|
ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ جنگ کو آج 22 واں دن ہے۔ امریکہ نے اسے ’آپریشن ایپک فیوری‘ جبکہ ایران نے جوابی کارروائی کو ’وعدہ صادق 4‘ کا نام دیا ہے۔ اس جنگ کے تازہ ترین اپ ڈیٹس پیش خدمت ہیں۔ |
رات 11 بج کر 55 منٹ پر
سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں ڈرون مار گرایا
سعودی عرب نے اتوار کو کہا ہے کہ ایک ڈرون ملکی حدود میں داخل ہوا جسے دفاعی نظام نے کامیابی سے مار گرایا۔
المتحدث الرسمي لـ #وزارة_الدفاع: اعتراض وتدمير مسيّرة في المنطقة الشرقية. pic.twitter.com/aVbWxA8ndO
— وزارة الدفاع (@modgovksa) March 22, 2026
سعودی وزارت دفاع نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ملک کے مشرقی علاقے میں ایک ڈرون کو انٹرسیپٹ کر کے تباہ کر دیا گیا ہے۔
شام 6 بج کر 40 منٹ پر
اسحٰق ڈار کا مصری ہم منصب سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر گفتگو
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے اتوار کو مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی سے علاقائی صورت حال پر گفتگو کی۔
اسلام آباد میں وزارت خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ پاکستانی نائب وزیر اعظم نے خطے میں امن اور استحکام کو فروغ دینے کے لیے بات چیت اور اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو عید کی مبارکباد بھی دی۔
شام 6 بج کر 30 منٹ پر
امریکہ، اسرائیل حملوں سے پانی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ’بھاری نقصان‘ پہنچا ہے: ایرانی وزیر
ایرانی حکام نے اتوار کو کہا کہ ایران کے اہم پانی اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو دسیوں ہزار شہری مقامات پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی وجہ سے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
اصنا نیوز ایجنسی کے مطابق، وزیر توانائی عباس علی آبادی نے کہا، ’امریکہ اور صہیونی حکومت کے دہشت گرد اور سائبر حملوں سے ملک کے اہم پانی اور بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’حملوں میں پانی کی ترسیل اور علاج کی درجنوں سہولیات کو نشانہ بنایا گیا اور پانی کی فراہمی کے اہم نیٹ ورکس کے کچھ حصوں کو تباہ کر دیا گیا۔
تاہم انہوں نے بتایا کہا کہ نقصان کی مرمت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔
ایران کے ہلال احمر کے سربراہ پیرحسین کولیوند نے کہا کہ تباہ شدہ سویلین سائٹس کی کل تعداد ’تازہ ترین فیلڈ جائزوں کی بنیاد پر 81,365 تک پہنچ گئی ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اعداد و شمار میں رہائشی اور تجارتی یونٹس، سکول، طبی مراکز اور گاڑیاں شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ہر تباہ شدہ یونٹ کے پیچھے ایک خاندان، ایک زندگی، ایک یاد، ایک ذریعہ معاش اور ایک مستقبل ہے جو جنگ اور تشدد کے ملبے تلے دب گیا ہے۔‘
اے ایف پی ایرانی دارالحکومت سے باہر سائٹس تک رسائی یا اعداد و شمار کی تصدیق کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے، لیکن تہران میں صحافیوں نے متعدد رہائشی عمارتوں اور دیگر شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کی اطلاع دی ہے۔ اے ایف پی
شام 4 بج کر 30 منٹ پر
جنگ خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے: ڈبلیو ایچ او
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے جنگ میں ملوث فریقین کو زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے اتوار کو خبردار کیا ہے کہ ایران اور اسرائیل میں جوہری مقامات کے گرد حملوں کے ساتھ مشرق وسطیٰ کی جنگ ایک ’خطرناک مرحلے‘ میں داخل ہو گئی ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے ایکس پر کہا، ’جوہری مقامات کو نشانہ بنانے والے حملے صحت عامہ اور ماحولیاتی تحفظ کے لیے بڑھتے ہوئے خطرے کو جنم دیتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ’میں تمام فریقین سے فوری طور پر زیادہ سے زیادہ فوجی تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کسی بھی ایسی کارروائی سے گریز کرنے کا مطالبہ کرتا ہوں جو جوہری واقعات کو متحرک کر سکے۔‘
The war in the Middle East has reached a perilous stage with strikes reportedly hitting the Natanz Enrichment Complex in Iran, and the Israeli city of Dimona, where a nuclear facility is located.
@iaeaorg is looking into incidents reported yesterday in southeastern Iran, and in… pic.twitter.com/gJdQd1eOqS
— Tedros Adhanom Ghebreyesus (@DrTedros) March 22, 2026
ہفتے کو ایک ایک ایرانی بیلسٹک میزائل نے جنوبی اسرائیلی قصبے دیمونا میں رہائشی عمارتوں کو چیر ڈالا اور درجنوں افراد زخمی ہوئے۔
ڈیمونا میں مشرق وسطیٰ کا بڑے جوہری ہتھیار رکھے جاتے ہیں، حالانکہ اسرائیل نے کبھی بھی جوہری ہتھیار رکھنے کا اعتراف نہیں کیا، اس بات پر اصرار کیا کہ یہ جگہ تحقیق کے لیے ہے۔
ایران نے کہا کہ یہ حملہ نطنز میں اس کی جوہری سائٹ پر پہلے حملے کے جواب میں کیا گیا تھا، جس میں زیر زمین سینٹری فیوجز ہیں جو ایران کے متنازعہ جوہری پروگرام کے لیے یورینیم کو افزودہ کرنے کے لیے استعمال کیے گئے تھے اور جون 2025 کی جنگ میں اسے نقصان پہنچا تھا۔
سہ پہر 3 بج کر 16 منٹ
ایران نے اسرائیل پر 400 سے زیادہ بیلسٹک میزائل داغے: فوج
اسرائیل کی فوج نے اتوار کو کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے آغاز کے بعد سے ایران نے اسرائیل پر 400 سے زیادہ بیلسٹک میزائل داغے ہیں، جن میں سے تقریباً 92 فیصد کو روک دیا گیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل نداو شوشانی نے صحافیوں کو بتایا، ’ایران نے 400 سے زیادہ بیلسٹک میزائل فائر کیے ہیں۔ ہمارے پاس شروع ہونے کی شرح بہت اچھی ہے۔ ہمارے پاس تقریباً 92 فیصد کامیاب مداخلت کی شرح ہے۔‘
ایرانی میزائلوں نے ہفتے کو جنوبی اسرائیل کے دو قصبوں کو نشانہ بنایا، جس سے تقریباً 175 افراد کو طبی امداد کی ضرورت تھی۔
قطر کا ہیلی کاپٹر سمندر میں گر کر تباہ، چھ اموات
قطر کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ سمندر میں اس کا ہیلی کاپٹر گرنے سے چھ افراد جان سے گئے جبکہ ایک لاپتہ شخص کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
اس سے قبل قطری حکومت نے بتایا تھا کہ امدادی کارکن ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے عملے اور مسافروں کی تلاش کر رہے ہیں جو ’تکنیکی خرابی‘ کے بعد خلیجی ریاست کی سمندری حدود میں گر کر تباہ ہو گیا۔
قطر کی وزارت دفاع نے ایکس پر جاری بیان میں کہا ’قطری ہیلی کاپٹر کو معمول کی ڈیوٹی کے دوران تکنیکی خرابی کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے وہ ریاست کی علاقائی سمندری حدود میں گر گیا۔ اس کے عملے کے ارکان اور مسافروں کی تلاش کا کام جاری ہے۔‘
اگرچہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے آغاز سے ہی قطر کو کئی حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے لیکن اس ہیلی کاپٹر اور ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والے تنازعے کے درمیان کوئی تعلق سامنے نہیں آیا۔ روئٹرز
دن 12 بج کر 50 منٹ
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے رپورٹ کیا کہ بغداد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ایک فوجی اڈے کو ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
ارنا نے ایک ایسی جگہ کا حوالہ دیتے ہوئے، جو ماضی میں امریکی فوج کے زیرِ استعمال رہی ہے، لکھا ’بغداد بین الاقوامی ہوائی اڈے کے قریب واقع یہ فوجی اڈہ ایک بار پھر ڈرون حملوں کا نشانہ بنا ہے۔‘ اے ایف پی
دن 12 بج کر 10 منٹ
لبنان سے داغے گئے راکٹ سے ایک اسرائیلی شخص کی موت
اسرائیلی امدادی اداروں کے اہلکاروں نے کہا ہے کہ کہ لبنان سے فائر کیے گئے راکٹ کے نتیجے میں اسرائیل کی شمالی سرحد کے قریب ایک شخص مارا گیا۔
دو مارچ کو حزب اللہ کے ساتھ جھڑپیں شروع ہونے کے بعد سے لبنان کی طرف سے ہونے والے حملوں میں یہ اسرائیل کا پہلا جانی نقصان ہے۔
