روس یوکرین کو دنیا کے نقشے سے مٹانے پر تلا ہوا ہے: امریکہ

اقوام متحدہ میں تعینات امریکی مندوب کا کہنا ہے کہ اس میں اب کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ روس یوکرین کو تباہ کرنے اور اسے دنیا کے نقشے سے مٹانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

سات جون 2022 کی اس تصویر میں یوکرینی فوجی دونیتسک کے علاقے میں واقع روسی فوج کی پوزیشنز پر زمین سے زمین پر مار کرنے والے راکٹ فائر کر رہے ہیں(اے ایف پی)

اقوام متحدہ میں تعینات امریکی مندوب کا کہنا ہے کہ اس میں اب کوئی شک نہیں ہونا چاہئے کہ روس یوکرین کو تباہ کرنے اور اسے دنیا کے نقشے سے مٹانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بتایا کہ امریکہ ایسے اشارے دیکھ رہا ہے کہ روس مشرقی یوکرین کے تمام علاقوں دونیتسک اور لوہانسک اور جنوبی خیرسون اور زاپوریزہیا کے علاقوں کو اپنے اندر ضم کرنے کی کوششوں کی بنیاد رکھ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس کے وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے یہاں تک کہا ہے کہ روس کی جنگ کا مقصد یہی ہے۔

لاوروف نے اتوار کو قاہرہ میں ایک عرب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یوکرین میں ماسکو کا سب سے بڑا مقصد اپنے لوگوں کو اس کی ’ناقابل قبول حکومت‘ سے آزاد کرنا ہے۔

بظاہر یہ تجویز کرتے ہوئے کہ ماسکو کی جنگ کا مقصد مشرق میں دونیتسک اور لوہانسک پر مشتمل یوکرین کے صنعتی دونباس علاقے کو تسخیر کرنا ہے، لاوروف نے کہا: ’ہم یقینی طور پر یوکرین کے عوام کو حکومت سے نجات دلانے میں مدد کریں گے جو کہ عوام دشمن اور تاریخ مخالف ہے۔‘

اقوام متحدہ میں روس کے نائب سفیر دمتری پولیانسکی نے جمعے کو سلامتی کونسل کو بتایا کہ ’یوکرین کی مکمل طور پر ڈی نازی فیکیشن اور ڈی ملٹرائزیشن کی جائے گی۔‘

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

انہوں نے کہا کہ ’اب اس مرحلے سے ڈونباس، نہ ہی روس اور نہ ہی آزاد کرائے گئے یوکرین کے علاقوں کو کوئی خطرہ نہیں ہونا چاہیے جہاں کئی سالوں میں پہلی بار لوگ آخرکار یہ محسوس کر رہے ہیں کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزار سکتے ہیں۔‘

روسی نائب سفیر نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے توپ خانے اور زمین سے زمین تک مار کرنے والے ایم ایل آر ایس راکٹ فراہم کرنے والے مغربی ممالک کو بھی خبردار کیا کہ وہ ’عارضی جنگ بندی لائن‘ کو مزید مغرب کی طرف منتقل کر رہے ہیں اور ایسا کرتے ہوئے ہمارے خصوصی فوجی آپریشن کے مقاصد کو مزید واضح کر رہے ہیں۔‘

دوسری جانب یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے یوکرین کے دونیتسک خطے سے عوام کو انخلا کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یوکرینی صدر نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ جنگ کے فرنٹ لائن خطے دونیتسک کو خالی کر دیں جہاں روسی فوج کے ساتھ شدید جھڑپوں خدشہ ہے۔

کیئف نے عالمی اداروں ریڈ کراس اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس علاقے تک رسائی حاصل کریں۔

یوکرین پر 24 فروری کو شروع کیے گئے حملے کے بعد سے مشرقی دونیتسک کے علاقے کو روس کے حملے کا سامنا ہے۔

صدر وولادی میر زیلینسکی نے اپنے یومیہ خطاب میں خبردار کیا کہ ہزاروں افراد بشمول بچے خطے کے میدان جنگ میں اب بھی موجود ہیں جن کے فوری انخلا کی ضرورت ہے۔

دونیتسک کے گورنر کے مطابق جمعے کو اس خطے میں روسی حملے کے نتیجے میں چھ شہری ہلاک اور 15 زخمی ہوئے۔

صدرزیلنسکی نے کہا: ’دونیتسک سے لازمی انخلا کے بارے میں پہلے ہی حکومتی فیصلہ ہو چکا ہے۔ یہ علاقہ چھوڑ دیں ہم اس انخلا میں مدد کریں گے۔ جنگ کے اس مرحلے پر دہشت گردی روس کا اہم ہتھیار ہے۔‘

یوکرین کے سرکاری اندازوں کے مطابق دونیتسک کے غیر مقبوضہ علاقے میں اب بھی شہریوں کی تعداد دو لاکھ سے دو لاکھ 20 ہزار کے درمیان ہے۔

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا