|
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کو آج 24 واں دن ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ اس جنگ کے تازہ ترین اپ ڈیٹس پیش خدمت ہیں۔ |
رات 9 بج کر 30 منٹ
پاکستان امریکہ ایران جنگ میں اہم ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے: برطانوی اخبار
معروف برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے پیر کو خبر دی ہے کہ پاکستان خود کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ ختم کرانے کے لیے مرکزی ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے۔
اخبار نے اس پیش رفت سے باخبر دو افراد کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر نے اتوار کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بات کی۔
اس خبر کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں اور ٹرمپ کی ’ٹروتھ سوشل‘ پر کی جانے والی پوسٹ آپس میں جڑی ہوئی ہیں یا نہیں۔ وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کے مذاکرات پر مزید تفصیلات دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ حساس سفارتی بات چیت ہے اور امریکہ میڈیا کے ذریعے مذاکرات نہیں کرے گا۔‘
ترکی، جو جنگ سے پہلے بھی ثالثی کی کوششوں میں شامل تھا، وہ بھی ایرانی حکام اور ٹرمپ کے ایلچی سٹیو وٹکوف سے رابطے میں ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے پیر کو اپنے ترک ہم منصب حقان فیدان سے بات چیت کی، جبکہ مصر کے وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے بھی اتوار کو اپنے ایرانی اور پاکستانی ہم منصبوں سمیت وٹکوف اور قطری وزیر خارجہ سے رابطہ کیا۔
ادھر پیر کی رات امریکی اخبار ایکسیوس نے بھی مذاکرات میں پاکستان کے کردار کا ذکر کیا ہے۔ ایکسیوس کے مطابق: ’ایک اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ ثالثی کرنے والے ممالک رواں ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں ایک اجلاس بلانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس میں تہران کی نمائندگی قالیباف اور دیگر حکام، جبکہ امریکہ کی نمائندگی وٹکوف، کشنر اور ممکنہ طور پر نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔‘
ایکسویس نے امریکی ذرائع کے حوالے سے کہا کہ گذشتہ دو دنوں کے دوران ترکی، مصر اور پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان پیغامات پہنچانے کا کام کر رہے ہیں۔
تاہم دوسری جانب ایرانی سپیکر محمد باقر قالیباف نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے لکھا، ’ہماری قوم جارحیت پسندوں کے لیے مکمل اور عبرت ناک سزا کا مطالبہ کرتی ہے۔ تمام حکام اس مقصد کے حصول تک اپنے قائد اور عوام کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوئے ہیں۔ یہ جھوٹی خبریں مالیاتی اور تیل کی منڈیوں میں ہیرا پھیری کرنے اور اس دلدل سے بچنے کے لیے پھیلائی جا رہی ہیں جس میں امریکہ اور اسرائیل پھنس چکے ہیں۔‘
رات 9 بج کر 20 منٹ
کچھ ’دوست ممالک‘ کے ذریعے امریکہ سے مذاکرات کی درخواست ملی ہے: ایران
ایران کی وزارتِ خارجہ نے پیر کو کہا ہے کہ اسے ’دوست ممالک‘ کے ذریعے امریکہ کی جانب سے مذاکرات کی درخواست کے پیغامات موصول ہوئے ہیں، تاہم تہران نے جنگ کے آغاز سے اب تک ایسی کسی بھی بات چیت کے ہونے کی تردید کی ہے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا: ’گذشتہ چند دنوں کے دوران بعض دوست ممالک کے ذریعے پیغامات موصول ہوئے جن میں جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کی جانب سے مذاکرات کی درخواست کا اشارہ دیا گیا تھا۔‘
تاہم، انہوں نے ’مسلط کردہ جنگ کے گذشتہ 24 دنوں کے دوران امریکہ کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات یا بات چیت کی تردید‘ کی۔
شام 8 بجے
یران میں ’حکومت کی تبدیلی‘ ہو رہی ہے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران میں ’حکومت کی تبدیلی‘ مؤثر طریقے سے جاری ہے، جب کہ خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ کی جانب سے ایرانی شخصیات سے بات چیت کامیاب نہیں ہوتی تو بمباری جاری رہے گی۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ بات چیت ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے ساتھ نہیں تھی بلکہ لوگوں کے ساتھ تھی جنہیں انہوں نے ’انتہائی معقول‘ قرار دیا۔
