روس اور یوکرین نے جمعے کو تصدیق کی ہے کہ انہوں نے امریکہ کی ثالثی میں ہونے والی تین روزہ جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے جو نو مئی سے 11 مئی تک جاری رہے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انہیں امید ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی۔
دن کے آغاز میں ٹرتھ سوشل پر عارضی جنگ بندی کے حوالے سے ٹرمپ کے اعلان میں یہ بھی کہا گیا کہ چار سال سے زائد عرصے سے تنازعے کا شکار دونوں ممالک ایک ایک ہزار جنگی قیدیوں کا تبادلہ کریں گے۔
ٹرمپ نے جمعے کی شام صحافیوں کو بتایا، ’میں اس میں ایک بڑی توسیع دیکھنا چاہوں گا۔ ایسا ہو سکتا ہے۔‘
کیئف اور ماسکو دونوں نے ایک دوسرے پر اس ہفتے الگ الگ اعلان کردہ جنگ بندیوں کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے کیوں کہ روس نو مئی کو یوم فتح پریڈ منعقد کرنے کی تیاری کر رہا ہے جو جرمنی پر 1945 کی سوویت فتح کی یاد میں منائی جاتی ہے۔
ٹرمپ یوکرین روس جنگ کے خاتمے میں پیش رفت نہ ہونے پر تیزی سے مایوسی کا شکار ہو رہے ہیں اور لڑائی کا رکنا امریکی صدر کے لیے ایک اچھی خبر ہے، جن کی اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ نے ان کی ملکی مقبولیت کو نقصان پہنچایا ہے۔
ایران جنگ کو ختم کرنے کی کوششیں، جو اب اپنے تیسرے مہینے میں داخل ہو چکی ہے، خلیج میں لڑائی دوبارہ بھڑک اٹھنے کے درمیان رکی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔
ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر پوسٹ میں لکھا کہ یوکرین اور روس کی جنگ بندی میں تمام ’متحرک سرگرمیوں‘ کی معطلی اور ہر ملک کی جانب سے ایک ہزار قیدیوں کا تبادلہ شامل ہو گا۔
انہوں نے پوسٹ میں کہا کہ ’یہ درخواست براہ راست میری جانب سے کی گئی تھی اور میں صدر ولادی میر پوتن اور صدر ولودی میر زیلنسکی کی طرف سے اس پر اتفاق کرنے کو بہت سراہتا ہوں۔
’امید ہے کہ یہ ایک بہت طویل، جان لیوا اور سخت لڑی جانے والی جنگ کے خاتمے کا آغاز ہے۔‘
ٹرمپ نے مزید کہا کہ جنگ کے خاتمے کی جانب بڑھنے کے لیے مذاکرات جاری ہیں ’اور ہم ہر دن قریب سے قریب تر ہو رہے ہیں۔‘
زیلنسکی نے ٹیلی گرام پر لکھتے ہوئے تصدیق کی کہ جنگ بندی امریکی مذاکراتی کوششوں کے حصے کے طور پر طے پائی ہے اور انسانی مسائل ایک کلیدی ترجیح رہے ہیں۔
زیلنسکی نے لکھا ’یہی وجہ ہے کہ آج، امریکی فریق کی ثالثی میں ہونے والے مذاکراتی عمل کے دائرہ کار میں، ہمیں ایک ہزار کے بدلے ایک ہزار کی شکل میں جنگی قیدیوں کا تبادلہ کرنے کے لیے روس کی رضامندی موصول ہوئی ہے۔‘
زیلنسکی نے ایک طنزیہ حکم نامہ بھی جاری کیا جس میں روس کی نو مئی کی فوجی پریڈ کو جاری رکھنے کی ’اجازت‘ دی گئی اور کہا گیا کہ یوکرینی ہتھیار ریڈ سکوائر کو نشانہ نہیں بنائیں گے۔
روس نے خبردار کیا ہے کہ ہفتے کو ریڈ سکوائر پریڈ میں خلل ڈالنے کی یوکرین کی کسی بھی کوشش کے نتیجے میں کیئف پر ایک بڑا میزائل حملہ کیا جائے گا۔
جمعے کی یہ خبر ان جامع مذاکرات کے بعد سامنے آئی جسے زیلنسکی نے میامی میں امریکی اور یوکرینی حکام کے درمیان ہونے والی بات چیت قرار دیا جب کہ امریکی ایلچی آنے والے مہینوں میں کیئف کا دورہ کرنے والے ہیں۔
کریملن کے معاون یوری اوشاکوف نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روس نے بھی ٹرمپ کے اس اقدام سے اتفاق کیا ہے۔
انہوں نے کہا ’اس معاملے پر امریکی انتظامیہ کے ساتھ ہماری ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کے دوران ایک معاہدہ طے پایا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانین نے کہا کہ فضائی دفاعی نظام نے دارالحکومت کی جانب آنے والے یوکرینی ڈرونز کو مقامی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے (1700 جی ایم ٹی) کے قریب ختم ہونے والے سات گھنٹے کے دورانیے میں روکا۔
جب سے ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا ہے، ماسکو نے ایسا ایک نوٹس جاری کیا ہے۔
اس سے قبل، روس اور یوکرین نے ایک دوسرے پر ان جنگ بندیوں کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا جن کا ہر ایک نے الگ الگ اعلان کیا تھا۔
دونوں فریق میزائلوں، ڈرونز اور توپ خانے سے ایک دوسرے کو نشانہ بنا رہے ہیں اور جنگ کا کوئی اختتام نظر نہیں آ رہا۔ امن مذاکرات رکے ہوئے ہیں اور یوکرین نے پوتن کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے کہ وہ علاقہ ان کے حوالے کر دے جس کا اس نے 2022 سے کامیابی سے دفاع کیا ہے۔
الگ الگ جنگ بندیاں
پوتن نے روس کی سب سے قابل احترام قومی تعطیل، یوم فتح کی تقریبات کو مدنظر رکھتے ہوئے جمعے اور ہفتہ کو یکطرفہ طور پر دو روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔
کیئف نے جواب دیا کہ محض چھٹی کے لیے جنگ بندی نامناسب ہے اور اس کی بجائے دو دن قبل ایک غیر معینہ مدت کی جنگ بندی شروع کرنے کا مطالبہ کیا، جسے ماسکو نے نظر انداز کر دیا۔