارتِ خارجہ سے درخواست کہ وہ ’اس غیر قانونی گرفتاری کے خلاف فوری ایکشن لیں، اقوام متحدہ سے رجوع کریں اور انٹرنیشنل کمیونٹی سے بھی رابطہ کریں تاکہ اسرائیلی فورسز کے اس غیر انسانی اور غیر قانونی اقدام کے خلاف آواز اٹھائی جائے اور غزہ کے اندر جاری انسانی بحران اور مبینہ جینوسائیڈ کو روکا جائے اور متاثرین تک امداد پہنچانے میں کردار ادا کیا جائے۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسرائیل 2007 سے غزہ پر بحری ناکہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہے، جب حماس نے فلسطینی پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کے بعد غزہ کا کنٹرول سنبھالا تھا۔

حماس نے اسرائیلی کارروائی کو ’کھلی بحری قزاقی‘ قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے غزہ کی ناکہ بندی ختم کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ترکی نے بھی اسرائیلی اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کشتیوں میں موجود کارکنوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔

تنظیم کے مطابق اس مہم میں 45 ممالک سے تعلق رکھنے والے تقریباً 500 کارکن شریک ہیں۔ گذشتہ ماہ بھی اسرائیلی فورسز نے یونان کے قریب 20 سے زائد کشتیوں کو روک لیا تھا اور متعدد کارکنوں کو حراست میں لے کر بعد میں ملک بدر کر دیا تھا۔

فلوٹیلا منتظمین کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد غزہ میں انسانی بحران اور وہاں کے دو ملین سے زائد رہائشیوں کو درپیش خوراک، ادویات اور رہائش کی شدید قلت کی جانب عالمی توجہ مبذول کروانا ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا