اپنی نسل کا ایسا بہترین فگر سکیٹر کہ شاید وہ کسی بھی دور کے عظیم ترین سکیٹروں میں شمار ہو جائے۔ وہ ایسے جمپ لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے جو کوئی اور نہیں کر سکتا، ایسی تخلیقی قوت کے ساتھ جو تقریباً بے مثال ہے، اور اس کے ساتھ فنکارانہ اظہار بھی موجود ہے جو اس کی غیر معمولی تکنیکی مہارت کو مکمل کرتا ہے۔
اب ایلیا مالینن کے لیے بس ایک ہی مرحلہ باقی ہے: اولمپک میدان میں خود کو منوانا۔
بیس سالہ امریکی غیر معمولی صلاحیت کے حامل سکیٹر نے میلان کورتینا گیمز کے لیے چار طویل برس انتظار کیا ہے، کیونکہ بیجنگ اولمپکس کے لیے انہیں متنازع طور پر امریکی ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔
اس کی بنیادی وجہ ان کی کم عمری اور ناتجربہ کاری تھی، نہ کہ صلاحیت کی کمی، کیونکہ وہ تب ہی اپنی قابلیت کے باعث ایک خاص مقام حاصل کر چکے تھے۔ یہی محرومی گذشتہ چار سالہ دور میں ان کے لیے محرک بنی اور وہ دنیا کے بہترین سکیٹر بن کر ابھرے۔
مالینن نے پچھلے دو عالمی اعزازات اپنے نام کیے ہیں، جن میں تازہ ترین کامیابی گذشتہ برس بوسٹن میں نسبتاً آسانی سے حاصل ہوئی۔ تقریباً دو برس سے وہ کوئی مقابلہ نہیں ہارے، خواہ وہ نچلی سطح کے تیاری مقابلے ہوں، اعلیٰ درجے کے بین الاقوامی مقابلے ہوں یا قومی چیمپیئن شپ، جہاں انہوں نے اسی ماہ سینٹ لوئیس میں مسلسل چوتھی بار فتح حاصل کی۔
اس دوران حاصل کیے گئے ان کے نمبرز تاریخ کے عظیم ترین معیار سے ٹکر لیتے ہیں، جن میں ان کے ہم وطن نیتھن چن کا قائم کردہ معیار بھی شامل ہے۔
ان کی امریکی ساتھی ایمبر گلین کہتی ہیں ’ایلیا بالکل ایک الگ ہی عنصر ہے۔ وہ دو شاندار فگر سکیٹروں کا بیٹا ہے، اور حقیقتاً اس کی ساخت اور صلاحیت سب سے مختلف ہے۔ یہ ناقابل یقین ہے۔ وہ باصلاحیت بھی ہے اور انتھک محنتی بھی، اور جو کچھ وہ کرتا ہے وہ حیران کن ہے۔‘
خاندانی ورثہ
مالینن کی روس میں پیدا ہونے والی والدہ، تاتیانا مالینینا، نے 1998 کے اولمپکس میں ازبکستان کی نمائندگی کی اور اگلے برس باوقار گران پری فائنل جیتا۔ ان کے روسی نژاد والد، رومان سکورنییاکوف، نے بھی 1998 اور 2002 کے سرمائی کھیلوں میں ازبکستان کی طرف سے حصہ لیا۔
یہ وراثت یہاں ختم نہیں ہوتی۔ ان کے دادا، ویلیری مالینن، سوویت یونین کے لیے مقابلہ کر چکے ہیں اور آج بھی روس میں کوچنگ کر رہے ہیں۔
یوں یہ کبھی واقعی سوال ہی نہیں تھا کہ وہ خاندانی پیشے میں آئیں گے یا نہیں۔
بچپن میں مالینن اپنے والدین کے ساتھ رنک جایا کرتے تھے، اگرچہ اس زمانے میں انہیں فٹبال زیادہ پسند تھا۔ مگر جب انہوں نے وہ بڑے جمپ لگانے شروع کیے جو آج ان کی پہچان ہیں، تو ان کی وابستگی پختہ ہو گئی۔ بیجنگ کھیلوں سے محرومی کے بعد ان کے والدین نے ہی انہیں 2022 میں جونیئر عالمی اعزاز دلایا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بعد ازاں شہرت یافتہ کوچ رافائل آروتیونیان ان کی ٹیم میں شامل ہوئے، جس کے بعد مالینن نے اپنا پہلا سینئر امریکی اعزاز جیتا اور بین الاقوامی مقابلوں میں کامیابیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ جلد ہی فگر اسکیٹنگ کے اعلیٰ ترین مقابلوں میں طلائی تمغے جمع ہونے لگے۔
