انڈین پنجاب میں یہ سرائیکی گیت ’چھلڑے چھلڑے وال‘ ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔ سنندر شرما کے بعد اب کئی سکھ، ہندو اور مسلمان گلوکار اس گیت کو اپنی اپنی آواز میں گا رہے ہیں اور سرائیکی زبان کی مٹھاس، مٹی کی خوشبو اور شاعری کے سحر کا کھل کر اعتراف کر رہے ہیں۔
ساون اور بھادوں، جو ہماری ثقافت اور ادب میں ایک خاص مقام رکھتے تھے، ان پر گیت لکھے گئے اور انہیں سہانے موسم قرار دیا گیا تھا، اب موسمیاتی تبدیلی کی بدولت ان میں بےتحاشہ اور ناقابلِ برداشت حبس اور گرمی ہوتی ہے۔