ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے سے اب تک 4800 سے زائد مجموعی اموات

سب سے زیادہ اموات ایران میں ہوئی ہیں جن کی تعداد 3486 ہے جب کہ دوسرے نمبر پر لبنان میں 1200 سے زیادہ افراد جان سے گئے ہیں۔

ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کا آج 31 واں دن ہے۔

 امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔

اس جنگ کی تازہ ترین اپ ڈیٹس۔


رات 12 بج کر 08 منٹ

ایرانی پارلیمنٹ کی کمیٹی نے آبنائے ہرمز ٹول پلان کی منظوری دے دی

ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم نے ایرانی پارلیمنٹ کمیٹی کے ایک رکن کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ آج ایرانی پارلیمانی کمیٹی برائے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کے لیے ٹول پلان کی منظوری دے دی ہے۔

ان کے بقول، اس منصوبے میں امریکہ، اسرائیل اور ایران پر یکطرفہ پابندیاں عائد کرنے والے ممالک سے منسلک بحری جہازوں پر بھی آبنائے ہرمز میں آمدورفت پر پابندی ہے۔ ٹول کی ادائیگی ایرانی ریال میں متوقع ہے۔

رات 10 بج کر 45 منٹ

ایران پر امریکی و اسرائیلی حملے سے اب تک 4800 سے زائد مجموعی اموات

28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی جنگ پورے مشرق وسطیٰ میں پھیل چکی ہے، جہاں مختلف ممالک میں ہزاروں افراد کی اموات اور زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اموات کے اعداد و شمار متاثرہ ممالک کی حکومتوں، افواج، صحت کے اداروں اور امدادی تنظیموں کی جانب سے جاری کردہ معلومات پر مبنی ہیں۔

مختلف ممالک اور اداروں کی رپورٹس کے مطابق 28 فروری کو ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے حملے کے بعد  سے خطے میں اب تک 4,887  سے زائد اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔

•           ایران: 3,486

•           لبنان: 1,200  سے زائد

•           عراق: 101

•           خلیجی ریاستیں: 39

•           اسرائیل: 25

•           مغربی کنارہ: 4

•           امریکی عملہ: 32  بشمول عراق میں طیارہ حادثے کے چھ ارکان، خلیج میں سات فوجی، اور دیگر مقامات پر مرنے والے

ایران کی حکومت نے حالیہ دنوں میں مجموعی اموات کے تازہ اعدادوشمار جاری نہیں کیے۔ تاہم امریکہ میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹوسٹس نیوز ایجنسی (HRANA) کے مطابق 29 مارچ تک کم از کم 3,486 افراد جان سے جا چکے ہیں، جن میں 1,568 شہری شامل ہیں، جبکہ ان میں کم از کم 236 بچے بھی شامل ہیں۔

اسی طرح 1,211 فوجی اہلکار جان سے گئے۔

پیر کے روز ایرانی حکومت کے ترجمان نے جزوی اعدادوشمار دیتے ہوئے بتایا کہ 246 خواتین، 216 کم عمر بچے (18 سال سے کم) اور پانچ سال سے کم عمر 17 بچے جان سے گئے۔

اس سے قبل 26 مارچ کو ایران کے نائب وزیر صحت نے الجزیرہ کو بتایا تھا کہ جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم 1,937 افراد جان سے جا چکے ہیں۔

رپورٹنگ پر پابندیوں کے باعث اے ایف پی ایران میں حملوں کی جگہوں تک رسائی حاصل نہیں کر سکا اور نہ ہی اعدادوشمار کی آزادانہ تصدیق ممکن ہو سکی۔

لبنان

لبنان کی وزارت صحت کے مطابق وہاں اموات کی تعداد 1,200 سے تجاوز کر چکی ہے۔

وزارت کے مطابق مرنے والوں میں 47 پیرا میڈکس اور پانچ دیگر طبی عملے کے افراد شامل ہیں، جبکہ کم از کم تین صحافی بھی جان سے گئے، جن میں حزب اللہ کے ٹی وی چینل المنار کے ایک نمایاں نامہ نگار بھی شامل ہیں جو 28 مارچ کو جنوبی لبنان میں مارے گئے۔

اقوام متحدہ کے امن مشن (یونیفل) کے مطابق اس کے تین اہلکار بھی جان سے گئے، جبکہ لبنانی فوج نے اپنے سات اہلکاروں کی موت کی تصدیق کی ہے۔ حزب اللہ نے اپنے نقصانات سے متعلق کوئی تفصیل جاری نہیں کی۔

اسرائیل

اسرائیلی حکام اور ایمرجنسی سروسز کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 19 شہری جان سے جا چکے ہیں۔

ایرانی میزائل حملوں میں 14 اسرائیلی شہری مارے گئے جن میں چار کم عمر بچے شامل ہیں، جبکہ ایک فلپائنی اور ایک تھائی شہری بھی جان سے گئے۔

لبنان سے حزب اللہ کے راکٹ حملوں میں شمالی اسرائیل میں دو افراد جان سے گئے، جبکہ ایک شخص لبنانی سرحد کے قریب اسرائیلی گولہ باری میں ’آپریشنل غلطی‘ کے باعث مارا گیا۔

اسرائیلی ہلال احمر کے مساوی ادارے میگن ڈیوڈ ایڈوم کے مطابق ایران کے جوابی میزائل حملوں کے بعد سے اب تک 480 سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں لڑائی کے دوران اپنے چھ اہلکاروں کی موت کی بھی تصدیق کی ہے۔

مغربی کنارہ

فلسطینی وزارت صحت کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں چار خواتین جان سے گئیں۔

عراق

عراق میں مسلح گروہوں اور حکام کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک کم از کم 101 افراد جان سے جا چکے ہیں۔

فرانس کے مطابق ایران کے ایک ڈرون حملے میں عراق کے خودمختار کردستان خطے میں ایک فرانسیسی فوجی جان سے گیا۔

امریکی فوج نے بتایا کہ مغربی عراق میں ایک ایندھن بردار طیارہ حادثے کا شکار ہوا جس میں سوار تمام چھ اہلکار جان سے گئے، اور یہ حادثہ کسی حملے کا نتیجہ نہیں تھا۔

ایران نواز مسلح گروہوں کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں ان کے 67 جنگجو مارے گئے، جبکہ عراقی حکومت کے مطابق سکیورٹی فورسز کے 10 اہلکار بھی جان سے گئے جن میں پولیس اور ایک انٹیلی جنس افسر شامل ہے۔

کرد حکام کے مطابق کردستان میں میزائل حملے میں چھ جنگجو مارے گئے اور اس کا الزام ایران پر عائد کیا گیا۔

خلیجی ممالک

خلیجی ریاستوں اور امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ایرانی حملوں کے آغاز سے اب تک 39 افراد جان سے جا چکے ہیں جن میں 20 شہری شامل ہیں، جبکہ باقی فوجی اور سکیورٹی اہلکار تھے، جن میں سات امریکی فوجی بھی شامل ہیں۔

کویت میں سات افراد جان سے گئے جن میں دو فوجی، دو بارڈر گارڈز اور تین شہری شامل ہیں، جن میں ایک 11 سالہ بچی بھی شامل ہے۔

متحدہ عرب امارات میں 10 افراد جان سے گئے جن میں آٹھ شہری اور دو فوجی اہلکار شامل ہیں، جو ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں مارے گئے۔

سعودی عرب میں دو شہری جان سے گئے جبکہ بحرین میں بھی دو شہریوں کی اموات ہوئیں۔

عمان میں ایک بحری کارکن سمندر میں جان سے گیا جبکہ ایک صنعتی علاقے پر ڈرون حملے میں دو مزید افراد مارے گئے۔

قطر میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں چار قطری فوجی اور تین ترک شہری، جن میں ایک فوجی اور دو عام شہری شامل ہیں، جان سے گئے۔

امریکی اموات

خلیجی ممالک میں سات اور عراق میں چھ امریکی فوجیوں کی موت کے علاوہ امریکی فوج نے تقریباً 300 اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے، جن میں زیادہ تر معمولی زخمی ہیں۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق سات مختلف ممالک میں 10 اہلکار شدید زخمی ہیں۔

جمعے کے روز سعودی عرب میں ایک فوجی اڈے پر ایرانی حملے میں کم از کم 12 امریکی فوجی زخمی ہوئے، جن میں دو کی حالت تشویشناک بتائی گئی۔

یہ تمام پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے اور خطے کے مختلف ممالک اس کے اثرات کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔

رات نو بج کر 44 منٹ

نیٹو نے ترکی کی جانب آنے والا چوتھا ایرانی میزائل مار گرایا

ترکی کی وزارتِ دفاع نے پیر کو کہا ہے کہ مشرقی بحیرہ روم میں تعینات نیٹو کی فضائی دفاعی افواج نے ایران سے فائر کیے گئے ایک نئے بیلسٹک میزائل کو ترکی کی فضائی حدود میں داخل ہوتے ہی کامیابی سے تباہ کر دیا ہے۔

28 فروری کو ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہونے والی اس علاقائی جنگ کے آغاز سے اب تک یہ چوتھا موقع ہے کہ ترکی کی جانب آنے والے ایرانی میزائل کو فضا میں ہی ناکارہ بنایا گیا ہے، اور حکام کے مطابق اب تک کوئی بھی میزائل ترکی کی زمین پر نہیں گرا۔

اے ایف پی کے مطابق نیٹو کی ترجمان ایلیسن ہارٹ نے بھی اس کارروائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نیٹو اتحاد اپنے تمام اتحادیوں کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے کے لیے تیار ہے۔

دوسری جانب تہران نے ان میزائل حملوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے مشترکہ تحقیقات کی پیشکش کی ہے۔ ان تمام واقعات کے پیشِ نظر انقرہ نے انچرلک فوجی اڈے پر نیٹو کے جدید پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم کی نئی بیٹری تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

رات آٹھ بج کر 55 منٹ

کویت: ڈی سیلینیشن پلانٹ پر حملے میں ایک شخص کی موت

کویتی حکام نے پیر کو کہا ہے کہ ایک بجلی اور پانی صاف کرنے والے (ڈی سیلینیشن) پلانٹ پر ہونے والے ایرانی فضائی حملے میں ایک انڈین کارکن جان سے گیا ہے اور عمارت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

کویت کی وزارتِ بجلی کے مطابق، یہ حملہ ملک کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی ایرانی مہم کا حصہ ہے۔

اے ایف پی کے مطابق کویتی فوج نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 13 دشمن ڈرونز فضا میں ہی تباہ کیے گئے، تاہم ایک ڈرون پلانٹ کی سروس بلڈنگ کو نشانہ بنانے میں کامیاب رہا۔

ایرانی سرکاری ٹی وی پر فوجی ترجمان نے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ اسرائیل نے ایران کو بدنام کرنے کے لیے کیا ہے۔

سعودی عرب، قطر اور عمان نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ ریاض اور دوحہ نے اس کا براہِ راست ذمہ دار ایران کو ٹھہرایا ہے۔

شام پانچ بج کر 51 منٹ

یہ ہماری جنگ نہیں، حصہ نہیں بنیں گے: برطانوی وزیر اعظم

برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے ایران میں برطانوی فوجیں اتارنے کے امکان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ برطانیہ اس خطے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی جنگ میں ’گھسیٹا‘ نہیں جائے گا۔

امریکی صدر کی جانب سے ایران میں زمینی کارروائیوں کی تیاریوں اور جزیرہ خرگ پر قبضے کے اشاروں کے بعد پیدا ہونے والے خدشات پر ردعمل دیتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم نے پیر کے روز واضح کیا کہ ’یہ ہماری جنگ نہیں ہے اور ہم اس کا حصہ نہیں بنیں گے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ صرف دفاعی اقدامات اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا تاکہ برطانوی مفادات اور اتحادیوں کا تحفظ کیا جا سکے۔

دی انڈپینڈنٹ کے مطابق یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی وزیر اعظم کو ’چرچل‘ نہ ہونے کا طعنہ دیا اور برطانوی طیارہ بردار بحری جہازوں کو امریکی جہازوں کے سامنے ’کھلونے‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا۔ دوسری جانب، امریکی دباؤ میں نہ آنے کے فیصلے کے بعد برطانوی عوام میں کیئر اسٹارمر کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ برطانیہ اب اس جنگ کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات پر غور کر رہا ہے۔

شام پانچ بج کر 28 منٹ

جلد ہرمز نہ کھلی تو ایران میں توانائی تنصیبات کی تباہی امریکی قیام کا اختتام ہو گا: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج ٹروتھ سوشل پر کہا ہے کہ اگر امریکہ ایران معاہدہ جلد نہ ہو پایا اور آبنائے ہرمز نہ کھلی تو امریکہ پاور پلانٹس اور تیل کے کنوؤں سمیت جزیرہ خارگ کو مکمل تباہ کر کے ایران سے جائے گا۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ’امریکہ ایران میں اپنی فوجی کارروائیاں ختم کرنے کے لیے ایک نئی اور زیادہ معقول حکومت کے ساتھ سنجیدہ مذاکرات کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے لیکن اگر کسی بھی وجہ سے جلد ہی کوئی معاہدہ طے نہ پایا، جس کا قوی امکان ہے، اور اگر آبنائے ہرمز کو فوری طور پر ’کاروبار کے لیے‘ نہ کھولا گیا، تو ہم ایران میں اپنے اس ’خوبصورت قیام‘ کا اختتام ان کے تمام بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس، تیل کے کنوؤں اور جزیرہ خارگ (اور ممکنہ طور پر تمام ڈی سیلینیشن پلانٹس) کو دھماکوں سے اڑا کر اور مکمل طور پر تباہ کر کے کریں گے، جنہیں ہم نے اب تک جان بوجھ کر ’چھوا‘ بھی نہیں ہے۔‘

’یہ ان ہمارے بہت سے فوجیوں اور دیگر افراد کا بدلہ ہو گا جنہیں ایران نے پرانی حکومت کے 47 سالہ ’دہشت گردی کے دور‘ میں بے دردی سے قتل کیا ہے۔‘

شام پانچ بج کر 05 منٹ

ایٹمی ہتھیاروں کا کوئی ارادہ نہیں تاہم عدم پھیلاؤ معاہدے پر نظرثانی جاری: ایران

ایران نے پیر کہا ہے کہ وہ ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں، تاہم جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں اپنی شمولیت سے متعلق معاملہ پارلیمنٹ میں زیر غور ہے۔

ایران کے دارالحکومت تہران میں پیر کو ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ ’اسلامی جمہوریہ ایران نے کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی اور نہ ہی اب ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔‘

اے ایف پی کے مطابق انہوں نے کہا کہ عدم پھیلاؤ کے معاہدے میں ایران کی رکنیت کے حوالے سے، تمام تر واضح موقف کے باوجود کہ ایران بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے تمام ہتھیاروں کی مخالفت کرتا ہے، یہ معاملہ اس وقت عوامی رائے اور پارلیمانی سطح پر زیر بحث ہے۔

اسماعیل بقائی کے مطابق یہ ایک حقیقی بحث ہے جو ملک کے اندر جاری ہے، جس میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ آیا ایران کو اس معاہدے کا حصہ رہنا چاہیے یا نہیں۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی اور جنگی صورتحال کے تناظر میں ایران کے جوہری پروگرام پر عالمی توجہ مرکوز ہے۔


سہ پہر چار بج کر 05 منٹ

چین کی دعوت پر نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کا دورہ، کل بیجنگ روانگی

پاکستانی دفتر خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار 31 مارچ 2026 کو چین کا دورہ کریں گے، جہاں وہ چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی دعوت پر اہم ملاقاتیں کریں گے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سینیٹر اسحاق ڈار کل چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی دعوت پر چین کا دورہ کریں گے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی بات چیت ہو گی۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان اور چین کے درمیان ’آل ویدر سٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ‘ قائم ہے، جو علاقائی اور عالمی امور پر قریبی رابطے اور باقاعدہ مشاورت کی عکاس ہے، اور یہ دورہ دونوں ممالک کو باہمی دلچسپی کے امور پر مزید ہم آہنگی کا موقع فراہم کرے گا۔

