اسرائیل میں کل انتخابات: کون میدان میں ہے، کس کا پلڑا بھاری؟

نیتن یاہو 2009 سے زیادہ تر اقتدار میں رہے ہیں۔ ان کے حامی انہیں مضبوط رہنما سمجھتے ہیں، لیکن سات اکتوبر کے حملوں کے بعد اسرائیل کی سکیورٹی ناکامیوں اور غزہ  پر اسرائیلی جارحیت کے باعث ان کی قیادت پر سوال اٹھتے رہے ہیں۔

مغربی کنارے کے فلسطینی گاؤں حارس کے باہر 26 اکتوبر 2026 کو بس سٹاپ پر اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ کے انتخابی پوسٹرز آویزاں ہیں(اے ایف پی)

اسرائیل میں کل عام انتخابات ہو رہے ہیں۔ پارلیمان کی 120 نشستوں کے لیے مقابلہ ہے، لیکن اصل لڑائی صرف یہ نہیں کہ کون جیتے گا، بلکہ یہ ہے کہ بنیامین نیتن یاہو کے طویل اقتدار کا خاتمہ ہو سکے گا یا نہیں۔

حکومت بنانے کے لیے 61 نشستیں درکار ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ نہ نیتن یاہو کا اتحاد اس پوزیشن میں دکھائی دیتا ہے، نہ حزب اختلاف کا کیمپ۔

نیتن یاہو 2009 سے زیادہ تر اقتدار میں رہے ہیں۔ ان کے حامی انہیں مضبوط رہنما سمجھتے ہیں، لیکن سات اکتوبر کے حملوں کے بعد اسرائیل کی سکیورٹی ناکامیوں اور غزہ  پر اسرائیلی جارحیت کے باعث ان کی قیادت پر سوال اٹھتے رہے ہیں۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت کو غزہ میں جنگی جرائم پر ان کی تلاش ہے اور اسرائیل میں ان پر بدعنوانی کے مقدمات چل رہے ہیں۔

تو پھر نیتن یاہو کو چیلنج کون کر رہا ہے؟

حزب اختلاف میں سابق فوجی سربراہ گادی آئزن کوٹ، سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ، سابق وزیر دفاع اویگدور لیبرمین اور سابق جنرل یائر گولن نمایاں ہیں۔

آئزن کوٹ کا بیٹا غزہ پر اسرائیلی جارحیت کے دوران مارا گیا۔ بینیٹ اور سابق وزیراعظم یائر لپید پہلے بھی نیتن یاہو کو اقتدار سے باہر کر چکے ہیں۔ یعنی حزب اختلاف کے پاس تجربہ بھی ہے اور نیتن یاہو کو شکست دینے کی سابقہ مثال بھی۔

لیکن تازہ سروے کیا بتاتے ہیں؟

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

حزب اختلاف کے اتحاد کو تقریباً 52 اور نیتن یاہو کے اتحاد کو 50 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ دونوں مطلوبہ اکثریت سے پیچھے ہیں۔

یہاں عرب جماعتوں کا کردار اہم ہو جاتا ہے۔ ’رعام‘ اور ’جوائنٹ لسٹ‘ کی متوقع نشستیں حکومت سازی میں فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہیں۔ لیکن حزب اختلاف کے بیشتر رہنما ان جماعتوں کے ساتھ باضابطہ اتحاد کے امکان کو مسترد کر چکے ہیں۔

یعنی نیتن یاہو کو شکست دینے کے لیے اکثریت جمع کرنا آسان نہیں، اور انہیں اقتدار سے ہٹانے کے بعد متبادل حکومت بنانا اس سے بھی بڑا چیلنج ہو سکتا ہے۔

کل اس سوال کا جواب تو مل جائے گا لیکن اصل سوال صرف یہ نہیں کہ نیتن یاہو نے رہنا ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہے کہ الیکشن کے بعد اسرائیل کی پالیسیاں کس حد تک بدلیں گی؟

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا