ایران کی جانب سے ایل پی جی کی برآمد پر پابندی نہیں: پاکستان میں ایرانی سفیر

پاکستان کے لیے ایرانی سفیر نے واضح کیا ہے کہ ایران کی پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدیں کھلی ہیں۔

ایران کے مال بردار ٹرک 18 جون، 2025 کو بلوچستان کے علاقے تفتان میں پاکستان ایران سرحد عبور کر رہے ہیں (اے ایف پی)

پاکستان کے لیے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے اتوار کو واضح کیا کہ ایران کی جانب سے پاکستان کو مائع پٹرولیم گیس (ایل پی جی) سمیت دیگر اشیا کی برآمد پر کوئی پابندی نہیں اور ایران کی اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدیں کھلی ہیں۔

رضا امیری مقدم نے ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ موجودہ حالات میں ایران کے لیے اپنے قریبی ہمسایہ ممالک، بالخصوص پاکستان کے لیے سرحدیں بند کرنا نہ تو منطقی ہے اور نہ ہی یہ کسی فریق کے مفاد میں ہے۔

انہوں نے کہا ایران سے درآمدات کے لیے پاکستان کے ای فارم طریقہ کار پر عمل درآمد میں تبدیلیوں کے باعث ایسی صورت حال پیدا ہو گئی ہے کہ تاجر عملاً ایران سے پاکستان کے لیے سامان روانہ کرنے سے قاصر ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ مشاورت جاری ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو کا واٹس ایپ گروپ یہاں جوائن کریں

پاکستان نے 17 اکتوبر کو بند کی جانے والی ایران کے ساتھ گبد رمدان سرحدی گزرگاہ ہفتے کو دوبارہ کھول دی، جس سے دوطرفہ تجارت بحال ہو گئی اور ایل پی جی اور اشیائے خورونوش کی ضروری کھیپ لے جانے والے پھنسے ہوئے ٹرکوں کو نقل و حرکت کی اجازت مل گئی۔

گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر میر نوید جان کلمتی نے ہفتے کی صبح تجارتی سرگرمیاں بحال ہونے کی تصدیق کی۔

پاکستان نے اکتوبر کے وسط میں تفتان اور گبد رمدان کی سرحدی گزرگاہوں کو ’سرحدی انتظامات میں بہتری اور بعض قانونی و تکنیکی معاملات کے پیش نظر‘ بتا کر بند کر دیا تھا۔

چاغی کے ڈپٹی کمشنر بختیار اسماعیل بلوچ نے اس وقت ایکس پر جاری بیان میں سرحدی گزرگاہوں کی بندش کو عارضی قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس اقدام کا مقصد انسداد دہشت گردی کی کوششوں میں مدد دینا ہے اور مؤثر انتظامات نافذ ہونے کے بعد سرحد دوبارہ کھول دی جائے گی۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

ایرانی سفیر کے مطابق ایل پی جی لے جانے والے کئی سو ٹرک رمدان سرحد عبور کرکے پاکستان کی جانب گبد پہنچ چکے ہیں، تاہم کئی ہفتے گزرنے کے باوجود ان ٹرکوں سے سامان اتارا نہیں جا سکا اور نہ ہی انہیں کلیئرنس مل سکی ہے۔

انہوں نے کہ اس صورت حال سے اشیا کی نقل و حرکت اور دوطرفہ تجارت کی روانی مزید متاثر ہو رہی ہے۔

رضا امیری مقدم کا کہنا تھا کہ ایران نے پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو آسان بنانے اور فروغ دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے۔

’ہم موجودہ مسائل پر قابو پانے، اشیا کی نقل و حرکت میں سہولت پیدا کرنے اور اپنے دونوں برادر ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے پاکستانی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے اپنی کوششیں جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہیں۔‘

پاکستان اور ایران کے درمیان سالانہ تجارتی حجم دو ارب ڈالر سے زائد ہے جبکہ تفتان اور گبد رمدان کی سرحدی گزرگاہیں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سامان کی نقل و حرکت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

زیادہ پڑھی جانے والی ایشیا