دنیا کا سب سے بڑا خام تیل درآمد کرنے والا ملک چین حالیہ برسوں میں ایران سے تیل کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے۔
تاہم امریکہ کی ایرانی تیل پر 30 روزہ پابندی میں نرمی کے اعلان کے بعد اسے مسابقت اور قیمتوں میں اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بیجنگ وینزویلا اور روس سے بھی ارزاں قیمتوں پر سب سے زیادہ تیل خریدنے والا ملک ہے اور اس نے مغربی پابندیوں کے شکار ان تینوں ممالک سے تیل خرید کر حالیہ برسوں میں اپنی درآمدی لاگت میں اربوں ڈالر کی بچت کی ہے۔
چین کتنا ایرانی تیل خریدتا ہے؟
تجزیاتی ادارے کپلر کے 2025 کے اعداد و شمار کے مطابق چین ایران کے بھیجے گئے تیل کا 80 فیصد سے زیادہ خریدتا ہے۔
امریکی پابندیوں کے باعث ایرانی تیل کے خریدار محدود رہے ہیں کیونکہ ان کا مقصد تہران کے جوہری پروگرام کی فنڈنگ کو روکنا ہے۔
کپلر کے مطابق چین نے گذشتہ سال اوسطاً 13 لاکھ 80 ہزار بیرل یومیہ ایرانی تیل خریدا، جو اس کی مجموعی ایک کروڑ دو لاکھ 70 ہزار بیرل یومیہ سمندری درآمدات کا تقریباً 13.4 فیصد بنتا ہے۔
چین میں ایرانی خام تیل کے بڑے خریدار کون ہیں؟
چینی نجی ریفائنریز، جنہیں ’ٹی پاٹس‘ کہا جاتا ہے اور جو زیادہ تر شینڈونگ صوبے میں واقع ہیں، ایرانی خام تیل کی بڑی خریدار ہیں کیونکہ یہ غیر پابندی شدہ تیل کے مقابلے میں سستا ہوتا ہے۔
یہ ریفائنریز چین کی کل ریفائننگ صلاحیت کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ رکھتی ہیں، کم یا بعض اوقات منفی منافع پر کام کرتی ہیں اور حالیہ عرصے میں اندرونِ ملک طلب میں کمی کے باعث دباؤ کا شکار ہیں۔
تاجروں اور ماہرین کے مطابق چین کی بڑی سرکاری آئل کمپنیاں 19-2018 کے بعد سے ایرانی تیل نہیں خرید رہیں۔
ایرانی تیل کتنا سستا ہے؟
تاجروں کے مطابق دسمبر سے ایرانی لائٹ کروڈ چین میں ترسیل کی بنیاد پر آئی سی ای برینٹ کے مقابلے میں تقریباً آٹھ سے 10 ڈالر فی بیرل سستا فروخت ہو رہا ہے، جبکہ ستمبر میں یہ فرق تقریباً چھ ڈالر تھا۔
اس کا مطلب ہے کہ چینی ریفائنریز غیر پابندی شدہ عمانی تیل کے مقابلے میں ایرانی لائٹ خرید کر فی بیرل آٹھ سے 10 ڈالر کی بچت کرتی ہیں۔
فروری میں یہ فرق 10 ڈالر فی بیرل سے بھی زیادہ ہو گیا تھا۔ 28 فروری کو امریکہ-اسرائیل حملوں کے بعد ایرانی تیل کی تجارت محدود ہو گئی اور جو سودے ہوئے وہ تقریباً نو ڈالر فی بیرل رعایت پر ہوئے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
تنازع بڑھنے کے باعث سپلائی میں غیر یقینی صورتحال کے سبب رعایت میں کچھ کمی آئی ہے۔
19 مارچ کو انرجی سپیکٹس نے اندازہ لگایا کہ سمندر میں موجود ایرانی تیل کی مقدار 13 سے 14 کروڑ بیرل ہے، جو مشرق وسطیٰ کی موجودہ پیداواری کمی کے 14 دن سے کم کے برابر ہے۔
کپلر کے مطابق یہ مقدار 17 کروڑ 16 لاکھ بیرل ہے۔
کیا امریکی پابندیوں کا اثر ہو رہا ہے؟
واشنگٹن نے 2018 میں تہران پر دوبارہ پابندیاں عائد کیں جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے گذشتہ سال سے ایرانی تیل کی تجارت پر مزید پابندیاں لگائی ہیں۔
ان پابندیوں میں تین چینی ’ٹی پاٹ‘ ریفائنریز پر سزائیں بھی شامل ہیں، جس کے باعث کئی درمیانے درجے کی کمپنیوں نے خریداری کم کر دی۔
بیجنگ کا مؤقف کیا ہے؟
بیجنگ یکطرفہ پابندیوں کو مسترد کرتا ہے اور ایران کے ساتھ اپنی تجارت کو جائز قرار دیتا ہے۔
چین کی جانب سے درآمد کیا جانے والا ایرانی تیل عموماً تاجروں کی طرف سے دوسرے ممالک جیسے ملائیشیا اور انڈونیشیا کے نام پر ظاہر کیا جاتا ہے، جو منتقلی کے بڑے مراکز ہیں۔
چینی کسٹمز کے اعداد و شمار میں جولائی 2022 کے بعد ایران سے براہِ راست تیل کی کوئی درآمد ظاہر نہیں کی گئی۔