ترجمان کے مطابق اس دورے کے دوران علاقائی صورتحال، دوطرفہ تعلقات اور عالمی سطح کے اہم معاملات پر گہرائی سے تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ کو گذشتہ روز کندھے کے معمولی فریکچر کے باعث ڈاکٹروں نے آرام کا مشورہ دیا تھا، تاہم اس کے باوجود ان کا چین جانا پاکستان کی جانب سے چین کے ساتھ تعلقات کو دی جانے والی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

دوسری جانب جمعے کے روز اسحاق ڈار اور وانگ یی کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ بھی ہوا جس میں خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال اور عالمی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ایران سے متعلق جنگ میں امن مذاکرات کے آغاز کو مشکل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کوششیں آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمد و رفت کی بحالی کے لیے مددگار ثابت ہوں گی۔

چینی وزارت خارجہ کے جاری کردہ خلاصے کے مطابق دونوں ممالک نے جنگ بندی، کشیدگی کے خاتمے اور امن مذاکرات کی بحالی کو مشترکہ طور پر فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ غیر فوجی اہداف اور اہم آبی گزرگاہوں کے تحفظ کو یقینی بنانے پر بھی زور دیا گیا۔

ٹیلیفونک گفتگو کے دوران وانگ یی نے پاکستان کے ثالثی کردار کی حمایت کا بھی اظہار کیا، جس پر اسحاق ڈار نے کہا کہ چینی وزیر خارجہ نے اس سلسلے میں پاکستان کی جاری کوششوں کو سراہا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ تمام تنازعات کا حل مکالمے اور سفارت کاری کے ذریعے نکالا جائے گا اور اس مقصد کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔

اس سے قبل 10 مارچ کو بھی وانگ یی نے اسحاق ڈار سے گفتگو میں مشرق وسطیٰ میں جنگ کے دوران کشیدگی میں کمی اور استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کے تعمیری کردار کو سراہا تھا۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کے عمل میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے، جو ریاض، انقرہ اور قاہرہ کے ساتھ تعاون سے جاری ہے۔

حکام کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان براہ راست رابطے کے بجائے منظم پیغامات کے تبادلے کے ذریعے بالواسطہ رابطے جاری ہیں، جس کے ذریعے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔


دن تین بج کر 30 منٹ

سپین نے امریکی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دیں

سپین کی بائیں بازو کی حکومت نے ایران کے خلاف مشن پر مامور امریکی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں اور واشنگٹن کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دینے سے بھی انکار کر دیا ہے۔

سپین کی وزیرِ دفاع مارگریٹا روبلز نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ’ایل پائس‘ (El Pais) اخبار کی رپورٹ کی تصدیق کی اور کہا، ’فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت نہیں دی گئی، اور یقیناً سپین کی فضائی حدود کو بھی ایران میں جنگ سے متعلق کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے۔‘


دن 12 بج کر 45 منٹ

ایران نے نیول کمانڈر علی رضا کے مارے جانے کی تصدیق کر دی

ایرانی میڈیا نے پیر کو پاسداران انقلاب کے نیول کمانڈر ایڈمرل علی رضا تنگسیری کی موت کی تصدیق کر دی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ تصدیق پاسداران انقلاب کے ایک بیان کی بنیاد پر کی گئی۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاتز نے 26 مارچ کو کہا تھا کہ اسرائیلی دفاعی افواج نے ایک ’درست اور مہلک آپریشن‘ میں  پاسدارن انقلاب کے کمانڈر علی رضا کو دیگر اعلیٰ عہدے داروں کے ہمراہ نشانہ بنا کر مار دیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق علی رضا تنگسیری کا آبنائے ہرمز کو جزوی طور پر بند کرنے میں میں اہم کردار تھا۔

اسرائیل اور امریکہ  کے 28 فروری سے ایران پر جاری حملوں میں آیت اللہ خامنہ ای، پاسداران انقلاب کے سربراہ، آرمی چیف، وزیر دفاع اور مشیر سکیورٹی سمیت متعدد اعلیٰ قیادت کو قتل کیا جا چکا ہے۔


