سرائیکی موسیقی کی تاریخ میں کچھ نام ایسے ہیں جو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے باعث فانی دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بھی ہمیشہ زندہ رہیں گے۔
ان ہی معتبر اور باوقار ناموں میں ایک نامور نام طاہر ساقی کا بھی ہے جنہوں نے اپنی منفرد دھنوں سے سرائیکی موسیقی کو لازوال رنگ عطا کیا۔
ان کی تخلیق کردہ دھنیں ’میڈا رانجھنا‘
’سانول سانول‘
’تیڈی سانول اگلی ٹورتاں نئیں‘
’بارشاں دے موسماں وچ‘
’ہم تم ہوں گے بادل ہوگا‘ آج بھی موسیقی کے شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔
سرائیکی وسیب کا ضلع میانوالی جو شعر و نغمہ کی سرزمین کے طور پر پہچانا جاتا ہے ہمیشہ سے فنونِ لطیفہ کا مرکز رہا ہے۔
طاہر ساقی بھی اسی شہر کے ایک معزز سادات گھرانے میں 1960 میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم سے لے کر بی اے تک کا سفر میانوالی ہی کے تعلیمی اداروں میں مکمل کیا۔ 1985 میں گریجویشن کے ساتھ ساتھ پولی ٹیکنیک کا ڈپلومہ بھی حاصل کیا۔
تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے پاکستان ایئر فورس میں بطور ایس ڈی سی ملازمت اختیار کی مگر ان کی فنکارانہ طبیعت اور تخلیقی مزاج فوجی ماحول سے ہم آہنگ نہ ہو سکے چنانچہ ایک سال بعد ملازمت چھوڑ دی بعد ازاں محکمہ واپڈا میں بطور لائن مین خدمات انجام دیں اور یہیں سے بطور لائن سپرنٹنڈنٹ ریٹائر ہوئے۔
طاہر ساقی کی شخصیت کا ایک اور نمایاں پہلو صحافت ہے۔ زمانۂ طالب علمی ہی سے انہیں لکھنے کا شوق تھا۔ انہوں نے اسلام آباد سے شائع ہونے والے اخبار ’مرکز‘ سے صحافتی سفر کا آغاز کیا۔ بعد ازاں روزنامہ اوصاف، خبریں اور دیگر مقامی و قومی اخبارات میں ’ساقی نامہ‘ کے عنوان سے کالم نگاری کرتے رہے۔ ان کے بقول نامور صحافی ضیا شاہد ان کے ذاتی دوستوں میں سے تھے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
طاہر ساقی بتاتے تھے کہ ان ہی کے مشورے سے روزنامہ خبریں کے شوبز صفحے میں کئی خوبصورت تبدیلیاں کی گئیں۔
موسیقی سے ان کی وابستگی بچپن کے شوق کا نتیجہ تھی۔ وہ بتاتے ہیں کہ میانوالی کی ادبی اور موسیقی فضا نے ان کے اندر کے فنکار کو جلا بخشی۔ انہوں نے موسیقی کی باقاعدہ تربیت مقامی چرچ میں استاد اقبال خاور مسیح سے حاصل کی جو ہارمونیم نواز کے طور پر اپنی مثال آپ تھے۔ استاد کی رہنمائی میں انہوں نے موسیقی کو نہ صرف سیکھا بلکہ اس کے فنی اور تخلیقی پہلوؤں کو بھی سمجھا۔
طاہر ساقی نے گائیکی کی بجائے موسیقی ترتیب دینے اور دھنیں تخلیق کرنے کو اپنا میدان بنایا۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ بنیادی طور پر تخلیق کار تھے اور ان کی خواہش تھی کہ موسیقی میں کچھ نیا اور منفرد پیش کریں۔ یہ ہی وجہ ہے کہ انہوں نے ایسے گیت تخلیق کیے جو وقت گزرنے کے باوجود آج بھی اپنی کشش برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
ان کی تخلیق کردہ لازوال دھنوں میں
„چٹڑے پدھر تے بہہ کے‘
’تیڈی سانول اگلی ٹور‘
’سانول سانول‘ اور ’دعا زندگی کی‘ خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔
ان دھنوں کو عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی، شفا اللہ روکھڑی، منصور علی ملنگی، عطا محمد نیازی داؤد خیلوی اور شازیہ خشک جیسے نامور گلوکاروں نے اپنی آواز دی۔ طاہر ساقی کے دیے گئے ایک انٹرویو کے مطابق شازیہ خشک کو غیر معمولی شہرت ان کی تخلیق کردہ دھن ’میڈا رانجھنا‘ سے ملی۔
وہ موجودہ موسیقی کے رجحانات پر افسوس کا اظہار کرتے رہتے تھے مضمون نگار سے اکثر ملاقاتیں رہتیں وہ موسیقی کی موجودگی صورت حال پر کہا کرتے تھے کہ ’آج کا گلوکار موسیقار کے کردار سے ناواقف ہوتا جا رہا ہے۔ نئی دھنیں تخلیق کرنے کی بجائے اکثر گلوکار انڈین یا کاپی شدہ طرزوں پر انحصار کر رہے ہیں جس سے سرائیکی زبان ثقافت اور شاعری کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
’ایک وقت تھا جب گلوکار موسیقار کے ساتھ بیٹھ کر راگ، راگنی اور دھنوں پر محنت کرتا تھا اور یہ ہی محنت ایسے شاہکار گیتوں کو جنم دیتی تھی جو برسوں لوگوں کے دلوں پر راج کرتے تھے۔ آج موسیقار کا کردار محدود ہونے سے موسیقی میں نیا پن اور تخلیقی حسن کم ہوتا جا رہا ہے۔‘
بلاشبہ طاہر ساقی مرحوم سرائیکی موسیقی کا ایک شان دار، جان دار اور معتبر حوالہ تھے اور رہیں گے۔ وہ کبھی کبھار اپنی آوازکے کلپ یوٹیوب پر یا سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرتے رہتے تھے۔
ریٹائرمنٹ کے بعد وہ موسیقی، شاعری، صحافت، تقریبات کی میزبانی میں مصروف رہتے تھے سادہ دل اور خوب صورت مزاج کے حامل تھے کئی کئی کلو میٹر پیدل چلتے اور دوستوں کی تقریبات میں بروقت شرکت کرتے تھے۔
وہ دل کا دورہ پڑنے سے فانی جہاں سے رخصت ہوگئے ۔ان کی وفات سے سرائیکی موسیقی کے روشن شہر کا ایک دروازہ بند ہوگیا ہے۔ وہ آج ہم میں نہیں ہیں مگر ان کی دھنیں ہمیشہ سرائیکی موسیقی کے سننے والوں کے دلوں میں زندہ رہیں گی ۔
مضمون نگار محمد صابرعطا، میڈا رانجھنڑا گیت کے شاعر محمد محمود احمد مرحوم اور موسیقار طاہر ساقی کا گروپ فوٹو (مصنف کی مہیا کردہ)