انمول عرف پنکی 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ میں توسیع کے بعد پولیس تحویل میں

ملزمہ کے چہرے پر سفید چادر ڈال کر انہیں عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ ان کے آس پاس خواتین پولیس اہلکار بھی تھیں جنہوں نے انہیں پکڑ رکھا تھا۔

کراچی پولیس نے ہفتے کو کوکین سمیت دیگر منشیات کی مبینہ سپلائر انمول عرف پنکی کو عدالت میں پیش کیا جہاں ان کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع کرتے ہوئے تھانہ ایس آئی یو کے مقدمے میں عدالت نے انہیں 22 مئی تک جسمانی ریمانڈ پر پولیس تحویل میں دے دیا ہے۔

پولیس اور وفاقی ادارے نے منگل 12 مئی کو ایک مشترکہ کارروائی میں گارڈن کے علاقے سے انمول عرف پنکی نامی خاتون کو گرفتار کیا تھا، جن پر الزام ہے کہ وہ منشیات فروشی کا منظم نیٹ ورک چلاتی ہیں۔

انمول عرف پنکی کو اسی روز سٹی کورٹ میں پیش کیا گیا تھا۔

اس موقعے پر انمول عرف پنکی کی بغیر ہتھکڑی اور مبینہ پروٹوکول کے ساتھ عدالت میں پیشی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سندھ حکومت اور پولیس حکام نے واقعے کا نوٹس لے کر متعلقہ پولیس اہلکاروں کو معطل کر دیا تھا۔

تاہم اب ہفتے کو انمول پنکی کو ڈیوٹی جوڈیشل مجسٹریٹ ساؤتھ غلام مرتضی کی عدالت میں پیش کیا گیا تو اس پیشی کے مناظر کافی مختلف تھے۔

ملزمہ کے چہرے پر سفید چادر ڈال کر انہیں عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ ان کے آس پاس خواتین پولیس اہلکار بھی تھیں جنہوں نے انہیں پکڑ رکھا تھا۔

اس موقع پر صحافیوں کی ایک بڑی تعداد بھی وہاں موجود تھی جو انمول عرف پنکی کی پیش کے موقع پر ویڈیوز بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔

جب انہیں کمرہ عدالت کی طرف لے جایا جا رہا تھا تو انہوں نے اونچی آواز میں کچھ الزامات بھی لگائے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

دوسری جانب گذری پولیس بھی انمول عرف پنکی کے ریمانڈ کے لیے عدالت پہنچ گئی ہے۔ گذری پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمہ کے خلاف چھ مقدمات درج ہیں۔

جبکہ ایس آئی یو اور درخشاں پولیس بھی انمول عرف پنکی کا ریمانڈ لینا چاہتی ہے۔

اس سے قبل جمعے کو ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) کراچی آزاد خان نے سینٹرل پولیس آفس میں دیگر سینیئر افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران انمول عرف پنکی کی گرفتاری سے متعلق تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مجموعی طور پر ملزمہ کے خلاف 20 مقدمات سامنے آچکے ہیں۔

کراچی پولیس چیف آزاد خان نے بتایا کہ انمول عرف پنکی 2014 سے منشیات کے دھندے میں سرگرم تھیں اور کراچی میں انہوں نے 2018 سے اپنا نیٹ ورک فعال کیا۔ ان کے مطابق جب ملزمہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ریڈار پر آئیں تو وہ لاہور منتقل ہوگئیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی پاکستان