ایمرجنسی ریسپانس یونٹ زاکا 360 نے بتایا کہ ایک گاڑی پر ’لبنان سے داغے گئے راکٹ‘ کے حملے کے بعد ایک شخص کو مردہ قرار دے دیا گیا۔
مقامی فائر فائٹرز کے مطابق ’براہ راست نشانہ‘ بننے کے بعد دو گاڑیاں آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آ گئیں۔
دن 11 بجے
امریکی حملے کے جواب میں مشرق وسطیٰ میں بنیادی ڈھانچے پر حملہ کریں گے: ایران
اے ایف پی کے مطابق ایران نے اتوار کو خبردار کیا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز فوری طور پر نہ کھلنے کی صورت میں ایرانی بجلی گھروں کو ’ملیامیٹ‘ کرنے کی اپنی دھمکی پر عمل کیا، تو وہ مشرق وسطیٰ بھر میں اہم بنیادی ڈھانچے پر حملہ کر دے گا۔
ایران کی ملٹری آپریشنل کمانڈ نے امریکی حملے کے جواب میں کہا ہے کہ اگر ملک کی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا تو خطے میں ’امریکہ کے توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور پانی سے نمک الک کرنے والے تمام بنیادی ڈھانچے‘ کو نشانہ بنایا جائے گا۔
صبح آٹھ بج کر 30 منٹ
ریاض کی جانب 3 میزائل داغے گئے: سعودی عرب
سعودی وزارت دفاع نے ایک بیان میں بتایا کہ ریاض کی طرف تین میزائل داغے گئے جن میں سے ایک میزائل کو تباہ کر دیا گیا جبکہ باقی دو غیر آباد علاقے میں گر گئے۔
صبح سات بج کر 15 منٹ
ایران نے 48 گھنٹے میں آبنائے ہرمز نہ کھولی تو اس کے پاور پلانٹ تباہ کر دیں گے: ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کو دھمکی دی ہے کہ اگر ایران نے اگلے 48 گھنٹوں میں جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز دوبارہ نہ کھولی تو اس کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کر دیا جائے گا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ الٹی میٹم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب تہران نے اسرائیل پر اپنا اب تک کا سب سے تباہ کن حملہ کیا ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا اگر تہران نے 48 گھنٹوں کے اندر یا ان کی پوسٹ کے وقت کے مطابق پیر کو 23:44 جی ایم ٹی تک آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر نہ کھولا تو امریکہ ایرانی بجلی گھروں کو ’نشانہ بنائے گا اور ملیامیٹ کر دے گا‘۔
انہوں نے مزید لکھا کہ اس کا ’آغاز سب سے بڑے بجلی گھر سے ہو گا۔‘
ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں ایرانی فوج نے کہا کہ وہ خطے میں ’امریکہ اور اس کی اتحادی حکومت سے تعلق رکھنے والے‘ توانائی اور پانی کو نمک سے پاک کرنے والے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنائے گی۔
صبح چھ بج کر 45 منٹ
ایران کا دو اسرائیلی شہروں پر حملہ، 100 سے زائد زخمی
اسرائیلی طبی عملے کے مطابق ہفتے کو جنوبی اسرائیل کے دو شہروں پر ایرانی میزائل حملوں میں 100 سے زائد افراد زخمی ہو گئے، کیوں کہ اسرائیلی فضائی دفاعی نظام ان میزائلوں کو روکنے میں ناکام رہا۔
میزائلوں کے براہ راست گرنے سے رہائشی عمارتوں کے سامنے کے حصے تباہ ہو گئے اور زمین میں گہرے گڑھے پڑ گئے۔
میگن ڈیوڈ ایڈم کے امدادی کارکنوں نے بتایا کہ عراد کے قصبے میں 84 افراد زخمی ہوئے جن میں سے 10 کی حالت تشویش ناک ہے، جب کہ اس سے چند گھنٹے قبل قریبی شہر دیمونا میں 33 افراد زخمی ہوئے۔
عراد سے موصول ہونے والی اے ایف پی کی فوٹیج میں امدادی کارکنوں کو ایک تباہ شدہ عمارت کے ملبے تلے زخمیوں کو تلاش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
جائے وقوعہ پر درجنوں ہنگامی امدادی اہلکاروں کے ساتھ فائر بریگیڈ کی گاڑیاں بھی موجود تھیں جن کی روشنیاں جل بجھ رہی تھیں۔
اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ میزائلوں کو روکنے میں ناکامی کی تحقیقات کرے گی۔