ایران کے دارالحکومت تہران میں اتوار کی صبح سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ گرینڈ مصلیٰ کمپلیکس میں ادا کر دی گئی ہے جس میں لاکھوں ملکی اور غیرملکی افراد نے شرکت کی۔
سابق سپریم لیڈر کی نماز جنازہ میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان سمیت کئی سیاسی اور مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی جبکہ دو روز سے جاری ان آخری رسومات میں پاکستان سمیت 100 سے زائد غیرملکی وفود بھی شریک ہوئے۔
علی خامنہ ای 86 سال کی عمر میں رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے میں مارے گئے تھے۔
وہ 1989 سے 28 فروری 2026 تک ایران میں حکمران رہے۔
ان کی موت کے بعد ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر نامزد کیا گیا ہے تاہم امریکہ اور اسرائیل کے ابتدائی حملے کے بعد سے وہ منظرعام پر نہیں آئے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ والد پر ہونے والے حملے میں زخمی ہو گئے تھے۔
علی خامنہ ای کی نماز جنازہ کے موقع پر پورے ملک میں اتوار کو عام تعطیل کا اعلان کیا گیا ہے۔ شام کو علی خامنہ ای کی میت گرینڈ مصلیٰ کمپلیکس سے روانہ ہو گی جہاں اسے پیر کو دارالحکومت میں نکالے جانے والے جلوسوں کی تیاری کے سلسلے میں عوامی دیدار کے لیے رکھا گیا ہے۔
ایرانی سابق سپریم لیڈر کے جسد خاکی کو بعد میں قم اور وہاں سے عراق لے جایا جائے گا جس کے بعد مشہد میں ان کی تدفین کی جائے گی۔
The crowd gathered at the Tehran's Imam Khomeini Mosalla, hours before the funeral prayer over the body of the martyred Leader. pic.twitter.com/kECy7T4AJa
— IRNA News Agency ☫ (@IrnaEnglish) July 5, 2026
ہفتے کو ایرانی شہریوں کی بہت بڑی تعداد علی خامنہ ای کی آخری رسومات کے آغاز کے لیے تہران میں جمع ہو گئی تھی۔ ایرانی حکام کو امید ہے کہ یہ تعداد امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے بعد یہ مزاحمت کا پیغام ثابت ہوں گی۔
اس موقعے پر 38 سالہ عالم دین محمد میرصالحی نے کہا کہ ’سپریم لیڈر ہم سب کے لیے باپ تھے۔ ان کی وفات سے ہم سب یتیم ہو گئے ہیں۔‘
تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ علی خامنہ ای کے تابوت پر سیاہ عمامہ رکھا گیا ہے۔ ان کے تابوت سمیت 28 فروری کے حملے میں جان سے جانے والے خاندان کے چار افراد جن میں ان کی شیر خوا پوتی بھی شامل ہے، کے تابوت بلند چبوترے پر رکھے گئے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
پانچ ہفتے کی شدید لڑائی کے بعد مشرق وسطیٰ کی جنگ جنگ بندی اور امریکہ کے ساتھ ابتدائی معاہدے کے بعد فی الحال بند ہے۔ تاہم واشنگٹن اور تہران دونوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی وقت دوبارہ لڑائی شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ایران سے باہر علی خامنہ ای کی آخری رسومات کو حکومت کے لیے عوامی حمایت کے امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ حمایت جنگ سے پہلے جنوری میں ہونے والے بڑے عوامی احتجاج کے بعد سامنے آئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جنوری کے احتجاج کو سخت کارروائی کے ذریعے دبا دیا گیا تھا اور اس میں ہزاروں افراد مارے گئے تھے۔
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ہفتے اپنے خطاب میں کہا کہ ’آج مختلف مقامات پر عوام کے جذبات، آنسوؤں اور پرجوش شرکت میں جو کچھ دیکھا جا رہا ہے، وہ ایرانی قوم اور دنیا کے آزاد لوگوں کے درمیان ان کے مقام کی سب سے واضح علامت ہے۔‘
انہوں نے خاص طور پر اسرائیل پر الزام لگایا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں ’عدم استحکام پیدا کرنے والا عنصر‘ ہے۔
انہوں نے مزید کہا، ’مسلمانوں نے دکھا دیا ہے کہ وہ ظلم اور دھونس کے سامنے ہار نہیں مانیں گے۔‘