وزیراعظم شہباز شریف نے جمعے کو صنعتوں کے لیے بجلی کی قیمت میں 4 روپے 4 پیسے کی کمی کا اعلان اور ملکی معیشت کے مستحکم ہونے کی نوید سناتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو دیوالیہ ہونے سے بچانا ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج تھا۔
وہ آج اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے جس کا مقصد معیشت میں نمایاں کردار ادا کرنے والے سرکردہ تاجروں اور برآمد کنندگان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنا تھا۔
کاروباری برادری کے لیے دیگر اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہیلنگ چارجز کم کر کے نو روپے کر دیے گئے ہیں تاکہ صنعتیں اپنی بجلی قریبی صنعتوں کو فروخت کر سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ برآمدی ری فنانس سکیم پر شرحِ منافع سات اعشاریہ پانچ فیصد سے کم کر کے چار اعشاریہ پانچ فیصد کی جا رہی ہے۔
تقریب سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا: ’آج میں بلا خوف و تردید کہہ سکتا ہوں کہ ہم ایک مستحکم معیشت بن چکے ہیں۔‘
وزیراعظم نے معاشی اعشاریوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت مہنگائی سنگل ڈیجٹ میں ہے اور پالسی ریٹ ساڑھے 10 فیصد پر ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ساتھ ہی انہوں نے سٹیٹ بینک کے گورنر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’تگڑے ہو کر فیصلے کریں، جگرا ذرا بڑا کرلیں، آپ کو کوئی کچھ نہیں کہے گا۔‘
وزیراعظم نے چند سال قبل ملک کے دیوالیہ ہونے کی قیاس آرائیوں اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مینجنگ ڈائریکٹر کرسٹیا جارجیوا سے اپنی ملاقاتوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا۔
بقول وزیراعظم جون 2023 میں پیرس میں ایک کانفرنس کے موقعے پر اس وقت ڈیفالٹ کا شکار سری لنکن صدر نے آئی ایم ایف کی ایم ڈی سے پاکستان کے حق میں بات کی اور پھر ان کی بھی کرسٹینا چارجیوا سے ملاقاتیں ہوئیں، جس میں انہوں نے کہا کہ ’میں آپ سے کھلی اور کھری بات کرنا چاہتی ہوں کہ ماضی کا ہمارا تاثر ہے کہ آپ (آئی ایم ایف) پروگرام کرلیتے ہیں، لیکن بیچ میں ادھورے چھوڑ جاتے ہیں۔‘
جس پر بقول وزیراعظم شہباز شریف: ’میں نے کہا کہ اگر آپ کے ساتھ ہمارا کوئی معاہدہ ہوگا تو میں آپ کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم پوری روح اور عزم کے ساتھ اس معاہدے پر عملدرآمد کریں گے۔‘
اپنے خطاب میں انہوں نے کچھ ’تلخ حقائق‘ کا بھی ذکر کیا۔ وزیراعظم کے مطابق: ’ہمارے زر مبادلہ کے ذخائر تقریباً ڈبل ہو چکے ہیں، اس میں دوست ممالک کے قرضے بھی شامل ہیں۔
’میں آپ کو کس طرح بتاؤں کہ کس طرح ہم نے دوست ممالک میں جا کر ان سے قرضے لینے کی درخواستیں کیں اور انہوں نے ہمیں مایوس نہیں کیا لیکن آپ جانتے ہیں کہ جو قرض لینے جاتا ہے، اس کا سر جھکا ہوا ہوتا ہے اور پھر اس کے ساتھ جو ذمہ داریاں ہوتی ہیں، ان کا آپ کو اچھی طرح علم ہے۔
’میں اور فیلڈ مارشل خاموشی کے ساتھ کئی ممالک میں گئے اور ان سے کہا کہ آئی ایم ایف کا پروگرام ہے، آپ اتنے ارب ڈالرز دے دیں، میں ان ممالک کا بے حد شکر گزار ہوں کہ جنہوں نے ہماری پذیرائی کی، لیکن آپ جانتے ہیں کہ جب کوئی کسی سے مانگنے جاتا ہے تو اپنی عزت نفس کی قیمت اس کو چکانی پڑتی ہے۔ سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے اور پھر بعد میں کہیں سے بھی کوئی ایسی خواہش ہو، جس پر عملدرآمد کا کوئی جواز نہ ہو تو آپ اس کا بوجھ لیتے ہیں۔ یہ وہ حالات ہیں جن سے ہم گزرے۔‘
براہِ راست:- وزیراعظم محمد شہباز شریف کا ایکسپورٹرز کے اعزاز میں تقریب سے خطاب اور ایوارڈز کی تقسیم https://t.co/28pl78jYVX
— Government of Pakistan (@GovtofPakistan) January 30, 2026
معاشی مشکلات کے دوران قرض فراہم کرنے والے دوست ممالک کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ بہت سے ممالک نے ہمارا ساتھ دیا۔ ’ان ممالک میں چین سرفرست ہے۔ مشکل ترین گھڑیوں میں چین نے ہماری مدد کی، سعودی عرب نے دل کھول کر مدد کی، متحدہ عرب امارات نے، قطر اور دیگر ممالک نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔‘
بقول وزیراعظم: ’ہماری معیشت مستحکم ہو چکی ہے لیکن یہ کافی نہیں ہے۔‘
انہوں نے معیشت سے جڑے کچھ ’تلخ حقائق‘ کا بھی تذکرہ کیا۔ ایکسپورٹرز اور کاروباری شخصیات کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا: ’غربت بڑھ گئی، بیروزگاری بڑھ گئی ہے، ایکسپورٹ میں خاطر خواہ اضافہ ہونا چاہیے تھا، جو نہیں ہوا، میں تسلیم کرتا ہوں۔ آپ کو ان ممالک کے ساتھ مقابلہ کرنا پڑ رہا ہے، جن کی مصنوعات سستی ہیں، اس لیے کہ بجلی سستی ہے، اس لیے باوجود اس کے کہ پالیسی ریٹ ساڑھے 21 سے ساڑھے 10 پر آ گیا، اس میں مزید کمی نہیں ہو گی تو آپ مقابلے میں اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار نہیں لا سکیں گے۔‘
وزیراعظم نے تقریب کے دوران ایوارڈز حاصل کرنے والے برآمد کنندگان اور تاجروں کو دو سال کے لیے بلیو پاسپورٹ دینے کا بھی اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایوارڈ حاصل کرنے والے ’ایمبیسیڈرز ایٹ لارج‘ ہوں گے۔
اپنی ٹیم اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج کی خدمات خصوصاً گذشتہ برس مئی میں انڈیا کے ساتھ ہونے والی جنگ کے بعد کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا: ’آج آپ باہر جاتے ہیں تو آپ کے پاسپورٹ کو دوست ممالک رشک کی نظر سے دیکھتے ہیں کہ یہ پاکستانی آیا ہے، میں دیار غیر میں گیا فیلڈ مارشل کے ساتھ، تو میں نے محسوس کیا کہ نظریں بدل گئیں، چہرے بدل گئے۔‘
ساتھ ہی انہوں نے بتایا: ’فیلڈ مارشل کی سپورٹ نہ ہوتی تو کچھ مسائل تھے جو میں حل نہیں کرسکتا تھا، یہ ایک مشترکہ اونرشپ تھی، ایک پارٹنر شپ، جو قوم کی بہتری کے لیے پہلے کبھی نہیں ہوئی اور میں دعا کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ قیامت تک اس طرح کی پارٹنر شپس چلیں گی تو پاکستان دنیا کے نقشے پر ایسا ملک ہو گا، کہ ہندوستان کو غش کے دورے پڑیں گے کہ پاکستان اتنا تگڑا ملک بن چکا ہے۔‘