قدیم مصر میں بندروں کی ممیوں کا راز بالآخر کھل گیا

یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ قدیم مصر کے لوگ ان بندروں کی ممیاں کس مقصد کی خاطر بناتے تھے؟

1909 میں آمنہوتپ دوم کے مقبرے سے برآمد ہونے والی ببون بندروں کی ممیاں (پبلک ڈومین)

ایک نئی تحقیق نے اس دیرینہ راز سے پردہ اٹھا دیا ہے کہ پرائمیٹس (بندر نما ممالیہ جانوروں کی ایک قسم) اپنی قدرتی رہائش گاہ سے اتنی دور کیسے موجود تھے۔ اس تحقیق کے مطابق قدیم مصر میں پائے جانے والے ببون ممکنہ طور پر دور دراز علاقوں سے لائے کیے گئے تھے اور انہیں قید میں رکھا گیا تھا۔

اس سے قبل مصر میں پائے جانے والے ببونوں کے آثار نے محققین کو حیران کر دیا تھا کیونکہ یہ بندر مصر کا مقامی جانور نہیں ہے۔ اس بات کا بھی کوئی ثبوت نہیں ہے کہ یہ جانور ماضی میں اس علاقے میں آباد تھا۔

اکثر یہ قیاس لگایا جاتا ہے کہ مومیائے گئے ببونوں کو ممکنہ طور پر لوگوں کی طرف سے نذرانہ دینے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ اس پرائمیٹ جانور کو قدیم مصر میں جانوروں کے طور پر پیش کیے گئے مختلف دیوتاؤں میں دیوتا تھوتھ کے نمائندہ کردار تک پہنچا دیا گیا تھا جو سیکھنے اور حکمت کا دیوتا مانا جاتا ہے۔

جریدے ’ای لائف‘ میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق کے مطابق ببونوں کو ممکنہ طور پر دور دراز علاقوں سے لایا کیا گیا تھا اور ان کی ممیاں بنانے سے قبل قدیم مصر میں قید میں رکھا گیا تھا۔

تازہ ترین نتائج سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس جانور کے خطرناک دانت نکال دیے گئے تھے۔

سائنس دانوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ قدیم مصریوں کا غیر ملکی جانوروں کے ساتھ کس حد تک رابطہ تھا، حالانکہ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ وہ کون سی چیز تھی جس کی بنا پر قدیم مصری اس جانور کو خاص سمجھتے تھے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے جانوروں کی ممیوں کے خلیوں کے اندر پاور ہاؤسز – مائٹوکونڈریا – میں جینوم کا تجزیہ کر کے اس علاقے کا سراغ لگایا جہاں سے یہ ببون لائے گئے تھے۔

نئے مطالعے میں جن ممیوں کا تجزیہ کیا گیا ہے ان میں سے ایک 1905 کے اندر ’بندروں کی وادی‘ میں کھدائی سے نکالا گیا تھا۔ اب اسے فرانس کے شہر لیون میں موجود سائنس سینٹر اور اینتھروپولوجی میوزیم میوزے دے کنفلینسز میں رکھا گیا ہے۔

آثار قدیمہ کے ماہرین نے ببون ممی کے نمونے کو قدیم مصر کے آخری دور میں 800 سے 500 قبل مسیح کے درمیان بتایا ہے۔

محققین نے جینوم کا موازنہ براعظم افریقہ کے ان ببونوں سے کیا جن کے جینیاتی تنوع کا اچھی طرح مطالعہ کیا گیا ہے۔

اس تحقیق کی شریک مصنفہ گیسیلا کوپ کا کہنا ہے، ’ہمارے پاس تقریباً ان تمام خطوں کے تقابلی نمونے موجود ہیں جہاں آج ببون رہتے ہیں۔‘

اگرچہ تاریخی متونوں میں ایک قدیم علاقے ’پنٹ‘ کا ذکر ببونوں کی اصل جگہ کے طور پر کیا گیا ہے۔ اس علاقے سے مصر صدیوں تک پرتعیش سامان درآمد کرتا رہا ہے۔

ڈاکٹر کوپ نے کہا، ’مصری ماہرین طویل عرصے سے پنٹ کے بارے میں الجھن کا شکار رہے ہیں، کیونکہ کچھ سکالرز نے اسے ابتدائی عالمی سمندری تجارتی نیٹ ورکس میں ایک مقام کے طور پر دیکھا ہے، اور اس طرح اقتصادی گلوبلائزیشن کا نقطہ آغاز ہے۔‘

نئے مطالعے میں جینیاتی تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ ممی کے نمونے کی ابتدا شمال مشرقی افریقی ملک اریٹریا کے ایک علاقے سے ہوئی ہے، جسے قدیم زمانے میں ادولس کہا جاتا تھا۔ یہ پرتعیش سامان اور جانوروں کے لیے تجارتی مرکز کے طور پر کام کرتا تھا۔

تازہ ترین نتائج کی بنیاد پر، محققین نے دلیل دی کہ پنٹ اور ادولس ایک ہی جگہ کے دو مختلف نام ہیں جو مختلف اوقات میں استعمال کیے گئے تھے۔

ڈاکٹر کوپ کا کہنا تھا، ’جب ہم نے اپنے حیاتیاتی نتائج کو تاریخی تحقیق کے تناظر میں پیش کیا تو یہ کہانی مکمل ہو گئی۔‘

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی افریقہ