آروتیونیان، جنہوں نے بیجنگ میں نیتھن چن کو سونے تک پہنچایا، کہتے ہیں: ’ایلیا خود کو مسلسل آزماتا رہتا ہے۔ ہمارا سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اس کے ساتھ کام کرنے والے تمام افراد ایک ہی سمت میں رہیں۔ جب اسے اپنی ٹیم کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے، ہم سب اس کے ساتھ ہوتے ہیں۔‘
اور شاید آج اسے اس تعاون کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
جیسے جیسے میلان کورتیٖنا کھیل قریب آ رہے ہیں، دباؤ بڑھتا جا رہا ہے، برف پر بھی اور اس کے باہر بھی۔ مالینن کے ساتھ کئی تجارتی ادارے وابستہ ہیں، اور اس کے ساتھ ذمہ داری بھی آتی ہے۔ اولمپکس کی نشریات سے پہلے ان کا چہرہ ٹیلی وژن پر ہر جگہ نظر آتا ہے، اور جہاں بھی وہ جاتے ہیں، مداح تصاویر اور دستخط کے لیے گھیر لیتے ہیں۔
مالینن نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو دیے گئے تفصیلی انٹرویو میں کہا: ’ہم اپنی ٹیم کے ساتھ ذہنی اور جسمانی تیاری کے لیے ایک منظم منصوبہ بنا رہے ہیں، تاکہ جب میں اولمپکس میں پہنچوں تو اپنی بہترین حالت میں ہوں۔ ہم کئی مہینوں سے بات کر رہے ہیں کہ میں کیا اور کیسے مشق کروں، اور اولمپکس تک آنے والے تمام مقابلوں میں مجھے کیا کرنا ہے۔‘
اپنی مثال آپ
مالینن نے اپنے سیزن کا آغاز لومبارڈیا ٹرافی جیت کر کیا، پھر فرانس اور کینیڈا میں ہونے والے بڑے مقابلوں میں غلبہ حاصل کیا، جہاں ان کا حاصل کردہ مجموعہ دوسرے نمبر پر آنے والے اسٹونیا کے الیگزینڈر سیلیوکو سے تقریباً اسی نمبرز زیادہ تھا۔
ان کا ذاتی بہترین مجموعہ تقریباً عالمی ریکارڈ تک پہنچ گیا، جو 2019 میں نیتھن چن نے قائم کیا تھا۔
اس کے بعد دسمبر میں ایک اور بڑا عالمی اعزاز اور جنوری میں ایک اور قومی چیمپئن شپ ان کے نام رہی۔
یہ کامیابی بھی آسانی سے حاصل ہوئی، حالانکہ نئی اسکیٹس کے باعث انہیں اپنے فری پروگرام میں کچھ تبدیلیاں کرنا پڑیں۔
ان کی کوریوگرافر شی-لن بورن کہتی ہیں: ’سکیٹنگ کے لیے اس کے اندر ایک شدید جذبہ ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے ہے جو ہماری مشق سے ایک گھنٹہ پہلے بھی اسکیٹس پہنے ہوتے ہیں اور ایک گھنٹہ بعد بھی۔ وہ وقت دیتا ہے، اور کبھی ساکن نہیں رہتا۔ وہ صرف اس بات پر اکتفا نہیں کرتا جو اسے آتا ہے، بلکہ ہمیشہ خود کو مشکل میں ڈالنا چاہتا ہے۔‘
اسی جذبے نے اسے چار اور نصف گردش والے وہ جمپ لگانے پر آمادہ کیا جو اس سے پہلے کسی نے مقابلے میں نہیں لگایا تھا، اور یہی اس کی منفرد حرکات اور دیگر بے شمار گھومتے، اڑتے انداز کی بنیاد بنا جو کششِ ثقل اور منطق کو چیلنج کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
دو بار کے اولمپک اسکیٹر جیسن براؤن کہتے ہیں:
’اسے دیکھنا حیرت انگیز ہے کہ وہ دباؤ کو کیسے سنبھالتا ہے اور ایک انسان کے طور پر کس طرح نکھرا ہے۔ ہم ہر قدم پر اس کے ساتھ ہیں۔ سب کا یہی احساس ہے۔‘