ایران، ترک سرحد پر ملنے والی لاش پاکستانی کی ہے: سفارت خانہ

ایران میں پاکستان سفیر کے مطابق بظاہر شدید سردی سے فوت ہونے والے ارمان اللہ سمگلرز کا نشانہ بنے۔

ترکی کے مشرقی صوبے وان میں ترکی اور ایران کی سرحد پر قائم پہرے کے مینار پر تعینات ترک فوجی یکم نومبر 2024 کو سرحد کی نگرانی کرتے ہوئے (اوزان کوسے / اے ایف پی)

ایران میں پاکستانی سفیر  مدثر ٹیپو نے اتوار کو ایکس پر ایک بیان میں ایران میں پاکستانی نوجوان ارمان اللہ کی موت کی تصدیق کر دی۔

انہوں نے بیان میں بتایا کہ ارمان اللہ سے متعلق ایک فیس بک پوسٹ کے بعد پاکستانی سفارت خانے نے فوری طور پر ارمان اللہ کے بارے میں تفصیلات اکٹھی کرنا شروع کیں۔ 

سفیر کے مطابق ارمان اللہ کا انتقال ایران–ترکی سرحد کے قریب شہر خوئی میں ہوا جبکہ ان کی میت اس وقت ایک مقامی ہسپتال میں محفوظ ہے۔

مدثر ٹیپو کے مطابق ابتدائی معلومات سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ ان کی موت شدید سردی اور برف باری کے باعث ہوئی۔

انہوں نے کہا اس بات کا قوی شبہ ہے کہ وہ انسانی سمگلرز کا شکار بنے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے مزید بتایا کہ سفارت خانے کا ارمان کے خاندان سے رابطہ ہو گیا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ لاش جلد از جلد پاکستان منتقل کی جائے۔ 

سفارت خانے نے ارمان کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ایک بار پھر پاکستانی شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ انسانی اسمگلرز کے فریب اور گھناؤنے جرائم سے خود کو محفوظ رکھیں۔

پاکستانی سفارت خانے اس وقت متحرک ہوا جب ولی اللہ معروف نامی صارف نے فیس بک پر ایک تفصیلی پوسٹ میں کہا کہ فوت ہونے والا نوجوان ارمان اللہ ولد رحمان اللہ ہے، جو ضلع نوشہرہ، خیبرپختونخوا کے علاقے اکوڑہ خٹک سے تعلق رکھتا تھا۔

پوسٹ کے مطابق ارمان اللہ 27 اکتوبر، 2025 سے لاپتہ تھے۔

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان