’پنکی‘ کے نیٹ ورک میں غیر ملکی خواتین بھی شامل، تحقیقات کراچی تک محدود نہیں: پولیس

کراچی پولیس نے کوکین سمیت دیگر منشیات کی مبینہ سپلائر انمول عرف پنکی کے کیس کو ’ٹیسٹ کیس‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات صرف کراچی تک محدود نہیں کیونکہ 2014 سے سرگرم ملزمہ کے نیٹ ورک میں غیر ملکی خواتین بھی شامل ہیں۔

کراچی پولیس نے کوکین سمیت دیگر منشیات کی مبینہ سپلائر انمول عرف پنکی کے کیس کو ’ٹیسٹ کیس‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ تحقیقات صرف کراچی تک محدود نہیں کیونکہ 2014 سے سرگرم ملزمہ کے نیٹ ورک میں غیر ملکی خواتین بھی شامل ہیں۔

کراچی پولیس اور وفاقی ادارے نے منگل 12 مئی کو ایک مشترکہ کارروائی میں  گارڈن کے علاقے سے انمول عرف پنکی نامی خاتون کو گرفتار کیا تھا، جن پر الزام ہے کہ وہ منشیات فروشی کا منظم نیٹ ورک چلاتی ہیں۔

 انہیں اسی روز سٹی کورٹ میں پیش کیا گیا تھا، جہاں عدالت نے ملزمہ کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا۔ اس موقعے پر انمول عرف پنکی کی بغیر ہتھکڑی اور مبینہ پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں پیشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سندھ حکومت اور پولیس حکام نے واقعے کا نوٹس لے کر متعلقہ پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا تھا۔

جمعے کو ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) کراچی آزاد خان نے سینٹرل پولیس آفس میں دیگر سینیئر افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران انمول عرف پنکی کی گرفتاری سے متعلق تفصیلات جاری کیں اور بتایا کہ مجموعی طور پر ملزمہ کے خلاف 20 مقدمات سامنے آچکے ہیں۔

کراچی پولیس چیف آزاد خان نے بتایا کہ انمول عرف پنکی 2014 سے منشیات کے دھندے میں سرگرم تھیں اور کراچی میں انہوں نے 2018 سے اپنا نیٹ ورک فعال کیا۔ ان کے مطابق جب ملزمہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ریڈار پر آئیں تو وہ لاہور منتقل ہوگئیں۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ ملزمہ کے قبضے سے حاصل ہونے والے موبائل فون سے 869 رابطہ نمبرز برآمد ہوئے ہیں جبکہ ایک بینک اکاؤنٹ کی 500 سے زائد صفحات پر مشتمل اسٹیٹمنٹ بھی حاصل کرلی گئی ہے، جس میں تقریباً 3 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز سامنے آئی ہیں۔

پریس کانفرنس کے دوران آزاد خان کا کہنا تھا کہ انمول عرف پنکی کا کیس سندھ پولیس کے لیے ایک اہم ’ٹیسٹ کیس‘ کی حیثیت رکھتا ہے اور اسے ’ہر صورت منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔‘

بقول اے آئی جی: ’پنکی کا برانڈ نیم ہی اس کے گلے کا پھندا بنے گا۔‘

انہوں نے مزید بتایا کہ ’تحقیقات کا دائرہ صرف کراچی تک محدود نہیں رکھا گیا بلکہ ان افراد کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں، جو مبینہ طور پر ملزمہ سے منشیات حاصل کرکے آگے فروخت کرتے تھے۔‘

ان کے مطابق ملزمہ کے سہولت کاروں کو بھی گرفتار کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

آزاد خان نے مزید بتایا کہ پولیس نے سچل کے علاقے میں انمول عرف پنکی کے سابقہ گھر پر چھاپہ مارا ہے جہاں سے منشیات، خصوصاً کوکین، برآمد ہوئی اور اس حوالے سے الگ مقدمہ بھی درج کرلیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ منشیات بیرونِ شہر یا بیرونِ ملک سے کراچی لائی جاتی تھیں۔

کراچی پولیس چیف نے بتایا کہ ’اس پورے نیٹ ورک میں تقریباً 20 خواتین شامل ہیں جن میں بعض غیر ملکی افریقی خواتین بھی شامل ہیں، جو اس وقت لاہور میں موجود ہیں۔‘

انہوں نے بتایا کہ اس معاملے پر اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف)، پنجاب پولیس اور ایف آئی اے سے رابطہ کیا جاچکا ہے جبکہ چار افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی کارروائی بھی جاری ہے۔

آزاد خان نے بتایا کہ اگر منشیات سے ہونے والی اموات کا تعلق اس نیٹ ورک سے ثابت ہوا تو مزید مقدمات بھی درج کیے جائیں گے۔

انہوں نے بتایا کہ ملزمہ سے تفتیش کے لیے ایک اعلیٰ سطح کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں ڈی آئی جی سی ٹی ڈی، ڈی آئی جی سپیشل برانچ اور ڈی آئی جی کرائم شامل ہیں جبکہ وہ خود اس کمیٹی کی سربراہی کریں گے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ سندھ پولیس دیگر اداروں کے ساتھ مل کر پورے منشیات فروش نیٹ ورک کو بے نقاب کرنے اور اس کے خلاف کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔

انمول عرف پنکی آج عدالت میں پیش نہ ہو سکی، پولیس مزید ریمانڈ لینے کی خواہاں

دوسری جانب کراچی میں انمول عرف پنکی کو آج عدالت میں پیش نہیں کیا گیا۔ ملزمہ کوجوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ کی تین مختلف عدالتوں میں پیش کیا جانا تھا۔

اس حوالے سے ایس پی انویسٹی گیشن ساؤتھ فتح شیخ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’پولیس کو ملزمہ کا جسمانی ریمانڈ 13 مئی سے 15 مئی تک ملا تھا اور ابھی ریمانڈ کے چند گھنٹے باقی ہیں۔ ممکن ہے جمعے کی رات تک ریمانڈ مکمل کر لیا جائے، جس کے بعد ملزمہ کو 16 مئی کی صبح عدالت میں پیش کیا جائے گا۔‘

فتح شیخ نے ملزمہ کے خلاف مقدمات کے حوالے سے آگاہ کرتےبہوئے بتایا کہ ’انمول عرف پنکی کے خلاف ڈسٹرکٹ ساؤتھ کے مختلف تھانوں میں 10 سے زائد مقدمات درج ہیں، جبکہ حالیہ کارروائی کے بعد مزید چار مقدمات بھی درج کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس مختلف کیسز کے حوالے سے تفتیش کر رہی ہے اور مزید شواہد اکٹھےکیے جا رہے ہیں۔‘

تفتیشی افسر کے مطابق: ’پولیس عدالت میں مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا بھی کرے گی۔‘

دوسری جانب ملزمہ کے وکیل صفائی میر ہدایت اللہ خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’انمول پنکی کی صحت بہتر نہیں ہے، انہیں دمے اور گردوں میں پتھری کا مسئلہ ہے، تاہم ہم مستقبل ممیں عدالت سے درخواست بھی کریں گے کہ انمول کا طبی معائنہ کروایا جائے اور ان پر جو ٹارچر کیا جا رہا ہے، وہ ختم کیا جائے۔‘

وکیل صفائی نے مزید بتایا کہ ’انمول عرف پنکی کے خلاف قتل، غیر قانونی اسلحہ اور منشیات کے مقدمات درج ہیں۔‘

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان