میراڈونا کے آخری لمحات: ’میں ٹھیک نہیں ہو رہا‘

میراڈونا کے خاندان کے ایک فرد نے بتایا کہ میراڈونا انتقال کے روز صبح ناشتہ کر رہے تھے تو تھکاوٹ محسوس کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا ’میں ٹھیک نہیں ہو رہا ہوں۔‘

میراڈونا نومبر 2010 میں ایک چیرٹی میچ کے دوران (اے ایف پی)

ارجنٹائن کے مقامی میڈیا نے ملک کے فٹ بال کے لیجنڈ ڈیاگو میراڈونا کے اہل خانہ کے حوالے سے ان کی زندگی کے آخری گھنٹے کی تفصیلات شائع کی ہیں۔

میراڈونا کے خاندان کے ایک فرد نے بتایا کہ میراڈونا انتقال کے روز صبح ناشتہ کر رہے تھے تو تھکاوٹ محسوس کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا ’میں ٹھیک نہیں ہو رہا ہوں۔‘

اس کے بعد وہ لیٹنے کے لیے اپنے کمرے میں واپس چلے گئے اور اسی دوران  اہل خانہ نے ایمبولینس کو بلا لیا۔ کچھ منٹ کے بعد طبی ٹیم ان کے گھر پہنچ چکی تھی۔

ذرائع نے زور دے کر کہا، ’ڈاکٹروں کی آمد کے بعد میراڈونا سانس نہیں لے پا رہے تھے اور ڈاکٹر انہیں نہیں بچا سکے۔‘

میراڈونا نے ارجنٹائن کے دارالحکومت بیونس آئرس کے قریب واقع ٹگرے ​​علاقے میں اپنے گھر پر دم توڑ دیا تھا۔ حالیہ ہفتوں میں وہ اپنے دماغ میں خون کے جمنے کو دور کرنے کے لیے سرجری سے صحت یاب ہو رہے تھے۔

ان کی موت کے اعلان کے بعد سے کئی بین الاقوامی عہدیداروں اور ایتھلیٹس نے 60 سال کی عمر میں انتقال کر جانے والے فٹ بال کے لیجنڈ کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ارجنٹائن کے میڈیا نے اطلاع دی تھی کہ میراڈونا کا انتقال دل کا دورہ پڑنے کے بعد ہوا۔ انہوں نے لکھا کہ حالیہ ہفتوں میں ان کی طبیعت خراب ہوگئی تھی اور وہ کئی بار ہسپتال میں داخل ہوئے تھے۔

ارجنٹائن کے صدر البرٹو فرنینڈیز نے میراڈونا کی موت کو ملک اور عوام کے لیے بہت بڑا نقصان قرار دیا اور تین روزہ عوامی سوگ کا اعلان کیا۔

ان کی آخری رسومات میں خاندان اور قریبی دوستوں نے بیلا وسٹا قبرستان میں تدفین سے قبل ادا کیں۔ میراڈونا کو ہزاروں اشک بار آنکھوں کے سامنے دارالحکومت کے مضافات میں جمعرات کو سپرد خاک کر دیا گیا۔

یہ تقریب میراڈونا کے صرف 12 رشتہ داروں کی موجودگی میں منعقد کی گئی تھی ، اور حفاظتی وجوہ کی بناء پر لوگوں کو قبرستان میں جانے کی اجازت نہیں تھی۔

لیکن آخری رسومات پر ہزاروں افراد نے اس کا پیچھا کیا اور اس کے لیے دعا کی۔ میراڈونا کا تابوت ارجنٹائن کے پرچم اور اس کی 10 نمبر کی قمیض سے ڈھانپ گیا تھا۔

پولیس کو ان کے مداحوں کو کنٹرول کرنے کے لیے اشک آور گیس اور ربڑ کی گولیاں استعمال کرنی پڑیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی فٹ بال