شام سات بج کر 20 منٹ
ایران سے مذاکرات ہوئے ہیں، جلد معاہدہ طے پا جائے گا: صدر ٹرمپ
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوئے ہیں اور دونوں فریقین کے درمیان ’اہم نکات پر اتفاق‘ پایا گیا ہے۔
ٹرمپ نے پیر کو فلوریڈا میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ اتوار کو ہونے والی گفتگو پیر کو بھی جاری رہے گی اور اگر مذاکرات اسی طرح سودمند رہے تو بہت جلد کوئی معاہدہ طے پا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات سے متعلق اسرائیل سے بھی بات ہوئی ہے اور وہ اس پر خوش ہیں۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں 15 پوائنٹس پیش کیے گئے ہیں جن میں سرفہرست ایٹمی ہتھیاروں کا نہ بنایا جانا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے پر متفق ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بی 52 طیارے سے بمباری نہ کی جاتی تو ایران جوہری ہتھیار بنانے کے قریب پہنچ گیا تھا۔
ٹرمپ نے مزید بتایا کہ ان کے مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایلچی سٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر نے ان مذاکرات میں حصہ لیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران ’معاہدہ کرنے کا بہت خواہش مند ہے۔ ہم بھی معاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ ہم آج غالباً فون پر بات چیت کریں گے۔‘
ٹرمپ نے ایران کی جانب سے مذاکرات کرنے والی شخصیت کا نام تو نہیں لیا لیکن یہ بتایا کہ ان میں ایک اعلیٰ اور معتبر رہنما شامل تھے، جو سپریم لیڈر نہیں تھے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ کا سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے۔
شام 6 بج کر 10 منٹ
تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی: ایرانی میڈیا
امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے اعلان کے بعد ایرانی میڈیا نے پیر کو کہا ہے کہ اتہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
ایران کی مہر خبررساں ایجنسی نے ایرانی وزارت خارجہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’تہران اور واشنگٹن کے درمیان کوئی بات چیت نہیں ہو رہی ہے.‘
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ کے بیانات ’توانائی کی قیمتوں میں کمی‘ کے دباؤ کا حصہ ہیں۔
دیگر میڈیا نے بھی اسی طرح کی رپورٹیں شائع کیں۔
شام 5 بج کر 5 منٹ
صدر ٹرمپ کا ایران سے بات چیت کا غیر واضح انکشاف
ٹرمپ نے ابتدائی طور پر سوشل میڈیا کے ذریعے پیر کو 2344 جی ایم ٹی، یعنی تہران میں منگل کی صبح، کی ڈیڈ لائن جاری کی تھی تاکہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھول دے۔
ایران نے 28 فروری کو شروع ہونے والے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے جواب میں آبنائے کو جزوی طور پر بند کر دیا تھا۔
ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں ایران نے جوابی دھمکی دی تھی کہ اگر ٹرمپ نے کارروائی کی تو وہ خلیج بھر میں توانائی کی تنصیبات اور پانی صاف کرنے والے پلانٹس سمیت اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے گا۔
ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں اس مبینہ نئی بات چیت کے بارے میں فوری طور پر کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔ انہوں نے اس سے پہلے اصرار کیا تھا کہ ایران بات چیت کی درخواست کر رہا ہے، جس کی تہران نے تردید کی تھی۔
امریکہ اور اسرائیل کے حملے سے چند روز قبل امریکہ اور ایران عمانی ثالثی کے ذریعے ایک جوہری معاہدے پر بات چیت کر رہے تھے۔
شام 4 بج کر 55 منٹ
امریکہ، ایران بات چیت کے انکشاف کے بعد تیل کی قیمتوں میں کمی
امریکی صدر ٹرمپ کے ایران کے ساتھ بات چیت کے انکشاف کے بعد بین الاقوامی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی واقعہ ہوئی ہے۔
