آج 82 سالہ حاجی ایوب جب اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھتے ہیں تو انہیں وہ دن یاد آ جاتے ہیں، جب وہ محض 20 سال کے نوجوان تھے اور پاکستان میں غلافِ کعبہ کی تیاری کے تاریخی منصوبے کا حصہ بنے تھے۔
یہی نوجوان کاریگر دو دہائیوں بعد سعودی عرب پہنچا، جہاں اسے نہ صرف خانہ کعبہ کے اندرونی غلاف کی تیاری میں حصہ لینے کا موقع ملا بلکہ اپنے ہاتھوں سے اسے نصب کرنے کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔
کراچی کے علاقے بنارس ٹاؤن سے تعلق رکھنے والے حاجی ایوب ان چند بنارسی کاریگروں میں شامل تھے جو تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان ہجرت کر آئے اور اپنے ساتھ صدیوں پرانا بنارسی بُنائی کا فن بھی لے آئے۔
حاجی ایوب کے مطابق 1962 میں غلافِ کعبہ کراچی میں تیار کیا گیا، جن میں ان کے بڑے کاریگروں نے حصہ لیا تھا۔
انہوں نے بتایا: ’اس وقت میری عمر صرف 20 سال تھی۔ غلاف کی تیاری روایتی بنارسی کھڈیوں پر ہوتی تھی اور اس کام میں صرف چند ماہر کاریگر ہی شامل تھے۔‘
ان کے مطابق غلاف کی تیاری میں کوریا سے درآمد کیا گیا اعلیٰ معیار کا ریشم، جسے ’کتان‘ کہا جاتا تھا، استعمال کیا جاتا تھا۔ جدید مشینوں کا دور نہیں تھا، اس لیے پورا ڈیزائن ہاتھ سے بنایا جاتا اور پھر ایک ایک دھاگہ اٹھا کر انتہائی باریک بینی سے بُنائی کی جاتی تھی۔ صرف ایک نمونہ تیار کرنے میں آٹھ ماہ لگے۔
وقت گزرا تو ان کے ہنر نے انہیں مکہ مکرمہ پہنچا دیا۔
حاجی ایوب کے مطابق 1980 میں سعودی حکام نے خانہ کعبہ کے اندرونی غلاف کا نمونہ تیار کرنے کے لیے مختلف کاریگروں کو مدعو کیا، جس کے لیے پاکستان سے بھی بنارسی کاریگروں کو بلایا گیا۔
تقریباً 40 کاریگروں کے درمیان ان کا ڈیزائن منتخب ہوا اور دو سال بعد، 1982 میں انہیں سعودی عرب میں اعلیٰ حکام کی جانب سے کاریگروں کے اعزاز میں دعوت دی گئی۔
مزید پڑھ
اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)
وہ بتاتے ہیں کہ سعودی حکام نے انہیں مالی معاوضے کی پیشکش کی، لیکن انہوں نے ایک مختلف درخواست کی۔
بقول ان کے: ’میں نے کہا کہ مجھے پیسے نہیں چاہییں، اگر ممکن ہو تو مجھے اپنے ہاتھوں سے خانہ کعبہ کے اندر غلاف نصب کرنے کی اجازت دی جائے۔‘
ان کی یہ درخواست منظور کر لی گئی اور وہ دیگر کاریگروں کی ٹیم کے ساتھ خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوئے، جہاں انہوں نے پرانا اندرونی غلاف اتار کر نیا غلاف نصب کیا۔
وہ اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے آج بھی جذباتی ہو جاتے ہیں۔
انہوں نے بتایا: ’اندر داخل ہوتے ہی میں دو دو رکعات نفل ادا کیے۔ اللہ کے جلال کا ایسا منظر تھا کہ اسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ خوشی بھی تھی اور ایک عجیب سی ہیبت بھی۔‘
بنارسی کلاتھ مرچنٹ ایسوسی ایشن کے سربراہ ظفر اللہ انصاری کہتے ہیں کہ غلافِ کعبہ کی تیاری میں استعمال ہونے والا کپڑا عام کپڑا نہیں بلکہ صدیوں پر محیط ایک فنی روایت کا تسلسل ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ بنارسی کپڑے کی اصل پہچان روایتی کھڈی ہے، جہاں ہر ڈیزائن پہلے کاریگر کے ذہن میں بنتا، پھر کاغذ پر نقش کیا جاتا اور آخر میں ایک ایک دھاگے کو ہاتھ سے بُن کر کپڑا تیار کیا جاتا۔
انہوں نے کہا: ’یہ اللہ کی عطا کردہ صلاحیت ہے۔ ڈیزائن پہلے ذہن میں آتا ہے، پھر اسے سکیچ کیا جاتا ہے اور بعد میں کھڈی پر دھاگہ بہ دھاگہ بُنا جاتا ہے۔ یہی ہمارا صدیوں پرانا ہنر ہے۔‘
ظفر اللہ انصاری کے مطابق پہلے کھڈیاں زمین میں گڑھا کھود کر لگائی جاتی تھیں اور کاریگر گھنٹوں بیٹھ کر ہاتھ سے بُنائی کرتے تھے۔ بنائی کے اس عمل میں ’تانا‘ اور ’بانا‘ بنیادی کردار ادا کرتے ہیں، جن کی مدد سے نفیس بنارسی کپڑا تیار کیا جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تقسیمِ ہند کے بعد بنارس سے تعلق رکھنے والے کئی ماہر کاریگر پاکستان آ گئے، جنہوں نے یہاں اس فن کو زندہ رکھا۔ انہی میں حاجی محمد ایوب بھی شامل تھے۔
ظفر اللہ انصاری کہتے ہیں کہ بنارسی بُنائی صرف روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ برصغیر کی ایک ایسی فنی میراث ہے، جس نے مکہ مکرمہ تک اپنی پہچان بنائی۔ ان کے مطابق اس ہنر کو محفوظ رکھنا ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس تاریخی روایت سے واقف رہیں۔