دنیا کے ’سب سے آزاد‘ ملک میں صحافت کرنا کیسا ہے؟

سب سے اہم کہ ناروے میں اگر آپ پیشہ ورانہ صحافتی اصولوں کے مطابق اپنا کام کر رہے ہیں تو دماغ کے کسی کونے میں بھی اپنے انجام کا ڈر نہیں آئے گا۔

یہ نارویجن صحافی ہیلا لینگ سوندسن ہیں جنہوں نے حال ہی میں انڈین وزیراعظم نریندر مودی سے دورہ اوسلو کے دوران ایک سوال کیا اور بعد میں انہیں ٹرول کیا جانے لگا (عفت حسن رضوی)

میں نے پاکستانی صحافت میں اپنا کریئر بنانے کے لیے سینکڑوں دیگر صحافیوں کی طرح ابلاغ عامہ کی تعلیم کا راستہ چُنا۔ صحافتی اقدار کو کسی رٹو طوطے کی طرح ازبر کرنے والے ہم جیسے صحافی جب میدان میں آتے ہیں تو صحافت کا کچھ اور ہی رنگ دیکھتے ہیں۔

پیشہ ورانہ صحافت کے وہ ان دیکھے چیلنجز کوئی یونیورسٹی نہیں پڑھا سکتی جن سے ہم صحافی آئے روز نمٹتے ہیں۔ یہ کوئی تکنیکی چیلنج نہیں جو ایک فارمولا سب ہی پہ چل جائے۔ ہر صحافی کو بقدرے جثہ صحافتی چیلنج کا حصہ مل ہی جاتا ہے۔ کسی کو دھمکی آمیز کال ہی کافی لگتی ہے اور کسی کو اٹھا لیا جاتا ہے وہ پھر بھی سچ بولنے سے نہیں چوکتا۔

صحافیوں کے خلاف بے بنیاد مقدمات، انہیں اغوا کیا جانا، اداروں کی جانب سے خبر لگانے یا ہٹانے کے لیے دباؤ ملنا، نوکریاں چھین لیا جانا یہاں تک کے زندگی کے لالے پڑ جانا یہ سب ہی چیلنجز اس لمبی فہرست میں شامل ہیں جن کا سامنا پاکستانی صحافیوں کو ہے۔

یہی وجہ ہے کہ آزادی اظہار و آزادی صحافت کے عالمی انڈیکس میں پاکستان 153 نمبر پہ آتا ہے۔ لیکن آج بات کرتے ہیں اس فہرست میں ٹاپ پہ آنے والے ملک یعنی ناروے  کی۔

میں گذشتہ دو برس سے ناروے میں بطور متحرک صحافی کے کام کر رہی ہوں۔ ناروے کے ایک چھوٹے علاقے کے مقامی نارویجن اخبار میں کام کیا اور اب اوسلو کے ایک اخبار کلار تھالا کے لیے لکھ رہی ہوں۔ ناروے میں صحافت کا تجربہ ہی مختلف ہے۔

سب سے اہم کہ ناروے میں اگر آپ پیشہ ورانہ صحافتی اصولوں کے مطابق اپنا کام کر رہے ہیں تو دماغ کے کسی کونے میں بھی اپنے انجام کا ڈر نہیں آئے گا۔

تازہ مثال نارویجن صحافی ہیلا لینگ سوندسن کی ہے جنہوں نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی سے ان کے دورہ اوسلو کے دوران ایک سوال کیا۔

ہیلا یہاں اوسلو میں میری ساتھی صحافی ہیں۔ اگر آپ ہیلا کے حساب سے سوچیں تو یہ ایک معمول کا سوال تھا اور ناروے میں ہونے والی معمول کی صحافتی اسائنمنٹ تھی۔ لیکن بھلا ہو مودی بھکتوں کا کہ جنہوں نے آن لائن ٹرولنگ کر کے ہیلا لینگ کے سوال کو، اس کی ذات کو دنیا میں مشہور کروا دیا۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

نارویجن صحافت کے اعتبار سے مودی کا جواب نہ دینا اور انڈین ٹرولز کا ردعمل غیر معمولی ہے۔ کیونکہ یہاں عوامی نمائندوں کو میڈیا کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے، اور جوابدہ ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ اپنی میڈیا پہ موجودگی کو باقاعدہ ڈیزائن اور سٹیج کیا جائے۔

یہاں ایسا نہیں ہوتا کہ لیڈر اپنی پسند کی جگہ پہ اپنی مرضی کے صحافیوں کو بٹھا کر انٹرویو دیں اور اسے کافی سمجھ لیا جائے۔ یہاں یہ معمول ہے کہ سوائے گھر میں گھسنے کے ہر عوامی مقام پہ صحافی اپنے عوامی لیڈر، وزیراعظم اور دیگر وزرا سے سوال کر سکتے ہیں۔

ہیلا لینگ کا مودی سے سوال سستی شہرت کے لیے کیا جانے والا کوئی اچھوتا کام ہے نہ ہی خلاف قاعدہ ہے۔ یہ سوال ہیلا لینگ نہ کرتی تو کوئی دوسرا نارویجن صحافی کر لیتا۔

یہ دسمبر 2021 کی بات ہے۔ میں اوسلو میں ہونے والے نوبیل امن انعام کی تقریب کی کوریج کررہی تھی۔ تقریب کے طے شدہ پروگرام میں کہیں نہیں لکھا تھا کہ نارویجن وزیراعظم یونس گہار سٹورا میڈیا سے بات کریں گے۔ لیکن ہال کے باہر سڑک پہ صحافی مائیک اور کیمرہ لگائے کھڑے تھے۔

کسی نے گھیرا ڈالا نہ کسی صحافی کو دھکم پیل کی ضرورت پڑی۔ میڈیا نے متوجہ کیا تو نارویجن وزیراعظم خود چل کر صحافیوں کے پاس آئے۔ ایک کے بعد ایک سب نے باری باری اپنے سوال پوچھے۔ میں نے بھی اپنا سوال پوچھا اسے موبائل پہ ریکارڈ کیا۔

یہ نارویجن صحافتی کلچر کے اعتبار سے کوئی ایسا عظیم لمحہ نہیں تھا کہ وزیراعظم نے جیسے کوئی احسان کیا ہو۔ نہ ہی  یہاں کوئی ایسی سرخی بنتی ہے کہ وزیر اعظم پروٹوکول کی پرواہ کیے بغیر عوام میں گھل مل گئے۔  

ظاہر ہے عوامی نمائندہ عوام سے نہیں ملے گا تو کس سے ملے گا؟

یہاں کوئی سٹار رپورٹر نہیں۔ کسی صحافی کو سیون سٹار سینیئر صحافی کہلانے کا خبط نہیں۔ بڑے سے بڑے، پرانے اور سینیئر ترین صحافی بھی اپنے نام کے ساتھ  صرف صحافی لکھتے ہیں۔ چند ایک ٹی وی اینکرز کے کرنٹ افئیرز کے  پروگرام مشہور ضرور ہیں لیکن ایسا نہیں کہ وہ کوئی بڑی سیلیبرٹی بن گئے۔

ایسا بھی نہیں کہ وزیراعظم یا ملک کی اہم شخصیات تک پہنچ صرف اور صرف بڑے بڑے نام والے صحافیوں کی ہے۔

میری ایک خبر میں ایک جرم کے دوران عینی شاہد کا بیان شامل تھا جسے میں نے ذرائع سے ملنے والی خبر کے طور پہ رپورٹ کیا۔ نارویجن پولیس کو عدالت میں اس عینی شاہد کی تصدیق کی ضرورت پڑ گئی۔

پولیس نے پہلے مجھ سے رابطہ کیا، میں نے عینی شاہد سے رابطہ کیا۔ عینی شاہد خاتون ناروے میں یوکرینی مہاجر ہے جس نے اپنی سہولت نہ ہونے کے باعث پولیس سے رابطہ کرنے سے انکار کیا بلکہ اپنا نام بھی پولیس کو بتانے سے انکار کیا۔

میں نے پوری تفصیل پولیس کو لکھ بھیجی، جواب میں تفتیشی افسر کے شکریہ کی ای میل آئی اور معاملہ وہیں ختم ہوگیا۔

کیا میں بطور صحافی یا وہ خاتون بطور گمنام عینی شاہد ایسے تحفظ کا پاکستان میں سوچ بھی سکتے ہیں؟

اس کا جواب بڑے شہروں کی سڑکوں پہ مہنگی گاڑیوں میں گھومنے والے پاکستان کے سیون سٹار صحافی نہیں چھوٹے شہروں اور اضلاع میں رپورٹنگ کرنے والے گمنام صحافیوں سے ہے۔

نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید پڑھیے

زیادہ پڑھی جانے والی نقطۂ نظر