سعودی، پاکستان دفاعی معاہدہ توثیق کے لیے ترک پارلیمان میں پیش: روئٹرز

روئٹرز کے مطابق معاہدے کے متن کے پہلے آرٹیکل کے مطابق فریقین ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت، خودمختاری یا سرحدوں کو لاحق خطرات کے خاتمے کے لیے ’تمام ضروری ذرائع‘ استعمال کریں گے۔

پاکستانی وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار (بائیں)، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ (درمیان) اور ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان (دائیں) 24 ستمبر 2026 کو نے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت ملاقات کے موقعے پر (فائل فوٹو/سعودی گزٹ)

ترک پارلیمان کے تین ذرائع نے منگل کو بتایا ہے کہ انقرہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ توثیق کے لیے پارلیمان میں پیش کر دیا ہے۔

تینوں ممالک نے اگست میں ’مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے‘ پر دستخط کیے تھے، جس کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

معاہدے کا متن، جسے روئٹرز نے دیکھا ہے، کے پہلے آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ فریقین ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت، خودمختاری یا بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کو لاحق خطرات ختم کرنے کے لیے ’تمام ضروری ذرائع‘ استعمال کریں گے۔

معاہدے کے آرٹیکل 2  میں کہا گیا: ’اگر کسی فریق پر کسی دوسرے ملک یا ممالک کے گروہ کی جانب سے مسلح حملہ یا فوجی جارحیت کی جاتی ہے تو فریقین فوری طور پر حملے کا نشانہ بننے والے فریق کو دستیاب باہمی امداد کے تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے مدد فراہم کریں گے۔‘

یہ شق نیٹو کے آرٹیکل5  سے مماثلت رکھتی ہے اور اقوام متحدہ کے منشور کے آرٹیکل 51  کا حوالہ دیتی ہے، جس کے تحت مسلح حملے کی صورت میں ریاستوں کو انفرادی یا اجتماعی طور پر اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

اسی آرٹیکل کے مطابق، تینوں ممالک ’درکار امداد کا معروضی جائزہ لینے کے بعد فراہم کی جانے والی معاونت کے دائرہ کار اور نوعیت کا فیصلہ کریں گے‘ اور اپنے دستیاب وسائل، بشمول فوجی صلاحیتوں اور وسائل، کے مطابق تعاون کریں گے۔

اس ماہ کے آغاز میں ریاض میں اتحاد کے ہنگامی اجلاس میں تینوں ممالک نے سعودی عرب میں فوجی دستوں اور صلاحیتوں کی ’تیز رفتار تعیناتی‘ یقینی بنانے پر اتفاق کیا تھا۔

ترکی، جس کی دفاعی صنعت خاصی مضبوط ہے، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت کر چکا ہے، ریاض کی فوجی ٹیکنالوجی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد کی پیشکش کر چکا ہے اور بحیرہ احمر میں جہاز رانی کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے سعودی قیادت میں قائم اتحاد میں شامل ہونے پر بھی اتفاق کر چکا ہے۔

معاہدے میں دفاعی صنعت کے شعبے میں قریبی تعاون، انٹیلی جنس کا تبادلہ، رسدی معاونت اور ’دہشت گردی کی تمام صورتوں‘ کے خلاف، بشمول عملی سطح پر، تعاون بھی شامل ہے۔

ترکی کی جانب سے معاہدے کی باضابطہ منظوری کے لیے پارلیمان سے توثیق ضروری ہے۔

اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کا مقصد

ذرائع میں سے 2 نے بتایا کہ پارلیمان کے سپیکر نعمان قرتلمش، جو اس وقت کرغزستان کے دورے پر ہیں، وطن واپسی پر معاہدہ پارلیمان کی خارجہ امور کمیٹی کو بھیجیں گے۔ معاہدے کا متن اور تفصیلات کمیٹی میں پیش کیے جانے کے بعد منظر عام پر آنے کی توقع ہے۔

ایک اور ذریعے نے بتایا کہ کمیٹی جمعے کو ہی معاہدے پر بحث کر سکتی ہے۔

ترکی کے صدر طیب اردوغان کے ڈائریکٹر مواصلات برہان الدین دوران نے کہا کہ ترکی کا حالیہ اقدام تینوں ممالک کے درمیان سٹریٹیجک تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔

برہان الدین دوران نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا: ’ہمارے ممالک کے درمیان قائم یہ سٹریٹیجک شراکت داری اجتماعی دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے، دفاعی شعبے میں مشترکہ صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور ہمارے خطے میں سلامتی و استحکام کے تحفظ کے لیے ہے۔‘

ایک ترک عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ترکی کی جانب سے تعاون محدود رہنے کی توقع ہے، جس میں فوجی سازوسامان، انٹیلی جنس کا تبادلہ اور ہتھیاروں کے نظام شامل ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب تک اس اتحاد کے تحت کسی اور نوعیت کی فوجی تعیناتی نہیں کی گئی۔

یہ پوچھے جانے پر کہ ترکی یمن کے حوثیوں کے حملوں کے خلاف سعودی عرب کے دفاع میں کس طرح مدد کر سکتا ہے، ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ مکہ معاہدہ ’جارحانہ معاہدہ‘ نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ترکی اپنی سرزمین پر حملے کرنے کے لیے کسی دوسرے ملک میں فوجی دستے نہیں بھیجے گا۔

ترکی کے آئین کے تحت، کسی بھی بین الاقوامی معاہدے سے قطع نظر، بیرون ملک فوجی دستے تعینات کرنے کے لیے پارلیمان سے الگ اجازت لینا ضروری ہے۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی دنیا