کوڈا: صوابی اور بونیر میں کھیلا جانے والا ‘بزرگوں کا کھیل‘

اس کھیل میں ایک ٹیم کل پانچ کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی ہے، لیکن میدان میں صرف تین کھلاڑیوں کو کھیلنے کی اجازت ہوتی ہے۔

خیبرپختوںخوا کے ضلع صوابی اور بونیر میں بزرگوں کے کھیل کے نام سے مشہور علاقائی کھیل ’کوڈا‘ اب معدوم ہونے لگا ہے، جسے بچانے کے لیے وہاں کے لوگ کوشاں ہیں۔

صوابی کے علاقے مانیری سے تعلق رکھنے والے سید عرب خان عرف جاجم نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کوڈا کھیل ضلع صوابی اور بونیر میں صدیوں سے کھیلا جا رہا ہے۔

65 سالہ کھلاڑی جاجم نے بتایا: ’کوڈا کے کھلاڑیوں نے مجھے اس کھیل کا چیئرمین بنا دیا ہے۔ اس کھیل کو میں نے محکمہ سپورٹس سے رجسٹرڈ کروا دیا ہے اور ہر سال اس کے پانچ سے چھ ٹورنامنٹ کا انعقاد بھی ہوتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس کھیل کا نام کوڈا اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس کی پچ کو ہم ’کوڈا‘ کہتے ہیں۔

لوگ انگریزی زبان میں اسے پچ کہتے ہیں، ہم مقامی زبان میں اسے کوڈا کہتے ہیں۔

جاجم کے مطابق اس کھیل میں ایک ٹیم کل پانچ کھلاڑیوں پر مشتمل ہوتی ہے، لیکن میدان میں صرف تین کھلاڑیوں کو کھیلنے کی اجازت ہوتی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تین کھلاڑی ایک ٹیم کے اور تین دوسرے ٹیم کے مد مقابل ہوتے ہیں اور ہر کھلاڑی کے پاس پتھر سے بنی دو گولیاں ہوتی ہیں، جسے ’مڑدکی‘ کہتے ہیں۔

جس کھلاڑی نے پچ حاصل کرلی، اسے پچ کا پوائنٹ ملتا ہے اور دوسرا کھلاڑی جب ایک مڑدکی سے دوسری کو مارے تو اسے دو پوائنٹ مل جاتے ہیں۔

 انہوں نے بتایا کہ کوڈا کھیل کو زندہ رکھنے کے لیے انہوں نے اپنے علاقے کے صوبائی اور قومی اسمبلی کے اراکین اور محکمہ سپورٹس کے آفیسرز کو بھی کہا کہ اس کھیل کی تشہیر کریں، ورنہ ہمارا یہ علاقائی ثقافتی کھیل گم ہو رہا ہے۔

چیئرمین کوڈا جاجم نے بتایا کہ اس کھیل میں بچوں اور جوانوں پر کوئی قدغن نہیں ہے۔ ’ہمارے بچے بھی اب اس کھیل میں بڑوں سے زیادہ حصہ لے رہے ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ اب یہ کھیل صرف چند گاؤں میں زندہ ہے، جن میں ضلع بونیر کے گاؤں طوطالی ڈاگی، جنگ درہ، غورغوشتو، خدی کلی اور کس کلی جبکہ ضلع صوابی میں سلیم خان، کدرہ مانیری، پنج پیر اور میاں ڈھیری نامی گاؤں شامل ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی کھیل