سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے منگل کو ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے فون پر گفتگو میں کہا کہ مملکت اپنی فضائی حدود یا سرزمین کو ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق، ولی عہد نے صدر پزشکیان کو بتایا کہ سعودی عرب ایران کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور ایسے تمام اقدامات کی حمایت کرتا ہے جو مکالمے کے ذریعے تنازعات کے حل کا باعث بنیں اور خطے میں سلامتی اور استحکام کو فروغ دیں۔
صدر پزشکیان نے ایران کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر مملکت کے ثابت قدم مؤقف پر اظہارِ تشکر کیا اور خطے میں سلامتی اور استحکام کے لیے ولی عہد کی کوششوں پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
اس سے قبل ایرانی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ صدر پزشکیان نے کہا کہ تہران ہمیشہ ایسے کسی بھی عمل کا خیر مقدم کرتا ہے جو بین الاقوامی قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے جنگ کو روکنے میں مدد دے۔
صدر پزشکیان نے شہزادہ محمد بن سلمان کو یہ بھی بتایا کہ اسلامی ممالک کی ’وحدت اور یکجہتی‘ خطے میں ’پائیدار سلامتی، استحکام اور امن‘ کی ضمانت بن سکتی ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ایرانی صدر کے دفتر نے منگل کو بتایا کہ مسعود پزشکیان نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے ساتھ ایک ٹیلیفون کال میں امریکی ’دھمکیوں‘ پر کہا کہ ان کا مقصد ’خطے کی سلامتی کو درہم برہم کرنا ہے اور اس سے عدم استحکام کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہو گا۔‘
ایرانی صدر نے امریکی طیارہ بردار جہاز کے خطے میں پہنچنے کے بعد سعودی ولی عہد کو فون کیا۔
مسعود پزشکیان کے دفتر کے مطابق انہوں نے شہزادہ محمد بن سلمان کو بتایا کہ ’امریکیوں کی دھمکیوں اور نفسیاتی کارروائیوں کا مقصد خطے کی سلامتی کو درہم برہم کرنا ہے اور ان (کے خطے) کے لیے عدم استحکام کے علاوہ کچھ حاصل نہیں ہو گا۔‘
واشنگٹن نے ایران میں مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن پر تہران کے خلاف فوجی مداخلت کو مسترد نہیں کیا ہے۔
امریکہ مشرق وسطیٰ میں اب بھی کئی اڈے بھی برقرار رکھے ہوئے جن کے متعلق ایران پاسداران انقلاب کے کمانڈر نے منگل کو پڑوسی ممالک کو انتباہ جاری کیا۔
فارس نیوز ایجنسی نے آئی آر جی سی کی بحری افواج کے سیاسی نائب محمد اکبر زادہ کے حوالے سے بتایا کہ ’پڑوسی ممالک ہمارے دوست ہیں، لیکن اگر ان کی سرزمین، آسمان یا پانی ایران کے خلاف استعمال ہوتا ہے تو وہ دشمن تصور کیے جائیں گے۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ولی عہد نے پیزشکیان کو بتایا ہے کہ ریاض ’اپنی فضائی حدود یا اپنی سرزمین کو ایران کے خلاف کسی فوجی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔‘
چونکہ ایران نے اس ماہ کے شروع میں ملک میں ہونے والے مظاہروں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا تھا اور ملک میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ بھی تھا تو اس صورت حال میں امریکی صدر ٹرمپ نے ایران پر فوجی کارروائی سے متعلق ملے جلے اشارے دیے ہیں۔
امریکی فوج کی طرف سے لاطینی امریکی ملک کے صدر نکولس مادورو کو پکڑے جانے کے چند ہفتوں بعد، ٹرمپ نے پیر کو ایکسیوس نیوز سائٹ کو بتایا کہ ہمارے پاس ایران کے قریب ایک بڑا بحری آرمڈ جہاز ہے جو وینزویلا کے قریب موجود امریکی جہاز سے بھی بڑا ہے۔
لیکن انہوں نے مزید کہا کہ ’وہ (ایران) معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ میں جانتا ہوں انہوں نے متعدد مواقع پر فون کیا، وہ بات کرنا چاہتے ہیں۔‘
تہران نے پہلے ہی کہہ چکا ہے کہ دونوں ممالک میں سفارتی تعلقات کی کمی کے باوجود وزیر خارجہ عباس عراقچی اور امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف کے درمیان رابطے کا ایک چینل کھلا ہے۔
نیویارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ کو متعدد امریکی انٹیلی جنس رپورٹس موصول ہوئی ہیں ’جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی حکومت کی پوزیشن کمزور ہو رہی ہے‘ اور یہ کہ شاہ کے زوال کے بعد سے اقتدار پر اس کی گرفت ’اپنے کمزور ترین موڑ پر ہے۔‘