امریکی امیگریشن حکام نے ایوارڈ یافتہ کشمیر فلم ساز عرفات شیخ کو حراست میں لے لیا۔ یہ بات ان کے ان کے اہل خانہ اور دوستوں نے بدھ کو بتائی ہے۔
عرفات شیخ نے قانونی طور پر تعلیم حاصل کرنے کے لیے امریکہ آنے کے بعد سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی۔ ان کے کام کام میں ان کے آبائی علاقے کشمیر کے تنازعے کو اجاگر کیا گیا۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سکیورٹی نے بدھ کو علیحدہ طور پر اس بات کی تصدیق کی کہ عرفات شیخ کو 24 ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا۔ محکمے نے کہا کہ شیخ عرفات ’عارضی بنیادوں پر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہوئے اور اپنے قانونی داخلے کے بعد قیام کی مدت سے تجاوز کرتے ہوئے غیر قانونی طور پر مقیم رہے۔‘
ڈی ایچ ایس نے کہا کہ زیر التوا درخواست امریکہ میں قانونی حیثیت فراہم نہیں کرتی، اور مزید کہا کہ ان کے معاملے میں تمام قانونی تقاضے پورے کیے جائیں گے۔
عرفات شیخ کی رہائی کے لیے مہم چلانے والے رشتہ داروں اور دوستوں کے ایک بیان کے مطابق، کیلی فورنیا سے واشنگٹن ڈلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر طیارے سے اترتے وقت شیخ کو ڈی ایچ ایس کے ماتحت ادارے امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ نے حراست میں لے لیا۔
بیان کے مطابق ورجینیا کے شہر الیگزینڈریا میں رہائش پذیر عرفات شیخ، جارجیا سٹیٹ یونیورسٹی سے فلم میں گریجویٹ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے 2019 میں سٹوڈنٹ ویزے پر امریکہ آئے تھے اور 2020 میں انہوں نے سیاسی پناہ کی درخواست دی تھی۔
اس میں ان کی سیاسی پناہ کے دعوے کی وجوہات بیان نہیں کی گئی تھیں۔ بیان میں کہا گیا کہ ان کی امیگریشن کی درخواست زیر التوا تھی اور انہیں امریکہ میں کام کرنے اور رہنے کی اجازت تھی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اگست میں کہا تھا کہ وہ ’ایسے غیر ملکیوں کے نان امیگرنٹ ویزوں کی نشاندہی کر کے انہیں منسوخ کرنے کے لیے کام کر رہی ہے جو مختصر مدت کے وزیٹر ہونے کا دعویٰ کر کے امریکہ آئے، لیکن پھر یہاں مستقل طور پر رہنے کے لیے سیاسی پناہ کی درخواست دے دیتے ہیں۔‘
ٹرمپ نے تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن اور ملک بدری کی مہم چلائی ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ملکی سکیورٹی کو بہتر بنانا ہے۔ حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ اس کریک ڈاؤن سے قانونی تقاضوں اور آزادی اظہار کے حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور اس نے بالخصوص نسلی اقلیتوں کے لیے غیر محفوظ ماحول پیدا کر دیا ہے، جنہوں نے نسلی پروفائلنگ کے بارے میں تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
شیخ کی پہلی فیچر فلم، 2024 کی’سیفرون کنگ ڈم‘ نے شکاگو فلم میکرز ایوارڈز، ایل اے فلم اینڈ ڈاکیومنٹری ایوارڈز، میلبرن انڈپینڈنٹ فلم فیسٹیول اور ویک فارسٹ فلم فیسٹیول میں بہترین فیچر فلم کا ایوارڈ جیتا۔ انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والے شیخ نے ٹینیک انٹرنیشنل فلم فیسٹیول میں ایمرجنگ فلم میکر ایکٹیوسٹ ایوارڈ جیتا۔
اس فلم میں 1990 کی دہائی میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے شہر سری نگر سے 2019 میں اٹلانٹا تک ایک خاندان کے سفر کے ذریعے کشمیر کے تنازعے کا جائزہ لیا گیا ہے۔
مسلم اکثریتی کشمیر پر ہندو اکثریتی انڈیا اور اسلامی پاکستان دونوں مکمل دعویٰ کرتے ہیں، جن میں سے ہر ایک کے کنٹرول میں اس کا صرف کچھ حصہ ہے اور وہ اس پر جنگیں لڑ چکے ہیں۔ انڈیا نے اگست 2019 میں کشمیر کی آئینی خود مختاری ختم کر دی تھی۔