حماس غزہ میں قائم ہونے والی نئی امریکی حمایت یافتہ فلسطینی انتظامیہ میں اپنی پولیس اور سرکاری ملازمین کو شامل کرنے کی خواہاں ہے، جبکہ اسرائیل کسی بھی حماس سے وابستہ اہلکار کو مستقبل کے انتظامی ڈھانچے میں شامل کرنے کی سخت مخالفت کر رہا ہے۔
خبر رساں ادارے روئٹرز کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حماس چاہتی ہے کہ اس کے زیرِ انتظام تقریباً 10 ہزار پولیس اہلکار اور 40 ہزار سے زائد سرکاری و سکیورٹی ملازمین اپنی ملازمتیں برقرار رکھیں اور انہیں نیشنل کمیٹی فار ایڈمنسٹریشن آف غزہ (NCAG) میں ضم کیا جائے۔
یہ کمیٹی ایک ٹیکنوکریٹک ادارہ ہو گا جو امریکی نگرانی میں کام کرے گا اور جس کا مقصد غزہ کی عبوری حکمرانی سنبھالنا ہے۔
25 جنوری 2026 کو حماس کی جانب سے اپنے ملازمین کو لکھے گئے ایک خط میں انہیں نئی انتظامیہ سے تعاون کی ہدایت کی گئی ہے اور یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ تنظیم ان کے حقوق کے تحفظ اور انہیں نئے حکومتی ڈھانچے میں شامل کرانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تاہم اسرائیل پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ غزہ کے مستقبل میں حماس سے وابستہ کسی بھی فرد کو کوئی کردار دینے کے حق میں نہیں۔ وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت غزہ کی حکمرانی بتدریج نئی انتظامیہ کے حوالے کی جا رہی ہے، جبکہ حماس کو اپنے ہتھیار ڈالنے پر بھی مذاکرات کرنا ہوں گے۔ امریکی منصوبے کے مطابق بھاری ہتھیار فوری طور پر غیر مؤثر بنائے جائیں گے اور ذاتی اسلحہ رجسٹر کرکے مرحلہ وار ضبط کیا جائے گا۔
حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا ہے کہ تنظیم نئی انتظامیہ کو اقتدار منتقل کرنے کے لیے تیار ہے اور اس بات پر زور دیا کہ تجربہ کار عملے کو نظرانداز نہ کیا جائے۔
دوسری جانب امریکی حکام کا کہنا ہے کہ حماس کے جنگجوؤں کے لیے ممکنہ طور پر عام معافی جیسے آپشنز پر بھی غور ہو رہا ہے۔
روئٹرز ذرائع کے مطابق حماس اس وقت بھی سینکڑوں راکٹ اور ہزاروں ہلکے ہتھیار رکھتی ہے، تاہم اس نے دیگر فلسطینی دھڑوں اور ثالثوں کے ساتھ غیر مسلح ہونے پر بات چیت پر آمادگی ظاہر کی ہے، اگرچہ ابھی تک اسے کوئی واضح اور تحریری منصوبہ فراہم نہیں کیا گیا۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا ہے کہ غزہ معاہدے کے اگلے مرحلے کا مقصد تعمیر نو نہیں بلکہ پٹی کو غیر فوجی بنانا اور حماس کو غیر مسلح کرنا ہے۔