امید ہے پاکستان جلد امریکہ – ایران مذاکرات کی میزبانی کرے گا: شہباز شریف

صدر ٹرمپ کے مطابق ایران سے ’معاہدہ بڑی حد‘ تک طے پا چکا ہے، سعودی عرب نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو اجاگر کیا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 22 جنوری، 2026 کو ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کی سالانہ میٹنگ کے دوران منعقد ہونے والے ’بورڈ آف پیس‘ اجلاس میں (اے ایف پی)

وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو ایکس پر جاری ایک بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان جلد امریکہ اور ایران کے درمیان مذکرات کے اگلے دور کی میزبانی کرے گا۔

شہباز شریف نے، جو اس وقت چین میں موجود ہیں، ایکس پر کہا ’میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو امن کے قیام کے لیے ان کی غیر معمولی کوششوں پر مبارک باد پیش کرتا ہوں اور آج ہونے والی اس اہم اور نتیجہ خیز ٹیلیفونک گفتگو کو سراہتا ہوں۔‘

انہوں نے کہا ’پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کی اور میں اس پورے عمل کے دوران ان کی انتھک کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہوں۔

’اس گفتگو نے خطے کی موجودہ صورت حال پر تبادلۂ خیال اور جاری امن کوششوں کو آگے بڑھانے کے حوالے سے ایک مؤثر موقع فراہم کیا تاکہ خطے میں دیرپا امن کی راہ ہموار کی جا سکے۔‘

شہباز شریف کے مطابق ’پاکستان مکمل خلوص کے ساتھ اپنی امن کوششیں جاری رکھے گا اور ہمیں امید ہے کہ مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی بہت جلد پاکستان میں کی جائے گی۔‘

ایران سے معاہدہ بڑی حد تک طے پا چکا: ٹرمپ

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ایران سے ’ایک معاہدہ بڑی حد‘ تک طے پا چکا ہے، جس کی حتمی منظوری امریکہ، ایران اور دیگر متعلقہ ممالک کے درمیان ہونا باقی ہے۔

انہوں نے ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان کی سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان، پاکستان کے فیلڈ مارشل سمیت متحدہ عرب امارات، قطر، ترکی، مصر، اردن اور بحرین کی قیادت سے ایران اور خطے میں امن سے متعلق امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ان کا مزید کہنا تھا کہ گفتگو کا محور ایران اور امن کے قیام سے متعلق ایک مجوزہ ’مفاہمتی یادداشت‘ تھی۔

ٹرمپ نے کہا کہ معاہدے کی حتمی تفصیلات اس وقت زیر غور ہیں اور جلد اس کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔

اپنے بیان میں ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس کے تحت آبنائے ہرمز کو بھی کھول دیا جائے گا، جو عالمی تجارت کے لیے ایک نہایت اہم بحری راستہ سمجھا جاتا ہے۔

نیوز ویب سائٹ ایکسِیوس نے ایک امریکی عہدے دار کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکہ اور ایران ایک ایسے معاہدے پر دستخط کرنے کے انتہائی قریب پہنچ چکے ہیں جس میں جنگ بندی میں 60 دنوں کی توسیع شامل ہے۔

اس مدت کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دیا جائے گا، ایران کو آزادانہ طور پر تیل بیچنے کی اجازت ہو گی اور ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے حوالے سے مذاکرات کیے جائیں گے۔

’مذاکرات میں بامعنی پیش رفت‘

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اتوار کو کہا کہ مذاکرات میں ’بامعنی پیش رفت‘ ہوئی ہے، جس سے اس امید کو تقویت ملتی ہے کہ ایک مثبت اور پائیدار نتیجہ جلد حاصل کر لیا جائے گا۔

پاکستانی ثالثی کی تعریف

سعودی وزرات خارجہ نے صدر ٹرمپ کی ولی عہد محمد بن سلمان اور دیگر علاقائی رہنماؤں سے اس مشترکہ گفتگو کے حوالے سے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ بات چیت میں خطے کی موجودہ صورت حال کی تازہ ترین پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔

بیان کے مطابق ’رہنماؤں نے صدر ٹرمپ کی قیادت اور خطے کے رہنماؤں کے ساتھ مشاورت اور ہم آہنگی کے لیے ان کی گہری دلچسپی کو بھرپور سراہا۔

’ساتھ ہی انہوں نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی ثالثی کی کوششوں اور ریاست قطر کی کوششوں کو نمایاں طور پر اجاگر کیا، جن کا مقصد ایک ایسے معاہدے تک پہنچنا ہے جو کشیدگی کا خاتمہ کرے اور خطے کے امن، تحفظ اور استحکام کو فروغ دے۔‘

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا