میراڈونا کی 16 سالہ لڑکی کے ساتھ ہوٹل میں نئی ویڈیو

ہسپانوی نیوز ویب سائٹ انفوبے کی جانب سے حاصل کی گئی یہ ویڈیو میراڈونا کے ساتھیوں کے خلاف انسانی سمگلنگ کے مقدمے کے دوران سامنے آئی ہے جس میں انہیں خاتون کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔

1986 کی میراڈونا کی ایک تصویر۔  وہ ارجنٹائن میں ہیرو اور اب تک کے عظیم ترین فٹ بالرز میں سے ایک ہیں۔ ( اے ایف پی/فائل فوٹو)

ایک نئی ویڈیو منظر عام پر آئی ہے جس میں ایک خاتون کے ان دعووں کی توثیق کی ہے کہ فٹ بال لیجنڈ میراڈونا نے انہیں 16 سال کی عمر میں ورغلایا، انہیں منشیات دیں اور انہیں ہوٹل میں بند رکھا۔

ماویز الواریز کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ انہیں اپنے والدین کی اجازت کے بغیر میراڈونا کے ساتھیوں نے تیار کرکے اپنے آبائی کیوبا سے ارجنٹائن لے جانے کے بعد چھاتی کی پیوند کاری کروانے پر مجبور کیا تھا۔

ہسپانوی نیوز ویب سائٹ انفوبے کی جانب سے حاصل کی گئی یہ ویڈیو میراڈونا کے ساتھیوں کے خلاف انسانی سمگلنگ کے مقدمے کے دوران سامنے آئی ہے جس میں ماویز الواریز کا کہنا ہے کہ ساتھیوں نے سال 2000 میں فٹ بال کے سٹار سے ان کا تعارف کرایا تھا جب وہ 16 سال اور میراڈونا 40 سال کے تھے۔

ویڈیو کے ایک حصے میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہ بظاہر بے چین نظر آرہی ہیں کیونکہ میراڈونا ان کی فلم بنا رہے تھے۔ باقی ویڈیو میں وہ کرااوکی گاتی ہیں اور مسکرا رہی ہیں۔ اسی ویڈیو کے ایک دوسرے حصے میں، یہ جوڑی ایک ساتھ بستر پر ہے جبکہ ایک فٹ بال میچ کی کمنٹری پس منظر میں چل رہی ہے۔ ویڈیو میں میراڈونا کے مختلف ساتھی بھی بعض اوقات نظر آتے ہیں۔

 

ارجنٹائن میں ہیرو اور اب تک کے عظیم ترین فٹ بالرز میں سے ایک میراڈونا، دی ڈیلی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق منشیات ترک کرنے کے کورس کے لیے کیوبا میں تھے جب ان کی ملاقات ریزورٹ ٹاؤن وراڈیرو میں واقع اپنے ہوٹل میں ماویز سے ہوئی تھی۔

وہ کہتی ہیں کہ انہوں نے اسے ہوانا کے ایک اپارٹمنٹ میں منتقل کیا اور اسے منشیات اور پارٹی کی زندگی سے متعارف کرایا۔

مس ماویز نے ستمبر کے اواخر میں میامی میں قائم ٹی وی سٹیشن امریکہ ٹی وی کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ یہ میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ ’میں صرف ایک لڑکی تھی. میں صاف تھی۔ وہ اجنبی تھا، وہ امیر تھا اور اس نے مجھے توجہ دی۔ میں نہ نہیں کہہ سکتی تھی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ہوانا سے وہ کہتی ہیں کہ انہیں 2001 میں بیونس آئرس لے جایا گیا تھا۔ وہیں وہ کہتی ہیں کہ انہیں تقریباً تین ماہ تک ایک ہوٹل میں رکھا گیا اور چھاتی کی پیوند کاری کے لیے ’دباؤ‘ ڈالا گیا تھا۔

’مجھے اکیلے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی ... ہمیشہ وہاں میرے قیام کی لوگ نگرانی کرتے تھے۔‘

انہوں نے عدالت میں دائر درخواست میں کہا کہ ارجنٹائن میں ان قیام کی مکمل مدت کے دوران، انہیں صرف خریداری کرنے اور چڑیا گھر جانے کی اجازت تھی اور ہمیشہ ان کے ساتھ ایک محافظ بھی ہوتا تھا۔

مس ماویز کا کہنا ہے کہ میراڈونا کے ساتھ ان کے تعلقات تین سال تک رہے۔

میراڈاونا 2020 کے آخر میں دماغ کی سرجری کے بعد دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے تھے۔

مس ماویز کا تقریباً 20 سال تک خاموش رہنے کے بارے میں کہنا تھا کہ انہیں خدشہ تھا کہ ان کے خاندان کو کیوبا کی حکومت کی جانب سے انتقام کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے.

انہوں نے امریکہ ٹی وی کو بتایا کہ میراڈونا نے ان کا تعارف کیوبا کے رہنما فیڈل کاسترو سے کرایا جنہوں نے انہیں گلے لگایا تھا اور پوچھا تھا کہ وہ اتنی خوبصورت لڑکی سے کیسے ملے ہیں۔

اس کے بعد ہی مسٹر کاسترو نے انہیں 10 نومبر 2001 کو ارجنٹائن میں میراڈونا کے لیے یادگاری میچ میں شرکت کے لیے ملک سے جانے کی خصوصی اجازت دی تھی۔ اس وقت کیوبا کے محض چند لوگوں کو کیوبا چھوڑنے کی اجازت تھی۔

مس ماویز کے دعوے ارجنٹائن کے پراسیکیوٹر آفس فار ٹریفکنگ اینڈ ایکسپلائٹیشن آف پرسنز میں بطور شکایت کے درج کیے گئے ہیں۔ ان کا اس مقدمے میں مدعی کے طور پر اندراج ہے جو پچھلے ہفتے دائر کیا گیا تھا۔

یہ معاملہ نہ صرف میراڈونا کی ذاتی ٹیم کے خلاف انسانی سمگلنگ کے الزامات کی تحقیقات کر سکتا ہے بلکہ ماویز یہ بھی چاہیں گی کہ وہ ارجنٹائن میں امیگریشن حکام کے کردار کی تحقیقات کریں جنہوں نے انہیں اپنے والدین کی رضامندی کے بغیر ملک میں داخل ہونے دیا۔

ان کے وکیل گیسٹن مارانو کا کہنا ہے کہ ’غیر ملکی اور مقامی امیگریشن حکام کے درمیان ملی بھگت‘ تھی۔

© The Independent

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل