پاکستان کے لیے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اتوار کو واضح کیا کہ ایران کی جانب سے پاکستان کو مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) سمیت دیگر اشیا کی برآمد پر کوئی پابندی نہیں اور ایران کی اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدیں کھلی ہیں۔
رضا امیری مقدم نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کے لیے اپنے قریبی ہمسایہ ممالک، بالخصوص پاکستان کے لیے سرحدیں بند کرنا نہ تو منطقی ہے اور نہ ہی یہ کسی فریق کے مفاد میں ہے۔
انہوں نے کہا ایران سے درآمدات کے لیے پاکستان کے ای فارم طریقہ کار پر عمل درآمد میں تبدیلیوں کے باعث ایسی صورت حال پیدا ہو گئی ہے کہ تاجر عملاً ایران سے پاکستان کے لیے سامان روانہ کرنے سے قاصر ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں
پاکستان نے 17 اکتوبر کو بند کی جانے والی ایران کے ساتھ گبد رمدان سرحدی گزرگاہ ہفتے کو دوبارہ کھول دی، جس سے دوطرفہ تجارت بحال ہو گئی اور ایل پی جی اور اشیائے خورونوش کی ضروری کھیپ لے جانے والے پھنسے ہوئے ٹرکوں کو نقل و حرکت کی اجازت مل گئی۔
گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میر نوید جان کلمتی نے ہفتے کی صبح تجارتی سرگرمیاں بحال ہونے کی تصدیق کی۔
پاکستان نے اکتوبر کے وسط میں تفتان اور گبد رمدان کی سرحدی گزرگاہوں کو ’سرحدی انتظامات میں بہتری اور بعض قانونی و تکنیکی معاملات کے پیش نظر‘ بتا کر بند کر دیا تھا۔
Clarification Regarding Reports on the Closure of Iranian Borders to Pakistan With regard to reports concerning the closure of Iranian borders to Pakistan, I would like to clarify a few important points here: First, there are currently no restrictions on the Iranian side on the export of Iranian goods to Pakistan, including LPG. Iran's borders with all its neighboring countries remain open. Naturally and rationally, under the prevailing circumstances, it would be neither logical nor in the interests of either side for Iran to close its borders to its immediate neighbors, particularly brotherly Pakistan. Second, changes in the implementation of Pakistan's E-Form procedure for imports from Iran have created a situation in which traders are effectively and literally unable to dispatch cargo from Iran to Pakistan. Consultations with the Pakistani side are currently underway to address this issue. Third, according to reports, several hundred trucks carrying LPG have crossed the Rimdan border into Gabd on the Pakistani side. However, despite having remained there for several weeks, these trucks have yet to be unloaded or cleared, further complicating the movement of goods and the smooth flow of bilateral trade. Finally, I would like to emphasize that cross-border trade between Iran and Pakistan is an integral part of the bilateral agreements reached at the highest levels. It serves the mutual interests of both countries and their people. Iran has made every possible effort, leaving no stone unturned, to facilitate and promote this essential bilateral trade. We remain committed to continuing these efforts in close coordination with our Pakistani counterparts to overcome existing challenges, facilitate the movement of goods, and strengthen economic cooperation between our two brotherly countries.
— Reza Amiri Moghadam (@IranAmbPak) October 25, 2026
چاغی کے ڈپٹی کمشنر بختیار اسماعیل بلوچ نے اس وقت ایکس پر جاری بیان میں سرحدی گزرگاہوں کی بندش کو عارضی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس اقدام کا مقصد انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں مدد دینا ہے اور مؤثر انتظامات نافذ ہونے کے بعد سرحد دوبارہ کھول دی جائے گی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
ایرانی سفیر کے مطابق ایل پی جی لے جانے والے کئی سو ٹرک رمدان سرحد عبور کرکے پاکستان کی جانب گبد پہنچ چکے ہیں، تاہم کئی ہفتے گزرنے کے باوجود ان ٹرکوں سے سامان اتارا نہیں جا سکا اور نہ ہی انہیں کلیئرنس مل سکی ہے۔
انہوں نے کہ اس صورت حال سے اشیا کی نقل و حرکت اور دوطرفہ تجارت کی روانی مزید متاثر ہو رہی ہے۔
رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ ایران نے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو آسان بنانے اور فروغ دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔
’ہم موجودہ مسائل پر قابو پانے، اشیا کی نقل و حرکت میں سہولت پیدا کرنے اور اپنے دونوں برادر ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔‘
پاکستان اور ایران کے درمیان سالانہ تجارتی حجم دو ارب ڈالر سے زائد ہے جبکہ تفتان اور گبد رمدان کی سرحدی گزرگاہیں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سامان کی نقل و حرکت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