جب چیٹ جی پی ٹی تعلقات میں تیسرا فریق بن جائے ​​​​​​​

ماہرین کے مطابق ذاتی تعلقات میں مصنوعی ذہانت سے مشورے لینے کا رجحان بڑھ رہا ہے، لیکن اس پر حد سے زیادہ انحصار باہمی اعتماد اور گفتگو کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

چیٹ جی پی ٹی لوگو (اے ایف پی)

’اس شادی میں ہم تین لوگ تھے، اس لیے کچھ زیادہ ہی بھیڑ ہو گئی تھی‘۔

یہ مشہور جملہ شہزادی ڈیانا نے 1995 میں صحافی مارٹن بشیر کو دیے گئے اپنے تہلکہ خیز انٹرویو میں کہا تھا۔

اس وقت ان کا اشارہ مستقبل کی ملکہ کمیلا پارکر بولز کی جانب تھا، لیکن 2026 میں بہت سے جوڑوں کے لیے یہی بات چیٹ جی پی ٹی پر بھی صادق آ سکتی ہے۔

مصنوعی ذہانت (اے آئی) ملک بھر میں لوگوں کے ذاتی تعلقات میں تیزی سے ایک ایسے تیسرے فریق کی حیثیت اختیار کر رہی ہے جو بظاہر نظر نہیں آتا۔

برطانوی ادارے مینٹل ہیلتھ یوکے کی جانب سے کرائی گئی تحقیق کے مطابق ہر تین میں سے ایک سے زیادہ افراد اے آئی چیٹ بوٹس کو عملاً نفسیاتی معالج کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

دوسری جانب آکسفورڈ یونیورسٹی کے آکسفورڈ انٹرنیٹ انسٹی ٹیوٹ کے محققین کے ایک حالیہ تجزیے میں سامنے آیا کہ لارج لینگویج ماڈلز (ایل ایل ایم) باقاعدگی سے استعمال کرنے والے 38  فیصد افراد ذاتی تعلقات کے بارے میں مشوروں کے لیے چیٹ جی پی ٹی، کلاڈ، جیمنائی اور اسی نوعیت کے دیگر اے آئی ٹولز پر اعتماد کرتے ہیں۔

اسی رجحان کے نتیجے میں ’ڈرائی چیٹنگ‘ (Dry Chatting) کی اصطلاح سامنے آئی ہے۔

اس سے مراد یہ ہے کہ کسی قریبی شخص سے حساس یا اختلافی معاملے پر حقیقی گفتگو کرنے سے پہلے اے آئی چیٹ بوٹ کے ساتھ اس گفتگو کی مشق کی جائے، تاکہ اندازہ ہو سکے کہ بات کس طرح کی جائے۔

ریلیشن شپ تھراپی پریکٹس کی کلینیکل ڈائریکٹر اور ماہرِ نفسیاتی علاج ایلنور ہاروی کے مطابق لوگ باہمی تعلقات کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ’بلاشبہ‘ پہلے سے کہیں زیادہ مصنوعی ذہانت استعمال کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے ’گذشتہ چھ ماہ کے دوران میں نے اس رجحان میں غیر معمولی اضافہ دیکھا ہے۔ میرے زیادہ تر کلائنٹس کسی نہ کسی موقع پر اے آئی کا حوالہ ضرور دیتے ہیں۔

’بعض اوقات اس کا استعمال مثبت ہوتا ہے اور بعض اوقات، یوں کہیے کہ اتنا صحت مند نہیں ہوتا۔‘

بظاہر ذاتی تعلقات میں پیدا ہونے والی مشکلات کا ’غیر جانب دارانہ‘ جائزہ لینے کے لیے کسی بیرونی ٹول کا استعمال ایک معقول فیصلہ محسوس ہو سکتا ہے۔

خصوصاً پارٹنر یا محبوب سے اختلاف کے بعد جب کوئی شخص اپنے مؤقف کے بارے میں تسلی یا یقین دہانی چاہتا ہو تو اے آئی سے بات کرنا اسے اطمینان دے سکتا ہے۔

ایلنور ہاروی مشورہ دیتی ہیں کہ مصنوعی ذہانت استعمال کرنے کے بے شک ’صحت مند‘ طریقے بھی موجود ہیں۔

مثال کے طور پر، علیحدگی کے بعد بچوں کی مشترکہ پرورش کی ذمہ داری نبھانے والا کوئی والد یا والدہ اے آئی کی مدد سے یہ جانچ سکتا ہے کہ بچوں کی دیکھ بھال کے انتظامات سے متعلق اس کے پیغام کا لہجہ کہیں زیادہ جارحانہ تو نہیں۔

