عام طور پر فلموں کی کہانی تین کرداروں ہیرو، ہیروئن اور ولن کے گرد گھومتی رہی ہے۔ اب یہ تبدیل ہو رہا ہے۔
بالی وڈ میں ان تینوں کو لے کر کئی فارمولا فلمیں ایسی تخلیق کی گئیں جنہوں نے باکس آفس پر دھماکہ کر ڈالا۔ بلکہ یہ کہیں کہ کئی اداکاروں کو سپر سٹار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ہیرو کے غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل ہونے کے باوجود کچھ ولن ایسے ہیں جنہوں نے اپنے روپ، انداز اور مکالمات کے ساتھ چہرے کے خوف ناک تاثرات کے ذریعے اپنی دھاک بٹھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔
بھلا کون بھول سکتا ہے شہرہ آفاق فلم ’شعلے‘ میں گبر سنگھ کی انٹری اور پھر ان کا گرج چمک آواز کے ساتھ یہ معلوم کرنا کہ ’ کتنے آدمی تھے؟‘
پھر ’موگیمبو خوش ہوا‘ ان تین الفاظ نے امریش پوری کی زندگی کا رخ ہی بدل ڈالا۔
اجیت کا یہ کہنا بھی ذہنوں میں نقش ہے کہ ’سارا شہر مجھے لوئن کے نام سے جانتا ہے۔‘ یا پھر آپ کیسے پران صاحب کی ’رام اور شیام‘ میں سفاکیت کو ذہنوں سے کھرچ سکتے ہیں۔
وہی پران صاحب جن کا کہنا تھا کہ فلموں میں منفی کردار ادا کرنے کی وجہ سے ایسا غلط تاثر قائم ہوا کہ مائیں اپنے نومولود بچوں کا نام’پران‘ رکھنے پر آمادہ نہ ہوتیں۔
اسی طرح پریم چوپڑہ کا ہیروئن کا ہاتھ پکڑ کر یہ کہنا ’پریم نام ہے میرا پریم‘ بدن میں کپکپی طاری کر دیتا۔ اب چاہیں رنجیت ہوں، ڈینی، امجد خان یا شکتی کپو، گلشن گرور یا پھر کوئی اور ولن، فلم کی کہانی کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہوتے۔ ہر ولن کا اپنا دبدبہ، انداز اور جوش ہوتا۔
فلم کے مناظر میں ہیرو زخمی حالت میں زمین سے اٹھتا، چہرے پر خون، آنکھوں میں جلال ہوتا، بیک گراؤنڈ میں تیز موسیقی اور پھر وہ باری باری غنڈوں کو ٹھکانے لگاتے لگاتے تک اصل ولن تک پہنچ جاتا۔
یہی وہ لمحہ ہوتا جب سینیما گھروں میں تالیوں اور سیٹیوں کا ایسا شور ہوتا کہ کان پڑی آواز نہ سنائی دیتی۔
احساس یہ ہوتا کہ تماشائی سانس روکے بس کلائمیکس کا ہی انتظار کر رہے تھے جب ان کا ہیرو، پوری فلم میں ولن کی درندگی، سازشوں اور چالاکیوں کا بدلہ صرف 10 منٹ میں لے کر حساب بے باق کر دیتا۔
فلم بینوں کی دلچسپی اس میں بھی ہوتی کہ ان کے من پسند ہیرو کے ساتھ ولن کون آرہا ہے۔
ایک طویل عرصے تک امیتابھ بچن کے مقابل رنجیت، امجد خان اور پھر امریش پوری ولن کے روپ میں جلوہ گر ہوئے اور کافی سیٹ رہے۔
شاہ رخ خان نے ’بازی گر‘ اور ’ڈر‘ میں جب ہیرو ہوتے ہوئے ولن کا روپ دھارا تو گویا کھیل ہی بدل گیا۔ پہلی بار ناظرین نے دیکھا کہ ہیرو جنونیت کی حد بھی پار سکتا ہے۔
وہ پیار کو پانے کے لیے کسی کی جان بھی لے سکتا ہے۔ بس یہاں سے فلم سازوں اور ہدایت کاروں نے دھیرے دھیرے ولن کی انٹری کو کم کرنے پر کام شروع کیا۔
عامر خان ’دھوم 3‘ میں چور بن گئے، سنجے دت ’ کھل نایئک‘ بن گئے، رتھک روشن ’دھوم 2‘ میں پولیس کا ناک میں دم کرنے والے کے روپ میں جلوہ گر ہوگئے۔
پھر تو اجے دیوگن، اکشے کمار، سیف علی خان، منوج باجپائی، سنیل شیٹی سب نے کسی نہ کسی مرحلے پر ثابت کیا کہ ان کی موجودگی میں ولن کی کوئی ضرورت نہیں۔
درحقیقت کئی اداکار، ولن کے کرداروں کے لیے ہدایت کاروں کو ’ناں‘ کہنے پر تیار نہیں تھے۔
حد تو یہ ہے کہ اس شعبے میں جدت لانے کے لیے ہیروئنز تک کو منفی روپ میں پیش کیا جانے لگا۔ ارمیلا، کاجل، پریانکا چوپڑہ اور ایشوریا رائے بھی ویمپ کے کردار میں جلوہ گر ہو کر یہ باور کرانے کی کوشش کرنے میں لگی رہیں کہ ہیروئن بھی ہیرو سے کم نہیں۔
نتیجہ یہ نکلا کہ جو بے چارے طے شدہ ولن تھے وہ گھروں کو بیٹھنے لگے یا پھر معاون اداکار یا کامیڈین بننے پر مجبور ہوگئے۔
پاریش راویل، شکتی کپور، قادر خان، شرت سیکسنا، انوپم کھیر اور کھلبھوشن کھربندا اس کی واضح مثال ہیں۔
اب عالم یہ ہے کہ آج فلموں میں نہ ولن کے وہ پرانے خفیہ اڈے رہے، نہ شیطانی قہقہے اور نہ ہی ہیروئن کے ساتھ ان کی دست درازی۔
دور حاضر کا ولن بھی اب جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوچکا ہے جو صنف نازک کے لیے ہیرو کے زندگی کو عذاب نہیں بناتا۔ یعنی یہ سمجھیں کہ اب ولن کے معیارات اور ترجیحات تبدیل ہوچکے ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
آج کا ہیرو جب ولن بن کا پردہ سیمیں پر آتا ہے وہ زیادہ خطرناک، غصیلہ، قہر برسانے والا اور تباہ کن ہوتا اور وہ سب کچھ کرتا ہے جو ماضی کے ولن کی پہنچ بھی نہیں تھی۔ یہ دراصل پرانے ہیرو کی اپ گریڈ شکل ہے۔
اب ہیرو خود ہی انصاف اور برائی کی علامت بن چکا ہے، حالات یہ ہیں کہ ہیرو جرائم کی دنیا کا بے تاج بادشاہ ہے، وہ منشیات کا کاروبار بھی کرتا ہے، خون خرابہ بھی کرتا ہے اور پھر بھی ’مرکزی کردار‘ کہلاتا ہے۔
کل تک بچوں کو گبر سنگھ سے والدئیں ڈراتی تھیں اور جلدی سونے کی تلقین کرتی تھیں لیکن آج کی والدئیں خود ایسا کام کرتی ہیں کہ ہیرو نما ولن فخریہ کہتا ہے کہ ’امی جان کہتی تھیں کہ کوئی دھندا چھوٹا نہیں ہوتا اور ہر دھندے سے بڑا کوئی دھرم نہیں ہوتا۔‘
سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ پرانے ولن کسی ایک مقام پر آکر کم از کم اپنی برائی کا اعتراف کرتے تھے۔ آج کا ولن نما ہیرو پہلے سو لوگوں کی جانوں سے کھیلتا ہے، پھر دو جذباتی مکالمے بول کر خود کو ’مظلوم‘ بھی بنا دیتا ہے۔ ممکن ہے کہ یہی بالی وڈ کا سب سے بڑا انقلاب ہے۔
جبھی کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ پہلے کی فلموں کی طرح اب ولن مرتا نہیں بلکہ وہ ہیرو کے اندر زندہ رہتا ہے۔