کئی دہائیوں پر محیط ایک تحقیق کے مطابق انسان کی جسمانی صلاحیت 35 برس کی عمر میں عروج پر ہوتی ہے، جس کے فوراً بعد یہ بتدریج کم ہونا شروع ہو جاتی ہے۔
تاہم تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ اگر ورزش دیر سے بھی شروع کی جائے تو مجموعی صحت کے لیے فائدہ مند ہو سکتی ہے۔
محققین نے زور دیا ہے کہ اگرچہ اس عمر کے بعد فٹنس، طاقت اور پٹھوں کی برداشت میں تبدیلی آ سکتی ہے، لیکن ورزش شروع کرنے کے لیے کبھی بہت دیر نہیں ہوتی۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ زندگی کی چھٹی دہائی میں پٹھوں کے بافتوں کی کارکردگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے، جس سے انسان کی خود مختار زندگی گزارنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
اب تک محققین اس حوالے سے معلومات حاصل کرنے کے لیے مخصوص اوقات میں منتخب افراد پر کی جانے والی تحقیقات پر انحصار کرتے رہے ہیں۔
اس کے برعکس سویڈن کے کیرولنسکا انسٹی ٹیوٹ کی تازہ تحقیق میں 1958 میں پیدا ہونے والے 400 سے زائد بے ترتیب طور پر منتخب مردوں اور خواتین کو 47 برس تک فالو کیا گیا اور 16 برس سے 63 برس کی عمر تک باقاعدگی سے ان کی فٹنس اور طاقت کی پیمائش کی گئی۔
نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ فٹنس اور طاقت میں کمی 35 برس کی عمر سے ہی شروع ہو جاتی ہے، چاہے کتنی ہی ورزش کی جائے۔
جرنل آف کیشیکشیا، سارکوپینیا اینڈ مسل میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق 35 برس کے بعد جسمانی صلاحیت میں بتدریج کمی آتی ہے جو عمر بڑھنے کے ساتھ تیز ہو جاتی ہے۔
سائنس دانوں نے لکھا ’ابتدا میں کمی کی رفتار کم تھی، لیکن عمر کے ساتھ دونوں جنسوں میں اس میں اضافہ ہوا اور مردوں اور خواتین کے درمیان کوئی فرق نہیں پایا گیا۔‘
انہوں نے لکھا ’عروج سے لے کر 63 برس کی عمر تک جسمانی صلاحیت میں مجموعی کمی 30 فیصد سے 48 فیصد کے درمیان رہی۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ان نتائج سے نئی روشنی پڑتی ہے کہ وقت کے ساتھ جسمانی صلاحیت کس طرح بدلتی ہے۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ نتائج ماضی میں اعلیٰ درجے کے کھلاڑیوں پر ہونے والی تحقیق سے بھی مطابقت رکھتے ہیں۔
انہوں نے لکھا ’یہ اس تصور کی تصدیق کرتا ہے کہ 40 برس کی عمر سے پہلے ہی جسمانی صلاحیت میں کمی دیکھی جا سکتی ہے جو بعد میں خاص طور پر غیر متحرک طرزِ زندگی رکھنے والے افراد میں طبی طور پر اہم جسمانی خرابی کا باعث بن سکتی ہے۔‘
تاہم محققین کا کہنا ہے کہ ’ورزش شروع کرنے میں کبھی بہت دیر نہیں ہوتی۔‘
سائنس دانوں کے مطابق حتیٰ کہ وہ افراد بھی جنہوں نے بالغ ہونے کے بعد جسمانی سرگرمی شروع کی، اپنی جسمانی صلاحیت میں پانچ سے 10 فیصد تک بہتری لانے میں کامیاب رہے۔
تحقیق کی مرکزی مصنف ماریہ ویسٹرسٹول کہتی ہیں ’ہماری تحقیق سے ظاہر ہوتا ہے کہ جسمانی سرگرمی کارکردگی میں کمی کی رفتار کو سست کر سکتی ہے، اگرچہ اسے مکمل طور پر روک نہیں سکتی۔‘
مزید تحقیقات میں محققین یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ انسان 35 برس کی عمر میں اپنی اعلیٰ ترین کارکردگی تک کیوں پہنچتا ہے اور ’جسمانی سرگرمی کارکردگی میں کمی کو سست کیوں کر سکتی ہے، لیکن اسے مکمل طور پر روک کیوں نہیں پاتی۔‘
سائنس دانوں کو امید ہے کہ وہ آئندہ سال اسی تحقیق کو انہی شرکا کے ساتھ جاری رکھیں گے، جب ان کی عمر 68 برس ہو گی۔
وہ جسمانی صلاحیت، طرزِ زندگی، صحت اور حیاتیاتی عوامل کے درمیان روابط تلاش کرنا چاہتے ہیں۔
© The Independent