اے ایف پی کے مطابق، بین الاقوامی بینچ مارک برینٹ نارتھ سی کروڈ 14 فیصد سے زیادہ گر کر 96.00 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
امریکی تیل کا مرکزی معاہدہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ بھی 14 فیصد سے زیادہ گھٹ کر 84.37 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
شام 4 بج کر 50 منٹ
ایرانی، روسی وزرا خارجہ کی فون پر گفتگو
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ ’نتیجہ خیز بات چیت‘ کے انکشاف کے بعد ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پیر کو اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف سے فون پر بات کی۔
اے ایف پی کے مطابق، روسی وزارت خارجہ نے کہا کہ روس کے لاوروف نے ’دشمنی کے فوری خاتمے اور ایک ایسے سیاسی تصفیے کا مطالبہ کیا جس میں ایران سے بڑھ کر تمام فریقین کے جائز مفادات کو مدنظر رکھا جائے۔‘
شام چار بج کر 31 منٹ
امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت، بجلی گھروں پر حملے ملتوی: ٹرمپ
امریکی صدر ٹرمپ نے پیر کو ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ’نتیجہ خیز بات چیت‘ ہوئی ہے اور امریکہ اب پانچ دن تک ایران کے بجلی گھروں کو نشانہ نہیں بنائے گا۔
انہوں نے لکھا، ’مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ امریکہ اور ملک ایران کے درمیان گذشتہ دو دنوں میں مشرق وسطیٰ میں ہماری دشمنیوں کے مکمل اور حتمی حل کے حوالے سے بہت اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے۔ یہ گہری، تفصیلی اور تعمیری بات چیت، جو رواں ہفتے جاری رہے گی، کے انداز اور مزاج کی بنیاد پر، میں نے محکمہ جنگ کو ہدایت کی ہے کہ وہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر ہر قسم کے فوجی حملوں کو پانچ دن کی مدت کے لیے ملتوی کر دے، جو جاری ملاقاتوں اور بات چیت کی کامیابی سے مشروط ہے۔‘
دن دو بج کر 50 منٹ
ایران کی جانب سے برطانیہ کو نشانہ بنائے جانے کی کوئی اطلاع نہیں: سٹارمر
برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے برطانیہ کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع موجود نہیں۔
انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’ہم ہر وقت جائزے لیتے رہتے ہیں تاکہ اپنی حفاظت یقینی بنا سکیں اور اس حوالے سے کوئی ایسی اطلاع موجود نہیں کہ ہمیں اس طرح نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘
ان سے پوچھا گیا تھا کہ آیا ایران برطانیہ کو نشانہ بنا سکتا ہے، خاص طور پر ان اطلاعات کے بعد کہ ایران نے ہفتے کے اختتام پر امریکی-برطانوی فوجی اڈےڈیاگو گارسیا پر دو بیلسٹک میزائل داغے تھے۔
سٹارمر نے یہ بھی کہا کہ ہرمز کی آبنائے کو دوبارہ کھولنے کی کسی بھی کوشش کے لیے محتاط غور اور قابل عمل منصوبے کی ضرورت ہے اور ان کی اولین ترجیح برطانوی مفادات کا تحفظ اور کشیدگی میں کمی ہے۔ روئٹرز
دن ایک بجے
مزید لڑائی سے مشرق وسطیٰ کی صورت حال قابو سے باہر ہو جائے گی: چین
چین نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ پر مزید لڑائی سے جنگ زدہ خطے میں صورتحال قابو سے باہر ہو جائے گی۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیان نے نیوز کانفرنس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے بجلی گھروں پر حملے کی دھمکیوں سے متعلق ایک سوال پر کہا ’اگر جنگ مزید پھیلتی ہے اور صورتحال دوبارہ خراب ہوتی ہے تو پورے خطے کی صورت حال قابو سے باہر ہو سکتی ہے۔‘ اے ایف پی
صبح 11 بج کر30 منٹ پر
توانائی بحران جاری رہا تو کوئی محفوظ نہیں رہے گا، عالمی توانائی ایجنسی
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے) نے پیر کو خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ گذشتہ دہائیوں کے بدترین عالمی توانائی کے بحران کا سبب بن سکتی ہے۔
توانائی کے ممکنہ حران پر آئی ای اے کے ڈائریکٹر فاتح بیرل نے آسٹریلیا سے اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔
ان کے مطابق ’آج تک، ہم روزانہ 1.1 کروڑ بیرل تیل سے محروم ہو چکے ہیں، جو 1970 کی دہائی کے دو بڑے تیل کے بحرانوں کے مجموعے سے بھی زیادہ ہے۔‘
فاتح بیرل نے عالمی معیشت کے لیے ’بڑے خطرے‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’اگر یہ بحران اسی طرح جاری رہا تو کوئی بھی ملک اس کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے گا۔ اس لیے عالمی سطح پر کارروائی کرنا ضروری ہے۔‘
آبنائے ہرمز کی بندش اور تہران کی جانب سے خلیج سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنانے سمیت خلیجی ممالک کی کئی توانائی کی تنصیبات ایران کے نشانے پر ہیں۔
آئی ای اے کے سربراہ کے مطابق، 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے نتیجے میں نو ممالک میں کم از کم 40 توانائی کی تنصیبات کو ’شدید یا انتہائی شدید نقصان‘ پہنچا ہے۔ اے ایف پی۔
صبح نو بج کر 40 منٹ پر
ایران پر اسرائیلی حملوں کی نئی لہر، تہران میں دھماکے سنے گئے: ایرانی میڈیا
اسرائیلی فوج نے ایران پر حملوں کی نئی لہر شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ایرانی میڈیا کے مطابق پیر کو علی الصبح ایران کے دارالحکومت تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
مقامی میڈیا مہر نے ٹیلی گرام پر پوسٹ کیا کہ ’تہران میں دھماکے کی آواز سنی گئی۔‘ فارس نیوز ایجنسی نے کہا کہ فضائی حملوں میں ایرانی دارالحکومت کے پانچ علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ’دھماکوں کی خوفناک آوازیں رپورٹ ہوئی ہیں۔‘
اے ایف پی کے ایک صحافی نے بتایا کہ ان اطلاعات کے ایک گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے بعد بھی مشرقی تہران کے ایک مقام سے سیاہ دھوئیں کے گھنے بادل اٹھتے دیکھے جا سکتے تھے۔
ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے پیر کو بتایا کہ جنوبی ایران میں ایک براڈکاسٹ سٹیشن پر حملے میں کم از کم ایک شخص کی موت ہوئی۔
ٹیلی گرام پر ایک پوسٹ میں اسرائیلی فوج نے کہا کہ اس نے ’تہران میں ایرانی دہشت گرد حکومت کی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے بڑے پیمانے پر حملوں کی ایک لہر شروع کر دی ہے۔‘ اے ایف پی
صبح آٹھ بج کر 20 منٹ پر
ریاض کی جانب دو میزائل داغے گئے: سعودی عرب
سعودی عرب کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں بتایا کہ دو بیلسٹک میزائل ریاض ریجن کی جانب داغے گئے، جن میں سے ایک کو روک لیا گیا جبکہ دوسرا غیر آباد علاقے میں گرا۔
صبح چھ بج کر 20 منٹ پر
امریکہ نے بجلی گھر پر حملہ کیا تو آبنائے ہرمز ’مکمل‘ بند کر دیں گے: ایران
ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس کے بجلی گھروں پر حملے کی دھمکی پر عمل کیا تو تیل اور دیگر برآمدات کے لیے اہم آبنائے ہرمز کو فوری طور پر ’مکمل طور پر بند‘ کر دیا جائے گا۔
ٹرمپ نے ہفتے کی رات کو آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے بعد توانائی کے ایرانی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے گا۔
امریکہ اور ایران نے اتوار کو اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی جب کہ مشرق وسطیٰ میں جنگ نے، جو اب اپنے چوتھے ہفتے میں ہے، پورے خطے میں انسانی جانوں اور روزگار کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
اے ایف پی کے مطابق ایران کی عسکری کمان نے امریکی ڈیڈ لائن کا ڈٹ کر جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ٹرمپ نے ایسا کیا تو وہ اسرائیل کے ’بجلی گھروں، توانائی اور انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشن ٹیکنالوجی کے بنیادی ڈھانچے‘ کے ساتھ ساتھ امریکی اڈوں کی میزبانی کرنے والے خطے کے ممالک کے بجلی گھروں اور امریکی شیئر ہولڈرز والی کمپنیوں کو بھی نشانہ بنائے گی۔
آپریشنل کمان نے خبردار کیا کہ ’اگر ایران کے بجلی گھروں کے حوالے سے امریکہ کی دھمکیوں پر عمل کیا گیا تو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا اور اسے اس وقت تک نہیں کھولا جائے گا جب تک ہمارے تباہ شدہ بجلی گھر دوبارہ تعمیر نہیں ہو جاتے۔‘