اسی طرح طلاق کے باعث شدید ذہنی پریشانی کا شکار کوئی شخص رات دو بجے اپنے جذبات کا اظہار کرنے یا جذبات پر قابو پانے کے طریقوں سے متعلق مشورہ حاصل کرنے کے لیے اے آئی استعمال کر سکتا ہے۔

اسی لیے ہاروی مصنوعی ذہانت کو مکمل طور پر نقصان دہ نہیں سمجھتیں، تاہم ان کے مطابق ’اس کا استعمال مسائل بھی پیدا کر سکتا ہے۔‘

چونکہ چیٹ بوٹ انسان نہیں ہوتا، اس لیے بعض لوگوں کو یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ ہر بات جاننے والا ایک غیر جانب دار تیسرا فریق ہے، لیکن حقیقت اس سے خاصی مختلف ہے۔

درحقیقت مصنوعی ذہانت کو تعلقات کے مشیر یا دوست کے متبادل کے طور پر استعمال کرنے کے کئی ایسے پہلو ہیں جو آپ کے تعلقات کو بہتر بنانے کے بجائے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

مین ہیٹن مینٹل ہیلتھ کاؤنسلنگ کے منیجنگ ڈائریکٹر سٹیون بکوالڈ خبردار کرتے ہیں کہ ’مصنوعی ذہانت کا تیار کردہ جواب غیر معمولی حد تک مستند اور قابل اعتماد محسوس ہو سکتا ہے۔‘

ان کے مطابق ’چیٹ جی پی ٹی بہت کم وقت میں ایک عمدہ، مربوط اور قائل کرنے والا جواب تیار کر سکتا ہے، جس سے اس کی بات منطقی محسوس ہوتی ہے۔

’تاہم اسے تعلقات کی پوری تاریخ، متعلقہ افراد کے ذاتی ماضی یا کہانی کے دونوں پہلوؤں کا علم نہیں ہوتا۔ دراصل وہ صرف دی گئی ہدایات یا سوال کا جواب دے رہا ہوتا ہے، نہ کہ اس جوڑے کے تعلقات کا حقیقی جائزہ لے رہا ہوتا ہے۔‘

’مصنوعی ذہانت کا دیا گیا فیصلہ کسی ایک فریق کو وقتی طور پر یہ اطمینان تو دلا سکتا ہے کہ اس کا مؤقف درست ہے لیکن اس سے دونوں کے درمیان اختلافات دور ہونے کے بجائے مزید بڑھ سکتے ہیں۔‘

سٹیون بکوالڈ، مین ہیٹن مینٹل ہیلتھ کاؤنسلنگ

سٹیون بکوالڈ ان علامات کی نشاندہی کرتے ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی چیٹ بوٹ کسی تعلق میں ایک غیر مرئی تیسرے فریق کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جو اس تعلق کو تباہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

ان کے مطابق ایک خاص طور پر نقصان دہ رویہ یہ ہے کہ کسی جھگڑے میں مصنوعی ذہانت سے فیصلہ کروایا جائے کہ کون ’درست‘  ہے۔

مثلاً ’کون غیر معقول رویہ اختیار کر رہا ہے؟‘، ’کیا وہ مجھے میری ہی سوچ اور حقیقت پر شک کرنے پر مجبور کر رہے ہیں؟‘ یا ’اصل مسئلہ کون ہے؟‘ جیسے سوالات پوچھنا باہمی گفتگو کو ایک کمرہ عدالت میں تبدیل کر دیتا ہے، جہاں اے آئی کو بلاجواز جج اور جیوری کا کردار دے دیا جاتا ہے۔

بکوالڈ کہتے ہیں ’یہ ایک عام غلط فہمی ہے کہ کسی جھگڑے میں ایک فریق کو فاتح قرار دے دینے سے مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔

’اختلاف کی وجہ کچھ بھی ہو، ضروری ہے کہ دونوں افراد ایک دوسرے کے تجربات اور واقعات کے بارے میں ان کی الگ الگ تشریح کو سمجھیں۔‘

ان کے مطابق ’مصنوعی ذہانت کا دیا گیا فیصلہ کسی ایک فریق کو وقتی طور پر اپنے درست ہونے کا احساس تو دلا سکتا ہے، لیکن اس سے دونوں کے درمیان تعلقات بہتر ہونے کے امکانات مزید کم ہو سکتے ہیں۔‘

بکوالڈ مشورہ دیتے ہیں کہ اگر مصنوعی ذہانت استعمال کرنا ضروری ہو تو محض اس امید پر کہ وہ آپ کے مؤقف کی تائید کرے گی، اس سے یہ نہ پوچھیں کہ ’کون درست ہے؟‘

اس کے بجائے ایسے سوالات کریں جو آپ کو اپنے رویے اور صورتحال پر غور کرنے میں مدد دیں۔

مثلاً ’کیا کوئی ایسا پہلو ہے جو میری نظر سے اوجھل ہے؟‘، ’اس صورت حال کی تین مختلف تشریحات کیا ہو سکتی ہیں؟‘ یا ’میں دوسرے شخص کی نیت کے بارے میں کوئی مفروضہ قائم کیے بغیر اپنے جذبات کا اظہار کیسے کر سکتا ہوں؟‘

اس کے علاوہ، کسی اختلاف کے دوران اپنے مؤقف کی تائید میں پارٹنر کے سامنے اے آئی چیٹ بوٹ کا جواب پیش کرنا بھی باہمی دوریاں اور کشیدگی پیدا کرنے کا یقینی ذریعہ بن سکتا ہے۔‘

ہاروی کے مطابق ’بہت سے لوگ کسی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات کلاڈ سے پوچھی تھی، یا میں نے چیٹ جی پی ٹی سے پوچھا تو اس نے کہا کہ اصل مسئلہ تم ہو۔

’اس طرح وہ اپنے مؤقف کو درست ثابت کرنے کے لیے اے آئی کے جواب کو ثبوت کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔‘

وہ خبردار کرتی ہیں کہ اس سے تعلقات میں ایک ایسا مثلث بن سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ایسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے کہ دونوں افراد مل کر مسئلے کا سامنا کرنے کی بجائے ایک شخص مصنوعی ذہانت کو اپنے ساتھ ملا کر اپنے پارٹنر کے مقابل کھڑا ہو جاتا ہے۔

ہاروی کہتی ہیں ’اچانک ایسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے جس میں دو ایک کے مقابلے پر ہوتے ہیں۔ اس طرح غیر متوقع طور پر تنقید کا سامنا کرنے والا شخص شدید دفاعی رویہ اختیار کر سکتا ہے۔‘

ان کے مطابق ’جب ایسا ہوتا ہے تو یہ مؤثر اور مثبت گفتگو کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔‘

اس مسئلے کی ایک وجہ لارج لینگویج ماڈلز کا وہ معروف رجحان بھی ہے جس کے تحت وہ کسی دوسرے انسان کے مقابلے میں صارف کی بات سے کہیں زیادہ اتفاق کرتے ہیں۔

اس رویے کو عام طور پر ’سائیکوفینسی‘ (Sycophancy) کہا جاتا ہے یعنی صارف کو خوش کرنے یا اس کی تائید کرنے کے لیے ضرورت سے زیادہ ہاں میں ہاں ملانا۔

یہ مسئلہ کم یا زیادہ شدت کے ساتھ تمام اے آئی چیٹ بوٹ ماڈلز میں پایا جاتا ہے۔

مارچ میں سٹینفورڈ یونیورسٹی کے سائنس دانوں کے شائع کردہ ایک تحقیقی مقالے میں بتایا گیا کہ جن 11 نمایاں لارج لینگویج ماڈلز کا جائزہ لیا گیا، وہ باہمی تعلقات کے مسائل سے متعلق سوالات کے جواب میں انسانوں کے مقابلے میں تقریباً 50  فیصد زیادہ صارف کی ہاں میں ہاں ملانے کا رجحان رکھتے تھے۔

محققین نے نتیجہ اخذ کیا کہ صارف کو خوش کرنے اور اس کی غیر ضروری تائید کرنے والی یہ خصوصیات صارف کے لیے اصل خطرہ پیدا کر سکتی ہیں۔

محققین نے سوال اٹھایا ’اگر مصنوعی ذہانت کو اس انداز میں تیار کیا گیا ہو کہ وہ صارف کے مؤقف کو چیلنج کرنے کے بجائے اسے وہی بات بتائے جو وہ سننا چاہتا ہے، تو کیا ایسے نظام لوگوں کو اختلافات میں اپنے کردار کی ذمہ داری قبول کرنے اور تعلقات بہتر بنانے کی ترغیب دے سکیں گے؟‘

اس کے علاوہ اعتماد کو شدید نقصان پہنچنے کا خطرہ بھی موجود ہے، خصوصاً اس وقت جب کوئی شخص اپنی نجی گفتگو یا پیغامات کسی اے آئی ماڈل میں اپ لوڈ کرتا ہے۔

ایسا کسی تعلق کے ابتدائی مرحلے میں بھی ہو سکتا ہے، جب دو افراد ایک دوسرے کو جاننے اور ملاقاتیں کرنے کا سلسلہ شروع کرتے ہیں۔

اس دوران لوگوں کی بڑھتی ہوئی تعداد مصنوعی ذہانت سے اپنے نجی پیغامات کا اعداد و شمار کی بنیاد پر تجزیہ کروا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کر سکیں کہ دونوں میں سے کون دوسرے میں زیادہ دلچسپی رکھتا ہے۔

اس کے لیے دیکھا جاتا ہے کہ کس نے کتنی بار گفتگو میں پہل کی، کس نے پہلے پیغام کا جواب ملنے سے قبل دوبارہ پیغام بھیجا اور کس نے زیادہ سوالات کیے۔

اسی طرح کوئی شخص دو افراد کے درمیان ہونے والی گفتگو کا ’تجزیہ‘ کرنے کے لیے بھی مصنوعی ذہانت استعمال کر سکتا ہے، مثلاً یہ پوچھ کر کہ ’اس بات سے ان کی کیا مراد تھی؟‘ یا ’کیا آپ کے خیال میں میرا رویہ غیر معقول ہے؟‘

’اچانک ایسی صورت حال پیدا ہو جاتی ہے جس میں دو ایک کے مقابلے پر ہوتے ہیں اور غیر متوقع طور پر اس صورت حال کا سامنا کرنے والا شخص شدید دفاعی رویہ اختیار کر سکتا ہے‘۔

ایلنور ہاروی، ماہر نفسیاتی علاج

بکوالڈ کے مطابق اگرچہ مصنوعی ذہانت انسان نہیں ہے، لیکن جس طرح کسی شخص کے انتہائی نجی پیغامات کے سکرین شاٹس اس کے علم یا اجازت کے بغیر دوستوں کو بھیجنا ذاتی حدود کی خلاف ورزی ہے، اسی طرح ان پیغامات کو اے آئی کے ساتھ شیئر کرنا بھی ان حدود کی خلاف ورزی ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

وہ کہتے ہیں ’میرے خیال میں یہ کسی تعلق کو خراب کرنے کے تیز ترین طریقوں میں سے ایک ہے کیونکہ اس سے نہ صرف اعتماد ٹوٹتا ہے بلکہ انسان ایسی تشریحات اور آرا بھی اختیار کرنے اور دوسروں تک پہنچانے لگتا ہے جن پر وہ خود بھی یقین نہیں رکھتا۔‘

ان کے مطابق ’مصنوعی ذہانت گفتگو کے سیاق و سباق کو نظرانداز کرتی ہے اور صرف ان الفاظ کی تشریح کرتی ہے جو آپ اسے فراہم کرتے ہیں۔

’وہ شاذونادر ہی اس بات کو سمجھ پاتی ہے کہ کوئی بات مزاح میں کہی گئی تھی یا اس وقت متعلقہ شخص کس دباؤ سے گزر رہا تھا۔‘

لیکن اگر آپ اپنے تعلق میں برتری حاصل کرنے کے لیے اے آئی کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں بھی کر رہے، تب بھی یہ زیادہ غیر محسوس مگر نقصان دہ انداز میں تعلقات کو متاثر کر سکتی ہے۔

سادہ الفاظ میں، اگر آپ بستر پر لیٹے اپنے مسائل کے بارے میں کلاڈ سے گفتگو کر رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ اپنے برابر لیٹے ہوئے انسان سے وہ باتیں نہیں کر رہے۔

ہاروی اس جانب توجہ دلاتے ہوئے کہتی ہیں ’اس کا مطلب ہے کہ دونوں کے درمیان پہلے ہی ایک فاصلے کی بنیاد پڑ چکی ہے۔ بالآخر جب کوئی شخص وہ گفتگو، جو اسے اپنے پارٹنر سے کرنی چاہیے، کسی اور سے کرتا ہے تو اس سے تعلقات میں دوری پیدا ہوتی ہے۔‘

جیسا کہ مشہور کہاوت ہے دو افراد کا ساتھ خوشگوار ہوتا ہے۔ جب بات مصنوعی ذہانت اور تعلقات کی ہو تو تین افراد کی موجودگی یقیناً ہجوم بن جاتی ہے۔

© The Independent

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی ٹیکنالوجی