امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق، وہ ایرانی نظام میں ایک ’اعلیٰ ترین شخص‘ سے رابطے میں ہیں۔
لیکن ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی جنگ کے تین ہفتے بعد تہران کے مستقبل پر امریکہ کے ساتھ بات کرنے والی سینیئر شخصیت کون ہے؟
ٹرمپ نے کہا کہ یہ شخصیت سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہیں ہیں، جو 28 فروری کو جنگ کے آغاز میں اپنے والد اور سابق نمبر ون علی خامنہ ای کے قتل کے بعد سپریم لیڈر مقرر ہوئے تھے۔
گذشتہ ہفتے اسرائیلی حملے میں قومی سلامتی کے سربراہ علی لاریجانی کے قتل کے بعد، توجہ پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر غالباف پر مرکوز ہو گئی ہے، جو اب تک جنگ میں نقصان سے بچے ہوئے ہیں۔
بغیر کسی کا نام لیے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ’میں نہیں چاہتا کہ انہیں قتل کیا جائے۔‘
اے ایف پی کے مطابق یہاں پانچ ممکنہ شخصیات کی تفصیلات دی جا رہی ہیں۔
پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر غالباف
خامنہ ای اور لاریجانی کے قتل اور مجتبی خامنہ ای کی عوامی سطح پر سامنے آنے میں ناکامی کے بعد کئی تجزیہ کاروں نے غالباف کو ایران کا ڈی فیکٹو جنگی رہنما قرار دیا ہے۔
ایرانی نظام کے مرکز میں تین دہائیوں کے دوران انہوں نے سپاہ پاسداران انقلاب کی ایرو سپیس فورسز کے کمانڈر، تہران کے پولیس چیف، تہران کے میئر اور اب پارلیمنٹ کے سپیکر کے طور پر شہری اور عسکری عہدوں پر فائز رہے۔
غالبافی تین مواقع پر صدارت کے عہدے کے لیے کھڑے ہوئے لیکن کبھی کامیاب نہیں ہوئے۔
اسرائیلی میڈیا میں ایک رپورٹ کے بعد کہ وہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے والے ہیں، انہوں نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ’امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے‘ اور ’جعلی خبروں‘ کی مذمت کی۔
صدر مسعود پزشکیان
سابق صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثے میں موت کے بعد ہونے والے انتخابات کے بعد 2024 میں ایران کے صدربننے والے مسعود پزشکیان کو ملک میں سیاست کے زیادہ اعتدال پسند ونگ سے تعلق رکھنے والے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
تاہم صدر کی حیثیت سے ان کی پوزیشن کسی بھی طرح سے انہیں ایران کا نمبر ون نہیں بناتی، جس میں سپریم لیڈر تمام اہم معاملات پر حتمی فیصلہ کرتے ہیں، حالانکہ علی خامنہ ای کے بعد کے دور میں طاقت کے ڈھانچے کیسے کام کرتے ہیں، یہ واضح نہیں ہے۔
اپنے آپ کو لوگوں کے ایک عام آدمی کے طور پر فروغ دینے کی کوشش میں، پزشکیان اس ماہ کے شروع میں فلسطینی کاز کے حق میں حکومت کے حامی ایک بڑے جلسے کے لیے سڑکوں پر نکلے اور خیر خواہوں کے ساتھ سیلفیاں بنائیں۔
لاریجانی نے بھی اسی تقریب میں حصہ لیا تھا۔ وہ محض چند دن بعد مارے گئے تھے۔
وزیر خارجہ عباس عراقچی
سابق وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان کی رئیسی کے ہمراہ ہیلی کاپٹر حادثے میں موت کے بعد 2024 سے ایک تجربہ کار سفارت کار عراقچی اس عہدے پر فائز ہیں۔
انہوں نے گذشتہ ماہ عمان میں امریکی سفیروں سٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے ساتھ بات چیت میں ایران کے نمائندے کے طور پر کام کیا تھا جن کی ثالثی خلیجی سلطنت نے کی اور وہ جنگ کی جانب مارچ کو روکنے میں ناکام رہے تھے۔
نیویارک ٹائمز نے منگل کو امریکی اور ایرانی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عراقچی اور وٹکوف نے حالیہ دنوں میں ’براہ راست رابطہ‘ کیا تھا جو کہ ایرانی حکام کے مطابق ’تنازع کو کم کرنے کے طریقہ کار پر بنیادی طور پر تحقیقات‘ کے مترادف تھا۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
انگلستان کی کینٹ یونیورسٹی سے سیاسی فکر میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والے عراقچی نے امریکی میڈیا سمیت ٹی وی انٹرویوز میں ایران کے موقف کا بھرپور طریقے سے دفاع کیا ہے۔ لیکن وزیر خارجہ کے طور پر ان کا عہدہ کسی ’اعلیٰ شخص‘ کے برابر نہیں ہوتا۔
پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف احمد واحدی
سابق وزیر داخلہ اور دفاع احمد واحدی ایک سال سے بھی کم عرصے میں ایران کی نظریاتی فوج کے تیسرے کمانڈر انچیف بنے جب ان کے پیشرو محمد پاکپور جنگ کے پہلے دن مارے گئے تھے اور حسین سلامی جون 2025 میں ایران کے خلاف اسرائیل کی 12 روزہ جنگ کے دوران مارے گئے تھے۔
ممکنہ طور پر اس وجہ سے، واحدی اس جنگ میں بہت لو پروفائل رہے، عوامی سطح پر سامنے نہیں آئے۔
19 مارچ کو کمانڈر کی حیثیت سے ان کے نام سے صرف ایک بیان جاری کیا گیا ہے، جس میں گارڈز کی ملیشیا کے کمانڈر غلام رضا سلیمانی کی فضائی حملے میں موت پر اظہار تعزیت کی گئی۔
قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل غنی
اسماعیل غنی 2020 میں عراق میں امریکی حملے میں قاسم سلیمانی کی موت کے بعد پاسداران انقلاب کی بیرونی کارروائیوں کے لیے ذمہ دار فورس کے کمانڈر بن گئے۔
غنی مبینہ طور پر جون 2025 کی جنگ میں مارے گئے تھا لیکن بعد میں دوبارہ منظر عام پر آئے۔ اس کے بعد سے شدید قیاس آرائیوں نے ان کو گھیرا ہوا ہے، ان اطلاعات کے درمیان کہ وہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصر اللہ کے اسرائیل کے ہاتھوں 2024 میں لبنان میں قتل سمیت انٹیلی جنس کی مبینہ غلطیوں کی وجہ سے دباؤ میں آ گئے ہیں۔
20 مارچ کو ایران کے سرکاری میڈیا نے اب تک غنی کے نام سے جنگ کا واحد پیغام جاری کیا، جس میں یہ پیشن گوئی کی گئی کہ ایران جنگ میں اپنے دشمنوں کی ’شرمناک شکست کا مشاہدہ‘ کرے گا۔