لبنان کی مسلح افواج کے سربراہ جنرل روڈولف ہیکل نے پاکستانی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات میں خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورت حال، دفاعی تعاون اور دوطرفہ فوجی تعلقات کے فروغ کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔
جنرل روڈولف ہیکل نے پاکستان کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں کیا ہے، جب پاکستان امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔ حالیہ ہفتوں میں جنگ کے اثرات لبنان تک بھی پہنچے ہیں، جس کے باعث خطے میں سکیورٹی صورت حال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے منگل کو جاری بیان کے مطابق راولپنڈی میں جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) میں ہونے والی ملاقات کے دوران ’دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان پیشہ ورانہ روابط، تربیتی تعاون اور ادارہ جاتی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔‘
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ’لبنان کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ اور دوستانہ تعلقات کی اہمیت کا اعادہ کرتے ہوئے لبنانی مسلح افواج کے ساتھ دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے لیے پاک فوج کے عزم کا اظہار کیا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
بیان کے مطابق جنرل روڈولف ہیکل نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور آپریشنل مہارت کو سراہا اور علاقائی امن، استحکام اور بین الاقوامی امن مشنز میں ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق: ’یہ دورہ دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان فوجی سطح پر تعاون کو مزید فروغ دینے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔‘
جنرل روڈولف ہیکل کی پاکستان آمد سے متعلق خبر 6 جون کو سامنے آئی تھی، جب لبنانی فوج نے کہا تھا کہ اس کے سربراہ جنرل روڈولف ہیکل سرکاری دورے پر پاکستان روانہ ہو گئے ہیں۔
روئٹرز نے لبنانی فوج کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ جنرل روڈولف ہیکل اپنے پاکستانی ہم منصب کی دعوت پر پاکستان کا دورہ کر رہے ہیں۔
اس کے بعد آج پہلی بار ان کی پاکستان میں مصروفیت سے متعلق خبر سامنے آئی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا انہوں نے ملک کی سیاسی قیادت سے بھی ملاقات کی ہے یا نہیں۔
لبنان اور اسرائیل نے 4 جون کو واشنگٹن میں مذاکرات کے بعد مشروط جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا، تاہم اس کے بعد بھی اسرائیل نے جنوبی لبنان پر حملے کیے اور بیروت پر مزید حملوں کی دھمکی بھی دی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ وہ لبنان کے تنازع پر ہونے والے مذاکرات کو ایران کے ساتھ جنگ سے متعلق بات چیت سے الگ رکھنا چاہتے ہیں۔
تاہم تہران کا اصرار ہے کہ دونوں تنازعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا تھا کہ بیروت پر کسی بھی حملے کی صورت میں جنگ ’مکمل شدت‘ سے دوبارہ شروع ہو جائے گی۔