انڈیا سیلاب زدہ سری لنکا کے لیے امدادی سامان روک رہا ہے: پاکستان

پاکستان کے دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ انڈیا کی جانب سے گذشتہ رات جزوی فلائٹ کلیئرنس دی گئی تھی، وہ 48 گھنٹے کی تاخیر کے بعد بھی عملی طور پر غیر مؤثر تھی۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے منگل کو کہا ہے کہ سری لنکا میں سیلاب متاثرین کے لیے بھیجی جانے والی امداد کو انڈیا کی جانب سے مسلسل روکا جا رہا ہے۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان سے امدادی سامان سری لنکا لے جانے والے خصوصی طیارے کو گذشتہ 60 گھنٹوں سے تاخیر کا سامنا ہے جس کی وجہ انڈیا سے فلائٹ کلیئرنس نہ ملنا ہے۔‘

بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ ’انڈیا کی جانب سے گذشتہ رات جزوی فلائٹ کلیئرنس دی گئی تھی، وہ 48 گھنٹے کی تاخیر کے بعد بھی عملی طور پر غیر مؤثر تھی۔

’اجازت صرف چند گھنٹوں کے لیے محدود تھی اور واپسی کی پرواز کے لیے بھی کوئی منظوری شامل نہیں تھی، جس سے سری لنکا کی برادر عوام کے لیے اس ہنگامی امدادی مشن میں شدید رکاوٹ پیدا ہوئی۔‘

اس سے قبل پاکستان کے سفارتی حکام کا کہنا تھا کہ انڈیا نے پاکستان کو سری لنکا میں سیلاب متاثرین کے لیے انسانی امدادی پروازوں کے لیے راہداری کی اجازت دے دی۔

پیر کو سفارتی ذرائع نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ انڈیا نے یہ اجازت مختصر وقت کے  لیے دی ہے۔

 پاکستان نے پیر کو بھی سری لنکا میں حالیہ تباہ کن سمندری طوفان ’ڈٹوہ‘ کے بعد جاری انسانی ہمدردی کی امدادی سرگرمیوں میں رکاوٹ ڈالنے کے انڈیا کے رویے پر شدید افسوس اور تشویش کا اظہار کیا تھا۔

ریسکیو ٹیم اور امدادی سامان کو انڈین فضائی حدود نہ دینے پر اسلام آباد نے اس اقدام کو ’اخلاقی تقاضوں کے منافی‘ اور ’انسانی جانوں سے کھیلنے‘ کے مترادف قرار دیا تھا۔

رواں سال مئی میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد پاکستان اور انڈیا نے ایک دوسرے کے طیاروں پر اپنی فضائی حدود کے استعمال پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان فضائی حدود کی ان پابندیوں میں مسلسل توسیع سے قبل دونوں جوہری طاقتیں سات مئی کو کشمیر میں ایک شدت پسند حملے کے بعد انڈیا کی فضائی کارروائی کے نتیجے میں مکمل جنگ کے دہانے پر آ گئی تھیں۔

پی ٹی وی کے مطابق انڈین حکومت نے فضائی اجازت دینے سے انکار کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے سری لنکا بھیجے جانے والے ریسکیو اور ریلیف مشن میں تاخیر پیدا کر دی۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا ہے جب سری لنکا کے ساحلی علاقوں میں 28 نومبر کو آنے والے سمندری طوفان ڈٹوہ نے زبردست تباہی پھیلائی، درجنوں افراد مارے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے جبکہ ایک بڑی تعداد بے گھر ہو گئی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اس دوران پاکستان بحریہ کا بحری جہاز پی این ایس سیف، جو کولمبو میں انٹرنیشنل فلیٹ ریویو 2025 کے سلسلے میں پہلے سے موجود ہے، امدادی سرگرمیوں میں حصہ لے رہا ہے۔

پاکستان کی حکومت اور عوام نے اس مشکل وقت میں سری لنکا کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے متعلقہ اداروں کو فوری طور پر ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی خصوصی ہدایات دی ہیں۔

پاکستان کی 45 رکنی اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم این ڈی ایم اے اور فضائیہ کے تعاون سے سی 130 طیارے کے ذریعے سری لنکا روانگی کے لیے تیار تھی تاہم انڈین فضائی حدود کی بندش کے بعد یہ مشن سست روی کا شکار ہو گیا ہے۔

این ڈی ایم اے نے 100 ٹن امدادی سامان تجارتی کارگو طیاروں کے ذریعے بھیجنے کی کوشش بھی کی، مگر یہ پروازیں بھی انڈین فضا کے راستے کی پابندی کے باعث تاخیر کا شکار تھیں۔ حکام کے مطابق امدادی کھیپ کو اب متبادل طویل بحری راستہ اختیار کرنا پڑتا جس کے ذریعے سامان تقریباً آٹھ دن میں سری لنکا پہنچتا۔

دوسری جانب، جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک بھی اس وقت قدرتی آفات سے نمٹنے میں مصروف ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق انڈونیشیا، سری لنکا اور تھائی لینڈ میں حالیہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث مجموعی طور پر ایک ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں۔ تینوں ممالک میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں جبکہ انڈونیشیا کے صدر پروباؤو سبیانتو نے متاثرہ علاقوں کے دورے کے دوران بنیادی ڈھانچے کی بحالی اور متاثرہ خاندانوں کی مدد جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

سری لنکا میں اب تک 218,000 سے زائد افراد عارضی پناہ گاہوں میں منتقل کیے جا چکے ہیں جبکہ تھائی لینڈ میں حکومت متاثرین کو ہنگامی امداد اور مالی معاونت فراہم کر رہی ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا