پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے بدھ کو انگور اڈہ کے سرحدی علاقے میں فائرنگ سے متعلق افغانستان کی وزارت دفاع کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’من گھڑت جھوٹ‘ قرار دیا۔
خیبرپختونخوا حکام کے مطابق افغان سکیورٹی فورسز نے منگل کو جنوبی وزیرستان لوئر کے سرحدی علاقے میں ’پاکستان فوج کی سرحدی چوکیوں اور رہائشی علاقوں پر بلااشتعال فائرنگ‘ کا نشانہ بنایا۔
اس حملے میں ایک مقامی شخص کی موت ہوئی اور پانچ افراد زخمی ہوئے۔
بعد ازاں، افغان وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی فوج نے ’بغیر کسی اشتعال یا جواز کے‘ صوبہ پکتیکا میں انگور اڈہ بازار اور کمشنر آفس کو نشانہ بناتے ہوئے ڈرون حملے کیے۔
اس نے دعویٰ کیا کہ افغان فورسز نے ’قریبی پاکستانی فوجی اڈے اور چوکیوں پر جوابی حملے کیے‘۔
— Fact Checker MoIB (@FactCheckerMoIB) October 28, 2026
اس کے جواب میں ایکس پوسٹ میں پاکستانی وزارت اطلاعات و نشریات کے فیکٹ چیکنگ اکاؤنٹ نے کہا کہ ’انگور اڈہ سرحدی واقعے پر افغان طالبان حکومت کا تازہ ترین من گھڑت جھوٹ ایک بار پھر ان کے فریب پر مبنی کردار کی تصدیق کرتا ہے۔‘
وزارت نے کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ ان کی بزدل فورسز نے پاکستانی جانب نہتے شہریوں پر بلااشتعال فائرنگ اور مارٹر گولہ باری شروع کی۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ کارروائیاں ان کے ’پراکسی آقا انڈیا کی طرز اور ہدایات‘ کے مطابق تھیں۔ وزارت نے کہا کہ پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے فوری اور موثر جواب دیا، اور افغان جانب بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا، جس میں سات چوکیوں کی تباہی بھی شامل ہے۔
Afghan Taliban Regime fired unprovoked on civilian houses & Angoor Adda Bazar, South Waziristan (Lower), night of 27 Oct. One civilian killed, five injured by a mortar round, many shops damaged. Pakistan Forces on the border have and are responding effectively and heavily.
— Deputy Commissioner South Waziristan Lower (@dcswlower) October 27, 2026
وزارت کا کہنا تھا کہ ’طالبان حکومت کے نام نہاد سرکاری ترجمانوں کے ایسے جھوٹ کی کوئی حیثیت نہیں اور یہ ان من گھڑت کہانیوں کے سلسلے کا حصہ ہیں جو وہ مسلسل سناتے رہتے ہیں، خاص طور پر اپنے ان لوگوں کو جو ان کی مسلط کردہ اور غیر نمائندہ حکومت کے تحت مشکلات کا شکار ہیں۔‘
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے گورنر فیصل کریم کنڈی نے افغان طالبان کی اس کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’بلااشتعال جارحیت‘ قرار دیا تھا۔
انہوں نے بدھ کو کہا تھا کہ اس کارروائی میں شہریوں کے گھروں اور لوئر جنوبی وزیرستان کے انگور اڈہ بازار کو نشانہ بنایا گیا۔ گورنر نے پاکستانی فوج کے ردعمل کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبے نے ’دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کی قربانیاں‘ دی ہیں۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
فیصل کریم کنڈی نے ایک بیان میں کہا کہ ’پاکستان اپنے عوام پر حملوں یا اپنی خودمختاری کی خلاف ورزیوں کو کبھی برداشت نہیں کرے گا۔‘
پاکستان افغانستان کشیدگی
پاکستانک افغانستان سرحد اکتوبر 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان مسلح جھڑپوں اور سکیورٹی کشیدگی کے بعد بند کر دی گئی تھی۔
رواں سال ستمبر میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان تنازعے کا ایک اور دور دیکھنے میں آیا۔ 21 ستمبر کو، خیبر پختونخوا میں حالیہ بڑے دہشت گرد حملوں کے جواب میں، پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحدی علاقے میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ’نپی تلی‘ فضائی کارروائیاں کیں، جس پر حکومت کا کہنا تھا کہ 28 سے زائد دہشت گرد مارے گئے۔
وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے اس کارروائی کو آپریشن غضب للحق کا حصہ قرار دیا، جو افغان طالبان کی جانب سے بلااشتعال سرحد پار فائرنگ کے جواب میں 26 فروری کی رات شروع کیا گیا تھا۔