دن 12 بج کر 20 منٹ

فوجی کیمپ پر میزائل حملہ، 10 اہلکار زخمی: کویت

کویت کی وزارت دفاع نے پیر کو کہا کہ ایک فوجی کیمپ پر حملے میں 10 اہلکار زخمی ہو گئے۔

وزارت دفاع کے ترجمان کرنل سعود عبدالعزیز العتوان نے ایک بیان میں کہا ’گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مسلح افواج نے کویتی فضائی حدود میں 14 بیلسٹک میزائل اور 12 دشمن ڈرون کا پتہ لگایا۔‘

انہوں نے کہا ’ایک نجی لاجسٹکس کمپنی کے گوداموں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں صرف مادی نقصان ہوا اور انسانی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔‘

ترجمان نے کہا کہ 28 فروری، 2026 تک کویت پر ’دشمن ہوائی حملوں‘ کی کل تعداد 307 بیلسٹک میزائل، دو کروز میزائل اور 616 ڈرونز تک پہنچ گئی۔ اے ایف پی


صبح 11 بج کر 45 منٹ

ایران میں بالکل مختلف قیادت سے بات ہو رہی ہے، ان سے کوئی معاہدہ کر لیں گے: ٹرمپ

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ ایران سے معاہدہ کر لیا جائے گا کیوں کہ ان کے بقول ایران میں حکومت یا قیادت تبدیل ہو چکی ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے طیارے میں صحافیوں سے گفگتو میں اتوار کو کہا ’میرے خیال میں ہم ان کے ساتھ کوئی معاہدہ کر لیں گے، اس میں کافی یقین ہے، لیکن ممکن ہے کہ نہ کریں۔‘

امریکی صدر نے کہا ’ہم نے پہلے ہی (ایران میں) حکومت میں تبدیلی دیکھ لی ہے، اگر آپ غور کریں کیونکہ پہلی حکومت تباہ ہو چکی تھی، ختم ہو گئی تھی، وہ سب مارے جا چکے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ متبادل قیادت میں سے زیادہ تر ختم ہو چکی ہے اور ’تیسری حکومت ہم ایسے لوگوں سے معاملہ کر رہے ہیں جن سے پہلے کسی نے کبھی معاملہ نہیں کیا۔ یہ ایک بالکل مختلف گروپ ہے تو میں اسے حکومت کی تبدیلی سمجھوں گا۔‘

تاہم ایران کی طرف سے مسلسل کہا جاتا رہا ہے کہ ملک میں حکومت برقرار ہے اور پالیسی کا تسلسل جاری ہے۔ ایران کی طرف سے یہ بھی کہا جا چکا ہے کہ جب قیادت میں کوئی ایک مارا جاتا ہے تو نظام کے تحت کوئی دوسرا ان کی جگہ لے لیتا ہے۔ اے ایف پی


صبح نو بج کر 45 منٹ

ٹرمپ کا پاکستان کے ذریعے ایران سے بالواسطہ مذاکرات میں پیش رفت کا دعویٰ

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فائننشل ٹائمز (ایف ٹی) کو دیے گئے انٹرویو میں دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے ’نمائندوں‘ کی مدد سے امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ مذاکرات جاری اور مثبت پیش رفت کر رہے ہیں۔

تاہم ایف ٹی کے مطابق جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا آنے والے دنوں میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جنگ بندی کا معاہدہ ہو سکتا ہے تو انہوں نے تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا۔

ٹرمپ نے کہا ’ہمارے پاس تقریباً تین ہزار اہداف باقی ہیں۔ ہم 13 ہزار اہداف پر بمباری کر چکے ہیں اور مزید دو ہزار اہداف باقی ہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا ’ایک معاہدہ کافی جلدی ہو سکتا ہے۔‘


صبح نو بجے

ایران کا زمینی حملے پر سخت ردعمل کا انتباہ

ایران کی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایرانی افواج ’زمین پر امریکی فوجیوں کی آمد کا انتظار کر رہی ہیں تاکہ انہیں جلا دیں اور ان کے علاقائی شراکت داروں کو ہمیشہ کے لیے سزا دیں۔

قالیباف نے مزید کہا ’ہمارے میزائل اپنی جگہ موجود ہیں۔ ہمارا عزم اور ایمان مزید مضبوط ہو گیا ہے۔‘

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب تقریباً 2,500 امریکی میرینز خطے میں پہنچ چکے ہیں اور ایران کے حمایت یافتہ حوثی ملیشیا اس ایک ماہ طویل جنگ میں شامل ہو چکے ہیں۔

اس جنگ نے عالمی سطح پر تیل اور قدرتی گیس کی فراہمی کو خطرے میں ڈال دیا ہے، کھاد کی قلت پیدا کر دی ہے اور فضائی سفر کو متاثر کیا ہے۔ آبنائے ہرمز پر ایران کے کنٹرول نے عالمی منڈیوں اور قیمتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اے پی


صبح سات بج کر 30 منٹ

ایران کے خارگ جزیرے پر ’بہت آسانی سے‘ قبضہ کر سکتے ہیں: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو فائننشل ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ وہ ایران کے خارگ جزیرے کو ’بہت آسانی سے‘ لے سکتے ہیں۔

ایران کے مغربی ساحل کے قریب واقع یہ جزیرہ ملک کے لیے ایک اہم تیل ٹرمینل ہے اور پینٹاگون کی زمینی کارروائیوں کے لیے نظریں اسی جزیرے پر ہیں، حالانکہ امریکہ نے اصرار کیا ہے کہ وہ مکمل فوجی حملے سے گریز کرے گا۔
 
جب ٹرمپ سے جزیرے پر ایرانی دفاع کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا ’مجھے نہیں لگتا ان کے پاس کوئی دفاع ہے۔ ہم اسے بہت آسانی سے لے سکتے ہیں۔‘ اے ایف پی

صبح سات بج کر 10 منٹ

مشرقی صوبے کی جانب داغے گئے 5 میزائل روک لیے: سعودی عرب

سعودی عرب کی وزارت دفاع نے کہا کہ اس کی فورسز نے مملکت کے مشرقی صوبے کی جانب داغے گئے پانچ بیلسٹک میزائلوں کا سراغ لگا کر انہیں روک لیا۔

ایکس پر پوسٹ کیے گئے مختصر بیان میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ میزائل کہاں سے داغے گئے تھے۔
 

فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد سے ایران نے سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک کو باقاعدگی سے میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔


صبح چھ بج کر 45 منٹ

ایران کا کویت کے بجلی گھر پر حملہ
 

کویت کی وزارت بجلی نے پیر کو بتایا کہ کویت میں ایک بجلی گھر پر ایرانی حملے میں ایک انڈین ملازم مارا گیا جبکہ ایک عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔ اے ایف پی


صبح چھ بج 15 منٹ

اسرائیل کا دفاعی اخراجات میں اضافہ

اسرائیلی پارلیمنٹ نے پیر کی صبح 2026 کا بجٹ منظور کیا، جس میں تقریباً 10 ارب ڈالر کے اضافی فوجی اخراجات شامل ہیں۔
 

اس سے ملک کا مجموعی دفاعی بجٹ تقریباً 45 ارب ڈالر ہو گیا۔ اے ایف پی


صبح چھ بج کر 10 منٹ

پاکستان میں مذاکرات کے بعد سعودی، ترک اور مصری وزرا خارجہ کی وطن واپسی

سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ اتوار کو اسلام آباد میں ایران جنگ پر اہم بات چیت کے بعد اپنے اپنے وطن واپس روانہ ہو گئے۔

ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ ہفتے کی رات کو اسلام آباد پہنچے تھے جبکہ سعودی وزیر خارجہ اتوار کی دوپہر آئے۔


صبح چھ بجے

ایران میں بجلی کی بندشیں

ایران کی وزارت توانائی نے کہا ہے کہ تہران میں بجلی کی بندشیں رپورٹ ہوئی ہیں، جن کی وجہ وہ ’بجلی کی تنصیبات پر حملوں‘ کو قرار دیتی ہے۔

ادھر اسرائیلی فوج نے اتوار کی شب کہا کہ اس نے ایران کے دارالحکومت تہران میں متعدد اہداف پر نئے حملے کیے ہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا