اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو اور ان کے حریف گادی آئزنکوٹ نے بدھ کو حکومت بنانے کے عزم کا اظہار کیا ہے تاہم سات اکتوبر 2023 کے بعد ہونے والے پہلے انتخابات میں دونوں رہنماؤں میں سے کوئی بھی واضح اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔
منگل کو ہونے والے انتخابات میں ووٹرز نے گذشتہ کئی دہائیوں کے مقابلے میں بڑی تعداد میں شرکت کی اور نتن یاہو کی متنازع حکمرانی کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کیا۔
نتن یاہو اسرائیل کے سب سے طویل عرصے تک وزیر اعظم رہنے والے رہنما ہیں، جنہوں نے ملک کو واضح طور پر دائیں بازو کی سیاست کی طرف دھکیلا اور غزہ کی مکمل تباہی کے ساتھ متعدد جنگیں شروع کیں۔
انتخابی مراکز سے باہر ووٹرز کی رائے پر مبنی جائزوں یعنی ایگزٹ پولز کے مطابق سابق فوجی سربراہ اور سیاست میں نئے آنے والے گادی آئزنکوٹ اور ان کے اپوزیشن اتحاد کے مقابلے میں نتن یاہو کے سخت گیر دائیں بازو کے اتحاد کی پوزیشن تقریباً برابر رہی۔
دونوں اتحاد پارلیمان میں حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت سے خاصے پیچھے دکھائی دیے۔
انتخابات میں سب سے زیادہ فائدہ عرب اسرائیلی جماعتوں کو ہوا، جن کے ووٹرز نے نتن یاہو کی مخالفت میں بڑی تعداد میں ووٹ ڈالے۔
نتن یاہو مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ عرب اقلیت کی سیاسی طاقت میں اضافہ اسرائیل کی یہودی قوم پرستانہ سمت کو کمزور کر سکتا ہے۔
بدھ کو علی الصبح تین بجے کے بعد مقبوضہ بیت المقدس کے ایک کنونشن سینٹر میں اپنے حامیوں کی پرجوش نعروں کے درمیان خطاب کرتے ہوئے نتن یاہو نے ’دائیں بازو کی ایک مضبوط حکومت‘ بنانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ ’یہودی اور صہیونی اکثریت کو متحد ہونا چاہیے۔‘
77 سالہ نتن یاہو نے معمول کے برعکس مختصر خطاب کیا اور براہ راست اپنی کامیابی کا دعویٰ نہیں کیا۔
اس کے بجائے انہوں نے ان رہنماؤں کا ذکر کیا جنہیں اسرائیل نے ان کے احکامات پر قتل کیا، جبکہ ایک بار پھر ایران کے خلاف امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کر تیسری مرتبہ بمباری کی مہم شروع کرنے کے امکان کا اشارہ دیا۔ ٹرمپ نتن یاہو کے قریبی اتحادی ہیں۔
نتن یاہو نے کہا: ’اسرائیل کے پاس اپنے شراکت دار صدر ٹرمپ کے ساتھ مل کر ایران کے وجودی خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا ایک منفرد موقع ہے۔‘
دوسری جانب آئزنکوٹ نے تل ابیب میں اپنے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے نتن یاہو کو بالواسطہ خبردار کیا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ نتن یاہو جنگ کو جواز بنا کر قومی اتحاد کی حکومت بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
آئزنکوٹ نے کہا: ’نتن یاہو، اپنی سیاسی ضروریات کے لیے اسرائیل کی سلامتی کو استعمال کرنے کی جرات نہ کرنا۔‘
اسرائیل کے سکیورٹی اداروں سے مخاطب ہوتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان اداروں کے اہلکار ریاست کے لیے خدمات انجام دیتے ہیں، نتن یاہو کے لیے نہیں۔ انہوں نے نتن یاہو کو ’ایک نگران وزیر اعظم قرار دیا جس کے پاس نہ عوامی مینڈیٹ ہے اور نہ ہی عوام کا اعتماد۔‘
آئزنکوٹ کے سکیورٹی سے متعلق متعدد خیالات نتن یاہو سے ملتے جلتے ہیں اور وہ سات اکتوبر کے حملے کے بعد غزہ میں شروع کی گئی اسرائیلی فوجی کارروائی کی حمایت کر چکے ہیں، جس نے علاقے کے بڑے حصے کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیا ہے۔
تاہم آئزنکوٹ نے اسرائیل کے اندر زیادہ جامع سیاسی ماحول پیدا کرنے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں انتہا پسند یہودی آبادکاروں کو قابو کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
ان آبادکاروں پر فلسطینیوں کے خلاف حملوں کے الزامات ہیں اور انہیں اکثر ان کارروائیوں پر سزا سے بچ نکلنے کا موقع ملتا رہا ہے۔
اسرائیل میں منگل کو تقریباً 78 فیصد ووٹرز نے انتخابات میں حصہ لیا، جو 1999 کے بعد سب سے زیادہ شرح ہے۔ آئزنکوٹ نے کہا کہ دوبارہ انتخابات کرانا غلطی ہوگی اور انہوں نے تیزی سے حکومت بنانے کے لیے کام کرنے کا عزم ظاہر کیا۔
انہوں نے کہا: ’عوام نے تبدیلی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ ایک باوقار رہنما عوام کی جانب سے عدم اعتماد کے اظہار کو قبول کرے گا اور آج ہی سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دے گا۔‘
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
اسرائیل کے تین بڑے ٹیلی ویژن نیٹ ورکس کے ایگزٹ پولز کے مطابق دونوں بڑے سیاسی اتحاد تقریباً 51، 51 نشستیں حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ تعداد حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کم ہے۔ ابتدائی اندازوں میں اپوزیشن اتحاد کو معمولی برتری دی گئی تھی۔
عرب جماعتوں کی نشستوں میں اضافہ
عرب اسرائیلی جماعتوں کو 17 سے 18 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا، جو نمایاں اضافہ ہے۔
بعض عرب اسرائیلی آبادیوں میں ووٹنگ کی شرح تقریباً 100 فیصد رہی۔ اس کی ایک وجہ نتن یاہو کے انتہائی دائیں بازو کے اتحادیوں کی جانب سے عرب شہریوں کے بارے میں توہین آمیز بیانات پر پائی جانے والی ناراضی بتائی گئی ہے۔
عرب اسرائیلی رہنما منصور عباس نے کہا کہ ان کے خیال میں دائیں بازو کو ’بڑا نقصان‘ اٹھانا پڑا ہے اور وہ آئزنکوٹ کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
تاہم انتخابی مہم کے دوران آئزنکوٹ کہہ چکے ہیں کہ وہ عرب اسرائیلی قانون سازوں کے ساتھ مل کر حکومت نہیں بنائیں گے۔
نتن یاہو نے بھی ایک بار پھر اشارہ دیا کہ عرب ووٹوں پر انحصار کرنے والی حکومت کو قانونی اور سیاسی جواز حاصل نہیں ہوگا۔
عرب قانون ساز حکومتی اتحاد میں شامل ہوئے بغیر پارلیمان میں ووٹنگ کے دوران آئزنکوٹ کی حمایت کر سکتے ہیں، جس سے وہ اقلیتی حکومت برقرار رکھ سکیں گے۔ ایسا نہ ہونے کی صورت میں اسرائیل میں دوبارہ انتخابات ہو سکتے ہیں۔