تجارتی ذرائع اور جہازوں کی نقل و حرکت کے اعداد و شمار کے مطابق سعودی عرب نے مشرقی-مغربی پائپ لائن دوبارہ فعال کرنے کے بعد بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی ترسیل دوبارہ شروع کردی ہے، جس سے مشرق وسطیٰ سے تیل کی برآمدات کے امکانات بہتر ہوئے ہیں۔
سعودی عرب نے 11 ستمبر کو ڈرون حملوں کے بعد یہ پائپ لائن بند کر دی تھی، جس سے ینبع سے خام تیل کی برآمدات رک گئی تھیں۔ ان حملوں کا الزام مملکت نے عراقی ملیشیاؤں پر عائد کیا تھا۔
پائپ لائن کا آپریشن گذشتہ منگل کو دوبارہ شروع کردیا گیا تھا۔
ایک ایشیائی ریفائننگ سورس نے بتایا کہ سرکاری تیل کمپنی سعودی آرامکو نے پیر کی شام صارفین کو ینبع سے اکتوبر میں تیل کی ترسیل کا شیڈول فراہم کیا۔ ریفائنری نے گذشتہ ہفتے کے اختتام پر ینبع سے ایک کھیپ روانہ کی تھی۔
سعودی آرامکو نے تبصرے کے لیے بھیجی گئی روئٹرز کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔
ینبع سے تیل کی ترسیل دوبارہ شروع ہونے سے مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات میں اضافہ متوقع ہے، جہاں ایران کے ساتھ امریکی جنگ کے باعث آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل کی رسد اسی راستے سے گزرتی تھی۔
جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنی ٹینکر ٹریکرز ڈاٹ کام نے منگل کو ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’27 ستمبر کو بحیرہ احمر کے اوپر سے لی گئی یورپی خلائی ایجنسی کی سیٹلائٹ تصاویر میں سعودی عرب کو ینبع اور المعجز میں تقریباً 10 کروڑ بیرل خام تیل کی ترسیل کرتے ہوئے دیکھا گیا۔‘
المعجز، ینبع کے جنوب میں واقع ایک ٹرمینل ہے۔
کمپنی نے مزید کہا: ’ہم نے ریفائن شدہ مصنوعات کی ترسیل بھی دیکھی۔ مجموعی طور پر ہم نے 40 ٹینکرز کی بصری طور پر نشاندہی کی، خواہ وہ ان ٹرمینلز کے قریب ہوں یا ان کی سرگرمی کچھ بھی ہو۔‘
دو تجارتی ذرائع نے الگ الگ اندازہ لگایا کہ گذشتہ ہفتے سے ینبع سے روزانہ تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل کی ترسیل کی جارہی ہے۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنی کلیپر کے اندازے کے مطابق اس وقت پائپ لائن سے روزانہ تقریباً 26 لاکھ 50 ہزار بیرل تیل گزر رہا ہے اور توقع ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ مقدار 30 لاکھ سے 40 لاکھ بیرل یومیہ تک پہنچ جائے گی۔
کمپنی نے پیر کو جاری ایک نوٹ میں کہا کہ حملے سے قبل تقریباً 55 لاکھ بیرل یومیہ کی شرح پر مکمل طور پر واپس آنے میں مزید ایک ماہ لگ سکتا ہے۔
کلیپر کے مطابق 22 ستمبر کو ینبع ٹرمینل میں خام تیل کے ذخائر میں تقریباً 10 لاکھ بیرل کا اضافہ ہوا، جو حملے کے بعد ذخائر میں پہلا اضافہ تھا۔
کلیپر کے اندازے کے مطابق 22 ستمبر تک سات روز کی اوسط بنیاد پر آبنائے ہرمز سے خام تیل کی ترسیل، جس میں خلیج عمان میں بحری جہازوں کے درمیان منتقلی کی سرگرمیاں بھی شامل ہیں، 90 لاکھ بیرل یومیہ رہی۔ یہ جولائی کے اواخر میں 22 لاکھ بیرل یومیہ کی کم ترین سطح سے زیادہ اور 2025 کی اوسط کا تقریباً 60 فیصد ہے۔
ینبع اور فجیرہ سے ہونے والی اضافی خالص ترسیلات کو شامل کرنے کے بعد مشرق وسطیٰ سے خام تیل کی برآمدات جنگ سے قبل کی سطح کے تقریباً 80 فیصد سے کچھ کم ہوگئی ہیں۔
کلیپر نے اپنے نوٹ میں کہا کہ مصر کی سیدی کریر بندرگاہ سے خام تیل کی ترسیل بھی 22 ستمبر کو 10 روز کے وقفے کے بعد دوبارہ شروع ہوگئی، تاہم ٹینکرز اب بھی ساحل سے دور انتظار میں کھڑے ہیں کیونکہ پابندیوں کے باعث بیشتر تجارتی بحری بیڑے کے لیے رسائی محدود ہے۔