معاہدے کے باوجود روس کا یوکرینی بندرگاہ پر حملہ

یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے جنوبی بندرگاہ اوڈیسا پر حملے کو صریحاً ’بربریت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ماسکو پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

20 جولائی 2022 کی اس تصویر میں یوکرین فوج کے اہلکاروں کو ٹینک پر سوار اگلے مورچوں پر جاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)

امریکی کانگریس کے سینیئر ارکان پر مشتمل ایک اعلی سطح کے وفد نے یوکرین کے درالحکومت کیئف کا دورہ کیا اور جنگ زدہ ملک کے صدر وولودی میر زیلنسکی سے ملاقات میں روس کے خلاف جنگ میں امریکہ کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ہفتے کو یوکرین پہنچنے والے ہائی پروفائل امریکی وفد میں ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ ایڈم سمتھ بھی شامل تھے۔

دورے کے دوران امریکی وفد نے ایک بیان میں کہا: ’امریکہ دنیا بھر میں اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ اقتصادی، فوجی اور انسانی امداد فراہم کرکے یوکرین کے ساتھ کھڑا ہے۔‘

انہوں نے مزید کہا: ’ہم صدر زیلنسکی اور یوکرینی عوام کی ہر ممکن حد تک مؤثر طریقے سے حمایت کرنے کے طریقے تلاش کرتے رہیں گے جب تک کہ وہ بہادری سے اپنے موقف پر ڈٹ کر کھڑے ہیں۔‘

امریکی وفد کے بیان میں ہتھیاروں کی منتقلی کا کوئی خاص حوالہ نہیں دیا گیا تاہم امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے بدھ کو کہا تھا کہ واشنگٹن یوکرین کو چار مزید ہائی موبلٹی آرٹلری راکٹ سسٹم فراہم کرے گا جس کے بعد یوکرین کے پاس اس جدید ترین دفاعی نظام کی کل تعداد 16 ہو جائے گی۔

تاہم ایڈم سمتھ نے امریکی حمایت یافتہ ’ریڈیو لبرٹی‘ کو بتاتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن اور اس کے اتحادی مزید راکٹ لانچنگ سسٹم یوکرین کو فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

دوسری جانب روسی میزائلوں نے ہفتے ہی کو یوکرین کی جنوبی بندرگاہ اوڈیسا کو نشانہ بنایا۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یوکرین کی فوج نے کہا کہ یہ تارہ ترین حملہ اس وقت کیا گیا ہے جب ایک روز قبل ہی بحیرہ اسود کی بندرگاہوں سے اناج کی برآمدات کو بحال کرنے اور جنگ کی وجہ سے عالمی خوراک کی قلت کو کم کرنے کے لیے معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے، جس سے یہ معاہدہ خطرے میں پڑ گیا۔

یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے اس حملے کو صریحاً ’بربریت‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاہدے پر عمل درآمد کے لیے ماسکو پر بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

تاہم سرکاری خبر رساں ادارے نے یوکرین کی فوج کے حوالے سے کہا کہ روسی میزائلوں سے بندرگاہ کو کوئی خاص نقصان نہیں ہوا جب کہ ایک حکومتی وزیر نے کہا کہ بحیرہ اسود کی بندرگاہوں سے اناج کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کی تیاریاں جاری ہیں۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق جمعے کو ماسکو اور کیئف کے درمیان اناج کے حوالے سے معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ اقوام متحدہ اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والے اس معاہدے کو دنیا بھر میں ایک پیش رفت قرار دیا گیا کیوں کہ اوڈیسا سمیت بحیرہ اسود کی بندرگاہوں سے اناج کی برآمدات کی اجازت کو خوراک کی بڑھتی ہوئی عالمی قیمتوں کو روکنے کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

اوڈیسا پر حملوں کی اقوام متحدہ، یورپی یونین، امریکہ، برطانیہ، جرمنی اور اٹلی نے بھی شدید مذمت کی۔ اقوام متحدہ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ معاہدہ چند ہفتوں میں فعال ہو جائے گا۔

یوکرین کی وزارت خارجہ نے ہفتے کو ہونے والے فضائی حملوں کو ترکی اور اقوام متحدہ کے ’منہ پر تھوکنے‘ کے مترادف قرار دیا۔

اے ایف پی کے مطابق امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن نے ہفتے کو ایک بیان میں کہا: ’یہ حملہ کل کے معاہدے کے لیے روس کے عزم پر سنگین شکوک پیدا کرتا ہے جس سے اقوام متحدہ، ترکی اور یوکرین کی جانب سے عالمی منڈیوں کو درکار ضروری خوراک کی فراہمی کو نقصان پہنچے گا۔‘

تاہم ترکی کے وزیر دفاع نے کہا کہ روسی حکام نے انقرہ کو بتایا کہ ماسکو کا ان حملوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی روسی وزارت دفاع کے بیانات اور نہ ہی فوج کی روزانہ جاری ہونے والی سمری میں اوڈیسا میں میزائل حملوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

whatsapp channel.jpeg

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا