غلاف کعبہ کن مراحل سے گزرنے کے بعد تیار ہوتا ہے؟

غلاف کعبہ کی تیاری میں سعودی فرمانروا شاہ عبدالعزیز نے 1347 ہجری میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی وفات کے بعد ان کے جانشین نے بھی ایسا ہی کیا اور حرمین شریفین کی دیکھ بھال میں تاریخی طور پر عظیم کردار ادا کیا۔

غلاف کعبہ کو 365 روز میں تیار کیا جاتا ہے اور اس دوران اس کا اعلیٰ معیار برقرار رکھنے کے لیے مختلف مراحل سے گزارا جاتا ہے۔

مکہ میں شاہ عبدالعزیز کمپلیکس میں غلاف کعبہ کی تیاری میں بہترین بین الاقوامی ریشم استعمال کیا جاتا ہے اور اس ریشم کی مخصوص معیار کے مطابق جانچ کی جاتی ہے تاکہ غلاف کعبہ کو رگڑ اور مختلف موسمی حالات کے خلاف مزاحمت کے قابل بنایا جا سکے نیز اعلیٰ معیار برقرار رہے۔

غلاف کی بُنت میں ہنرمندی کا ایسا امتزاج پیدا کیا جاتا ہے جو خانہ کعبہ کے ’شایان شان‘ ہو۔

رنگ کرنے کے مرحلے میں خام ریشم کو دھونے کے بعد تیار کیا جاتا ہے اور پانی ریشم کی تاروں کے درمیان سے گزرتا ہے۔

 

ایک مخصوص درجہ حرارت پر ریشم سفید رنگ کی نرم اور چمکدار تاروں میں تبدیل ہو جاتا ہے اس کے بعد کالا رنگ مخصوص برتن میں انڈیلا جاتا ہے۔ اس دوران عمدہ ریشم کے تاروں کو ملا کر فنی نوعیت کے ٹیسٹ کا انتظار کیا جاتا ہے، چند لمحوں بعد ریشم مکمل طور پر سیاہ رنگ اختیار کر لیتا ہے۔

کچھ گھنٹوں بعد ریشم خشک ہو جائے تو اسے یہاں سے نکال لیا جاتا ہے۔ یہ کام تسلسل کے ساتھ جاری رہتا ہے۔

بنائی کے خودکار سیکشن میں ریشم کی تاروں کو دھاگے کی نلکیوں کی شکل دی جاتی ہے جو تیسرا مرحلہ ہوتا ہے۔

اس مرحلے میں ریشم کی تاریں اتنی سخت ہو جاتی ہیں کہ نو تاروں کو ملا کر بڑے سائز کی نلکیاں تیار کی جا سکتی ہیں۔ یہ نلکیاں دو قسم کا کپڑا بنانے میں استعمال ہوتی ہیں۔

پہلی قسم کا کپڑا دس ہزار تاروں پر مشتمل ہوتا ہے۔ اس کپڑے پر قرآنی آیات کی کڑھائی کی جاتی ہے۔ دوسری قسم کے کپڑے میں ایک میٹر کے ٹکڑے پر خدا کے ناموں کو آرائش کے ساتھ تحریر کیا جاتا ہے۔

مزید پڑھ

اس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)

قرآنی آیات سنہرے رنگ اور خط ثلث میں لکھی جاتی ہیں اور آیات کو مخصوص پیمائش کے ساتھ تحریر کیا جاتا ہے۔

اس کے بعد تمام خطاطی شدہ قرآنی الفاظ اور آیات کی چھپائی کے لیے خصوصی میزیں تیار کی جاتی ہیں۔

یہ عمل ان آرائشوں اور تحریروں کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہوتا ہے۔ پائیدار سیاہ رنگ کے کپڑے کو لکڑی کی کھڈی پر پھیلایا جاتا ہے۔ یہ کپڑا مخصوص مقدار میں رنگ کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔

یہ تمام کام اپنے پیشے میں ماہر ہنرمند مخصوص طریقہ کار کے مطابق انجام دیتے ہیں۔

سونے کے پانی والے تاروں کی مدد سے زردی مائل سوتی دھاگوں سے کی گئی کڑھائی کے اندر کشیدہ کاری کی جاتی ہے۔ خالص چاندی کے تار سفید رنگ کی سوتی تاروں کو ڈھانپتے ہیں۔

اس طرح چاندی اور سونے سے ڈھکی انتہائی پرکشش تحریر وجود میں آتی ہے۔

غلاف کعبہ کی تیاری میں سعودی فرمانروا شاہ عبدالعزیز نے 1347 ہجری میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی وفات کے بعد ان کے جانشین نے بھی ایسا ہی کیا اور حرمین شریفین کی دیکھ بھال میں تاریخی طور پر عظیم کردار ادا کیا۔

زیادہ پڑھی جانے والی ملٹی میڈیا